پاکستان میں ’’را‘‘ کی بڑھتی ہوئی مداخلت

پاکستان میں ’’را‘‘ کی بڑھتی ہوئی مداخلت
پاکستان میں ’’را‘‘ کی بڑھتی ہوئی مداخلت

  



یہ بڑی ستم ظریفی ہے کہ ہم بھارت کے ساتھ اچھے ہمسایوں کی طرح رہنے کے خواہش مند ہیں تاکہ باہمی رابطوں اور تجارتی تعلقات کو فروغ دے کر سرحد کے دونوں اطراف رہنے والے عوام کے حالات میں تبدیلی کی راہ ہموار ہو سکے، لیکن ہمارا یہ پڑوسی مسلسل ہمیں جھکانے، مختلف معاملات میں شکست دینے اور پاکستان کو ایک ناکام ریاست بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اس حوالے سے ملنے والا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتا۔ کراچی کے حالات کی خرابی میں بھارتی ایجنسیوں اور ایجنٹوں کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں اور بلوچستان میں بھی بھارتی گماشتوں کی سرگرمیاں اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، چنانچہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی بڑھتی ہوئی مداخلت پر جس تشویش کا اظہار کیا گیا اور جو سخت نوٹس لیا گیا، وہ بالکل بھی بے جا نہیں۔ اجلاس سے خطاب میں آرمی چیف نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردی سے پاک پاکستان اب ایک قومی عزم ہے، دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی غیر سیاسی، بلا امتیاز اور ملک میں امن کے قیام کے لئے ہے۔ کور کمانڈرز کانفرنس سے اگلے روز عسکری ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان میں بھارتی مداخلت کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں اور یوں شواہد جلد سامنے لائے جائیں گے۔ بھارت بلوچستان میں بغاوت کو ہوا دے رہا، اس لئے کور کمانڈرز کانفرنس میں معاملات زیر بحث لائے گئے۔ اس کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا گیا کہ پاکستان نے سیکرٹری خارجہ کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں ’’را‘‘ کی مداخلت کے ثبوت فراہم کئے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت کے سامنے کئی دفعہ یہ معاملہ اٹھا چکے ہیں اور آئندہ بھی بھارت کو یہ باور کراتے رہیں گے کہ وہ پاکستان میں مداخلت کا سلسلہ بند کرے۔

یہ اچھی بات ہے کہ حکومتی سطح پر بھارت کو پاکستان کے اندر بغاوت کو ہوا دینے اور تخریب کاری بڑھانے کی اس مذموم کوششوں کے بارے میں کئی بار باور کرایا جا چکا ہے، تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ بھارتی قیادت پر پاکستان کے اس واویلے کا کیا اثر ہوا؟ اگر کوئی اثر نہیں ہوا اور دہشت گردی کو فروغ دینے کی بھارتی کارروائیاں جاری ہیں تو ہماری حکومت کیوں خاموش ہو کر بیٹھ گئی؟ حکومت کا فرض محض بھارت کو بلوچستان میں اس کی مداخلت کے بارے میں آگاہ کرنا نہیں بلکہ اگر وہ تنبیہہ سے باز نہیں آتا تو بزور طاقت اس کا ہاتھ روکنا بھی حکومت کی ذمہ داریوں میں ہی شامل ہے، کیونکہ عوام نے مینڈیٹ صرف حکمرانی کرنے کے لئے ہی نہیں دیا بلکہ ملک کے داخلی امن اور سرحدوں کے تحفظ کی ذمہ داری بھی سونپی ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ پہلے بھی اس سے اس سلسلے میں بات کی اور شواہد پیش کئے اور آئندہ بھی پیش کرتے رہیں گے، چاہے اس پر اس واویلے کا کوئی اثر ہی نہ ہو۔ چند سال پہلے مصر کے سیاحتی قصبے شرم الشیخ میں ایک سربراہی کانفرنس کے دوران سابق وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کی اپنے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھارتی وزیر اعظم سے کہا تھا کہ بھارت بلوچستان میں عسکریت پسندوں کو مدد فراہم کر رہا ہے اور پاکستان کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ اس کے جواب میں من موہن سنگھ نے کہا تھا کہ پاکستان ثبوت فراہم کرے، وہ اس پر کارروائی کریں گے۔ سابق حکومت نے بھارتی قیادت کو ثبوت فراہم کئے یا نہیں؟ یہ ایک راز ہے، جس سے کوئی بھی پردہ اٹھانے کو تیار نہیں۔

بھارت اگر سیدھے طریقے سے پاکستان میں مداخلت بند نہیں کر رہا تو دوسرے طریقے بروئے کار لائے جانے چاہئیں، جیسے عالمی سطح پر سفارت کاری، پاکستان میں بھارت کے ایجنٹ کا کردار ادا کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا اور انہیں براہ راست یا بالواسطہ ملنے والی بھارتی کمک، چاہے وہ اسلحہ یا ٹریننگ کی صورت میں ہو یا رقوم کی صورت میں، کا راستہ کانٹا۔ پاکستانی عوام کے لئے یہ بات کسی طور قابل قبول نہیں ہو سکتی کہ بھارتی ایجنسیاں اور ان کے گماشتے ملک بھر میں دندناتے پھریں اور معاشرے کا امن تباہ کرنے کا کوئی موقع ضائع نہ جانے دیں جبکہ ہماری قیادت ان سرگرمیوں کا سد باب کرنے کے بجائے اپنے اقدامات کو محض احتجاج تک محدود رکھے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت اگر پاکستان کے احتجاج پر توجہ نہیں دیتا اور بلوچستان اور فاٹا میں عسکریت پسندوں کی پشت پناہی جاری رکھتا ہے تو اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے اور ضرورت پڑے تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہماری سفارت کاری بھارت کی نسبت کمزور ہے، حالانکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو آج کی جدید دنیا میں ملکوں کی کامیابی یا ناکامی کا باعث بنتا ہے۔

بھارت میں کوئی چھوٹا سا واقعہ بھی رونما ہو جائے تو بھارتی قیادت اور سفارت کار آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ ایسا واویلا کیا جاتا ہے، جیسے پاکستان نے بھارت کو فنا کر دیا ہو۔ دور کیا جانا ممبئی حملوں کی مثال ہی لے لیں، بھارت آٹھ سال پرانے اس ایشو کو اب تک استعمال کر رہا ہے۔ پاکستانی اور بھارتی حکام کی کسی بھی سطح پر ملاقات ہو جائے تو ہمارے پڑوسی یہ باور کرانا نہیں بھولتے کہ پاکستان ممبئی حملوں کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ اس کے برعکس پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ساٹھ ہزار سول و فوجی شہید ہو چکے ہیں اور یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ بھارت دہشت گردوں کا نہ صرف پشت پناہ ہے بلکہ انہیں ہر طرح سے سپورٹ بھی کر رہا ہے، اس کے باوجود ہمارا احتجاج بھی معذرت خواہانہ ہی ہوتا ہے۔ سوچا جانا چاہئے کہ کیوں؟ درست اور صائب کہ ہم بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری سمجھ کر ہمارے خلاف سازشیں کی جائیں اور پاکستان دشمن قوتوں کے ہاتھ مضبوط کئے جائیں تاکہ وہ کاری ضرب لگا سکیں۔ ہمیں ایسی تجارت کی ہرگز کوئی خواہش نہیں کرنی چاہئے جس کے بدلے میں ہمیں سازشوں کا نشانہ بنایا جائے۔

بہر حال اب پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے یہ معاملہ اپنے ہاتھوں میں لیا ہے تو امید پیدا ہوئی ہے کہ نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کو پاکستان میں بھارتی مداخلت کے شواہد فراہم کر کے بھارت کی نام نہاد امن پسندی کا دامن چاک کر دیا جائے گا تاکہ عالمی برادری پر یہ واضح ہو سکے کہ دنیا کی یہ سب سے بڑی اور نام نہاد جمہوریت کیسے دہشت گردی کو فروغ دے کر عالمی امن تباہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ کیا اقوام عالم اس بات کو قبول کر لیں گی کہ ان کا اور ان کی آنے والی نسلوں کا مستقبل غیر محفوظ ہو جائے اور وہ بھی محض بھارت کی شرپسندی کی وجہ سے۔ پاک فوج اس معاملے کو سرگرمی کے ساتھ آگے بڑھائے تاکہ وہ دہشت گردی کے قلع قمع کے لئے جو کاوشیں کر رہی ہے، ان کی کامیابی یعنی ملک میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے!

مزید : کالم