دوہرا معیار

دوہرا معیار
دوہرا معیار

  



جس معاشرے یا ادارے میں انصاف نہ ہو،وہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔ پہلی قوموں کی تباہی کی ایک وجہ کمزور کو سزا اور طاقت ور کو معاف کر دینا بھی تھی۔ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ کفر کا معاشرہ قائم رہ سکتا ہے، مگر ظلم پر مبنی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ دانا انسان اقتدار پر بیٹھنے اور اختیار کے قلم کو امانتِ خداوندی اور آزمائش سمجھتا ہے اور تکبر و غرور میں مبتلا ہونے اور نشہ ء اقتدار میں مست ہونے کی بجائے عاجزی و انکسار کے ساتھ مخلوقِ خدا (اشرف المخلوقات ) کی خدمت میں مصروف ہو جاتا ہے اور بھول کر بھی خود کو حاکم نہیں سمجھتا، بلکہ عوام کا خادم بن کر اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں دونوں طرح کے حکمرانوں کی داستانوں کے بارے میں لکھا ہوا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بعض حکمران بطور عبرت تاریخ میں زندہ ہیں جو کہ انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ ہیں اور کچھ نیک اور خوفِ خدا رکھنے والے عادل حکمرانوں کے نام تاریخ کی کتابوں میں جگمگا رہے ہیں اور جن کی روشنی سے آج کا انسان بھی رہنمائی حاصل کرکے اپنی تاریک راہوں کو روشن کررہا ہے۔

بظاہر تو دونوں طبقات کے حکمران انسان ہی تھے، مگر وہ حکمران جو اقتدار کی طاقت میسر آنے کے بعد اللہ کے باغی بن گئے اور مخلوقِِ خدا پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھانے لگے اور وحشت کا کھیل کھیلنے لگے، ان کو اپنی طاقت کا خمار تھا، وہ یہ سمجھنے کی غلطی کر بیٹھے کہ اب تخت و اقتدار کی بہار ہمیشہ ان کے دربار کی باندی بنی رہے گی اور بندگانِ خدا ان کے آگے ہاتھ باندھے اور سر جھکائے کھڑے رہیں گے۔ اور ان کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ قانون بنتا رہے گا اور اس کی انگلی کے اشارے پر کسی انسان کی زندگی اور موت کا فیصلہ ہوتا رہے گا۔ فرعون نے نشہ اقتدار میں مدہوش ہو کر بچوں کو قتل کرنے کا ظالمانہ حکم دیا تھا اور پھر ان کے حکم پر ہزاروں بچے بلا وجہ موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے،مگر تاریخ گواہ ہے کہ یہ سارے حربے کسی بھی حکمران کا اقتدار نہ بچا سکے اور بالآخر ذلت و رسوائی ان کا مقدر بنی۔

آج بھی اقتدار کے ایوانوں میں وہی رویئے اختیار کئے جا رہے ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ابھی تک انکوائریاں ہو رہی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے آج کے حکمرانوں کا ذہن بھی صدیوں پرانے زمانے کے بادشاہوں والا ہے، یعنی طاقت کے بل بوتے پر اور دھونس دھاندلی کے ذریعے اپنی حکومت اور اقتدار کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اور جو نہ مانے ان کو راستے سے ہٹا دیتے ہیں، کمزوروں اور بے گناہوں پر فوراً قانون کا اطلاق ہو جاتا ہے اور طاقت ور کو کوئی پوچھنے والا نہیں ،نہ کوئی پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہے۔ یہاں دوہرے معیار چل رہے ہیں اور قانون کو صرف کمزور لوگ نظر آتے ہیں۔ مولانا جلال الدین رومیؒ نے کہا تھا کہ ایک ہزار قابل انسان مر جانے سے اتنا نقصان نہیں ہوتا، جتنا ایک احمق کو اقتدار حاصل ہونے سے ہوتا ہے۔ آج پاکستان کی تباہی اور کمزوری بھی احمق حکمرانوں کی وجہ سے ہو رہی ہے اور یہ سلسلہ کئی عشروں سے چل رہا ہے۔پاکستان کے بعد آزاد ہونے والے ممالک ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہیں۔ ہم قرضے لے کر زندہ رہنے والوں میں شامل ہیں۔ چند روز پہلے خبر آئی تھی کہ امریکہ سعودی عرب کو بہت خطرناک میزائل اور اسلحہ فروخت کرے گا تاکہ سعودی عرب حوثی باغیوں کا مقابلہ کر سکے اور سعودی عرب کی سلامتی کو کوئی نقصان نہ پہنچائے حالانکہ شام اور عراق کے بعد اسلام دشمنوں کی بھڑکائی ہوئی آگ نے یمن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اسلام دشمن عالمی طاقتوں کی جانب سے جنگ کی اس آگ کو بھڑکانے کا مقصد ایک طرف مسلمانوں کی نسل کشی ہے تو دوسری جانب اپنے ہتھیاروں کی فروخت۔

ضد اور اقتدار کی جنگ میں نقصان مسلمانوں کا ہو رہا ہے مارنے والے بھی مسلمان اور مرنے والے بھی کلمہ گو۔ امریکہ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے حمایت و مخالفت کا اعلان درحقیقت مسلم ممالک کو بری طرح پھنسا کر ان کو تباہ کرنا ہے تاکہ سامراج کے خلاف مسلمان کچھ بھی کرنے کے قابل نہ رہیں۔ نسل کشی سے ان کی طاقت ختم کر دی جائے۔ امریکہ کے خصوصی مشیر کا کہنا کہ خلیجی ممالک کو خطرہ ہوا تو امریکہ موثر اقدامات کرے گا۔ امریکی مشیر کے موثر اقدامات کا مقصد اسلحہ فروخت کرنے کے سوا کیا ہو سکتا ہے جو بھی ملک اسلحہ کی بڑی بڑی فیکٹریاں چلا رہے ہیں اگر ان کا اسلحہ فروخت نہ ہوگا تو ان ملکوں کے فیکٹری مالکان حکومت کے خلاف ہو جائیں گے ان کا سرمایہ ضائع ہو جائے گا اس لئے امریکہ اور دوسرے اسلحہ بنانے والے ممالک دنیا میں جنگ جاری رکھنے کے خواہش مند ہیں امریکہ نے خطے میں اسلحے کی سپلائی بڑھا دی ہے اور ایران کے متنازع ایٹمی پروگرام کے حوالے سے اس موقع پر معاہدہ ہونا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد ایران پر پابندی ہٹا کر اس کو کھل کھیلنے کا موقع فراہم کرنا ہے بات پھر وہی ہے کہ مرنے والے بھی مسلمان اور مارنے والے بھی مسلمان! مگر سامراج کی چال سمجھنے کے لئے کوئی مسلمان ملک تیار نہیں۔ ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے مسلمانوں کی دولت اور ترقی کے تمام منصوبے تباہی کی نذر ہو رہے ہیں ۔ سامراج اپنی چالیں اس قدر صفائی سے چل رہا ہے کہ کسی کو سمجھ نہیں آ رہی اسلامی ممالک کی قیادت کے گرد جمع سامراجی مہرے معاملات کو سدھارنے کی طرف جانے نہیں دیتے۔ تمام سامراجی طاقتیں اندر کھاتے ایک ہیں صرف مسلمانوں کی طاقت کو ختم کرنے کے لئے کچھ اُدھر اور اِدھر ہو جاتی ہیں لیکن مسلمانوں کے درمیان صلح نہیں ہونے دیتیں۔

مزید : کالم