جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کا انتظار

جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کا انتظار
جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کا انتظار

  



کیا 2015ء انتخابات کا سال ہو گا؟ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے،تاہم عمران خان نے اپنے بیانات کے ذریعے اور جلسوں میں اپنے خطاب کے دوران یہ کہنا شروع کر رکھا ہے کہ 2015ء میں عام انتخابات ہوں گے، واضح رہے کہ موجودہ حکومت کی پانچ سالہ آئینی مدت 2018ء میں پوری ہو گی، کوئی غیر یقینی صورت حال ہی قبل از وقت انتخابات کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ ’’صورتِ حال‘‘ کیا ہو سکتی ہے، اس پر کئی بار اظہار خیال کیا جا چکا ہے۔ آئینی ماہرین، تجزیہ کار اور ناقدین بھی اس بات کا بار بار اعادہ کر چکے ہیں کہ کسی کے مطالبے یا خواہش پر وقت سے پہلے انتخابات کا انعقاد نہیں کیا جا سکتا ، لیکن اگر برسراقتدار جماعت کے سربراہ وزیراعظم نواز شریف صدرِ مملکت کو خود اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس کردیں تو ایسی صورت میں نئے انتخابات ہو سکتے ہیں، ورنہ کوئی اور صورت نہیں۔

عمران خان صرف چند حلقوں میں مبینہ انتخابی دھاندلی کی بنیاد پر انتخابات کے اپنے مطالبے کو بار بار دہرا رہے ہیں ۔ شاید ایسا کر کے وہ حکومت اور اس جوڈیشل کمیشن پر اپنا دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں جو مبینہ انتخابی دھاندلی 2013ء کی تحریک انصاف کے الزامات پر اعلیٰ سطحی انکوائری کر رہا ہے۔ ابھی تک اس کمیشن کے روبرو تحریک انصاف اپنے الزامات کے حوالے سے کوئی ایسے ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکی جن کا اظہار وہ مختلف جلسوں اور ڈی چوک میں اپنے کنٹینر پر 126دن کرتی رہی ہے۔ کوئی بھی کمیشن یا عدالت صرف ثبوتوں کی بنیاد پر ہی کوئی فیصلے دے سکتا ہے، لیکن ابھی تک کمیشن میں تمام معاملہ ہی مفروضوں کی بنیاد پر چل رہا ہے اور مشکل نظر آتا ہے کہ جوڈیشل کمیشن ان حالات میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکے، لیکن اگر فیصلہ یہ آتا ہے کہ اُن چند مخصوص حلقوں میں، جن کا معاملہ لے کر تحریک انصاف جوڈیشل کمیشن میں پہنچی ہوئی ہے۔ واقعی کوئی’’دھاندلی‘‘ ہوئی ہے اور اس کا ذمہ دار کامیاب امیدوار کو نہیں ٹھہرایا جاتا ،جبکہ اس کا سبب انتخابی عملے اور ریٹرننگ افسران کی نااہلی، کوتاہی یا بے ضابطگی کو قرار دیا جاتا ہے تو 2013ء کے پورے الیکشن کو کس طرح کالعدم قرار دیا جا سکے گا؟

سیاسی عمائدین اور ملک کے 18کروڑ عوام کی نظریں اب جوڈیشل کمیشن کے فیصلے پر لگی ہوئی ہیں۔ اگرچہ اس کمیشن نے 45روز کے اندر اپنا فیصلہ سنانا تھا، لیکن کمیشن میں اپنی اپنی شکایات لے کر جانے والی سیاسی جماعتوں کی سست روی کی وجہ سے کمیشن کو اپنی مدت میں اضافہ کرنا پڑا ہے۔ ابھی تک جو شہادتیں پیش ہوئی ہیں اور گواہان پر جرح کے جو مراحل طے پائے ہیں، اُس سے اب تک یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ 2013ء کے انتخابات میں کسی منظم دھاندلی کا ارتکاب ہوا ہے۔ ویسے بھی یہ انتخابات نگران سیٹ اپ نے مکمل کرائے۔ جو نگران سیٹ اپ آیا اس میں مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی ہی نہیں، تحریک انصاف اور دوسری سیاسی جماعتوں کی رضا مندی بھی شامل تھی۔

ہمارے ہاں یہ روایت رہی ہے کہ جو ہار جاتا ہے، وہ دوسرے پر دھاندلی کے الزامات لگاتا ہے، لیکن الزام یا الزامات لگانے سے کچھ نہیں ہوتا، کسی بھی فورم پر اسے ثابت بھی کرنا ہوتا ہے۔ اُس کا پہلا فورم الیکشن کمیشن یا الیکشن ٹریبونل ہے۔ الزامات کو ثابت کرنے کا یہی پہلا آئینی فورم ہے، لیکن دلچسپ بات ہے کہ جو جماعتیں مبینہ انتخابی دھاندلی کا سب سے زیادہ شور مچا رہی ہیں، انہوں نے اس آئینی فورم کو استعمال نہیں کیا۔ اگر کیا بھی تو بہت کم ہارنے والے امیدوار اس فورم تک پہنچے۔انتخابات کی جانچ پڑتال یا اُس کے نتائج کو صحیح یا غلط جاننے کے لئے پہلی بار اس قسم کے جوڈیشل کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ،جس کے لئے حکومت کو صدارتی آرڈیننس جاری کرنا پڑا۔ اس کے بغیر کمیشن کا قیام ناممکن تھا اور یہ سب کچھ حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کی تحریک اور دھرنا سیاست کے بعد شدید دباؤ میں آ کر کیا۔

اس کمیشن پر اب سب سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے اور سب نے ہی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ یہ جوڈیشل کمیشن جو بھی فیصلے دے گا، وہ اسے من و عن تسلیم کریں گے۔ حکومت ہو یا پاکستان تحریک انصاف، شاید کوئی بھی اس سے روگردانی نہ کر سکے۔ اس لئے یہ جوڈیشل کمیشن بڑی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ بس انتظار ہے تو اس بات کا کہ اس کا فیصلہ کب آتا ہے اور فیصلہ کیا ہو گا؟ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور دیگر قائدین پُریقین ہیں کہ وہ مبینہ انتخابی دھاندلی کا کیس جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور یہ ثابت ہو جائے گا کہ 2013ء کے الیکشن میں منظم دھاندلی ہوئی اور اس دھاندلی کے نتیجے میں مسلم لیگ(ن)کی حکومت وجود میں آئی، جبکہ مسلم لیگ(ن)بھی پُریقین ہے کہ پی ٹی آئی اپنے الزامات کو کمیشن میں ثابت نہیں کر پائے گی اور فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نہیں ہو گا۔

مزید : کالم


loading...