جنوبی ایشیاء کے وہ فوجی جو 200 سال سے برطانوی فوج کا حصہ ہیں اور آج بھی انہیں خطرناک ترین لڑاکوں طور پرجا نا جاتاہے

جنوبی ایشیاء کے وہ فوجی جو 200 سال سے برطانوی فوج کا حصہ ہیں اور آج بھی انہیں ...
جنوبی ایشیاء کے وہ فوجی جو 200 سال سے برطانوی فوج کا حصہ ہیں اور آج بھی انہیں خطرناک ترین لڑاکوں طور پرجا نا جاتاہے

  



کٹھمنڈو (نیوز ڈیسک) انیسویں صدی کے آغاز میں جب نیپالی فوجی دستوں نے برطانیہ کے زیر قبضہ ہندوستانی علاقوں پر حملہ کیا تو برطانیہ نے ان سے لڑنے کے لئے اپنی فوج بھیجی۔ اگرچہ برطانوی فوج کے پاس بہترین اسلحہ تھا لیکن نیپالی فوجیوں نے انہیں بھاگنے پر مجبور کردیا۔ برطانوی حکام نیپالی فوجیوں کی مہارت اور بہادری سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے گورکھا کے علاقے سے تعلق رکھنے والے جنگجوﺅں کو ہندوستانی فوج میں بھرتی ہونے کی پیشکش کردی اور یوں 1815ءمیں پہلی گورکھا رجمنٹ وجود میں آئی، یعنی گورکھا تاج برطانیہ کے وہ فوجی تھے جن کا تعلق نیپالی علاقے گورکھا سے تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانوی فوج کے لئے لڑتے ہوئے جاپانیوں کو شکست دینے والے گورکھا فوجیوں کی داستانیں مشہور ہیں اوریہ برطانیہ کے ہندوستان سے نکل جانے کے بعد تاج برطانیہ کے ملازم رہے اور پنشن پاتے رہے، یہاں تک کہ آج بھی برطانیہ کے گورکھا فوجی جنوبی ایشیاءمیں تعینات ہیں۔

حال ہی میں شائع ہونے والی ایک نئی کتاب The Gurkhas: 200 Years Of Service To The Crown میں گورکھا فوجیوں کی 200سالہ تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ گورکھا بے خوفی اور بہادری میں کوئی ثانی نہیں رکھتے اور ان کی ٹیڑھی تلواروں کے سامنے بڑی بڑی فوجیں ڈھیر ہوتی رہی ہیں۔ نیپال میں آج بھی برطانوی حکومت کے ملازم گورکھا دستے موجود ہیں جو بوقت ضرورت نیپال سے باہر لڑنے کے لئے بھی جاتے ہیں۔ برطانوی شہزادے ہیری نے 2007ءاور 2008ءکے دوران افغانستان میں گورکھا فوجیوں کے ساتھ وقت گزارا اور ان کا کہنا تھا کہ گورکھا کی معیت سے محفوظ جگہ کوئی نہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے خلاف غیر معمولی بہادری سے لڑنے والے گورکھا فوجی لچھیمان کو برطانیہ کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز وکٹوریہ کراس بھی دیا جاچکا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...