’ ’انکل !پریاں ستاروں میں چلی گئیں‘‘ (1)

’ ’انکل !پریاں ستاروں میں چلی گئیں‘‘ (1)

  



ننھی زینب نے کہانیوں کی کتاب سامنے رکھ کر نیم خوابیدہ لہجہ میں یہ جملہ کہا تو کچھ اندازہ نہیں کہ تب اس کی عمر کیا ہوگی ۔ اکثر گھروں میں زیادہ توجہ پہلوٹی کے بچے پہ ہوتی ہے ۔ سو اتنا یاد ہے کہ بڑی بیٹی فاطمہ جو اس وقت تک چوتھی جماعت پاس کر چکی تھی ، اسکول سے واپسی پر باپ کے ساتھ ہونڈا اٹلس پہ سوار ہوتی تو یوں لگتا کہ ضیا الدین ڈار کے پیچھے ایک اور ضیا ڈار بیٹھا ہوا ہے ۔ کبھی کبھی ضیا صاحب موج میں آکر مجھے چھٹی کا دن ساتھ گزارنے کی دعوت دیتے اور گورنمنٹ کالج میں ان کا یہ نوزائیدہ لیکچرار ساتھی اور آج کا کالم نویس نیلے رنگ کی سوزوکی کو کک مار کر ماڈل ٹاؤن کو چل پڑتا ۔ پر جس شام زینب نے یہ جملہ کہا اس وقت کسے احساس تھا کہ ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے لوگوں میں پری زاد تو بس ضیا ہے جو عنقریب سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ستاروں میں واپس چلا جائے گا ۔

پانچ فٹ چار انچ قد اور گٹھے ہوئے جسم والے ضیا ڈار سے میرے فل ٹائم یارانے کو آپ پہلی نظر کی محبت نہیں کہہ سکتے ۔ سچ تو یہ کہ ایک ہی تعلیمی ادارے سے وابستہ ہو کر بھی میں مہینوں اس آدمی سے خم کھاتا رہا ، اس لئے کہ ضیا کے فلک شگاف قہقہوں کے باوجو د ان کی شہرت ایک ’ہتھ چھٹ ‘ سوشلسٹ کی تھی ۔ یہ بھی مشہور تھا کہ وہ شیخوپورہ کالج میں ایک ایسے دانشور کی ٹھکائی کر چکے ہیں جو بعد میں ماہر اقبالیات کے طور پر جانے گئے ۔ ایک خوفناک پہلو اس واردات میں بیگم خدیجہ ضیا ڈار کا مبینہ رول ہے جنہوں نے اس کارروائی میں ٹھکائی الیہ کو مضبوطی سے جکڑ رکھا تھا ۔ مجھے لگا کہ نظریاتی لڑائی تو ایک بہانہ ہے ، ورنہ مار دھاڑ کا پس منظر تو خاندانی ہو گا کہ میاں بیوی میں سے میرا انگلش ڈپارٹمنٹ کا ساتھی گوجرانوالہ کا کشمیری اور ایف سی کالج میں پولیٹکل سائنیس کی استانی امرتسر ی کشمیرن ۔

اب اسے کیا کہئے کہ صلح کن طبیعت کے باوجود میرا اپنا نسلی حوالہ بھی ’بٹ صاحب‘ ٹائپ کا ہے ۔ اسی لئے تو ضیا ڈار کی موجودگی میں ہمارے ڈپارٹمنٹ کے نہائت شفیق سربراہ پروفیسر رفیق محمود نے میرا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا ’آپ کس قسم کے کشمیری ہیں ؟ نہ رنگت سرخ ، نہ موٹاپا ، نہ آپ بیوقوف ‘ ۔ یہ سن کر ضیا نے ہنستے ہنستے بھری محفل میں سینہ پہ ہاتھ مارا اور کہا ’رفیق صاحب ، میں جو ہوں ‘ ۔ تعلق کی چاشنی بڑھانے والا ایک جواب اس دن بھی ملا جب سردیوں کے موسم میں ضیا صبح ہی صبح گول گلے کا زپ والا نیا سویٹر پہنے کھڑے تھے ۔ ایک تو سویٹر کا رنگین ڈیزائن ، پھر پروفیسرز روم کے باہر پوز ایسا جیسے تصویر کھنچوانا چاہتے ہوں ۔ دیکھتے ہی میرے منہ سے نکلا ’ ڈار صاحب ، سویٹر بہت اعلی ہے‘ ۔ ’ہا ہا ہا ۔ ۔ ۔ نیچے قمیض نہیں پہنی ہوئی‘ یہ کہتے ہوئے تیزی سے زپ کھول کر دکھا دی ۔

’مائی کائنڈ آف مین‘ ۔ باطن کے ہرے گوشوں کی یہ آواز تو اسی وقت سن لی ۔ پھر بھی جب ایک دوپہر ’نظریاتی ‘ ضرورت کے تحت اچانک ضیا کے گھر جانا پڑ گیا تو میں ایک بار پھر خوفزدہ تھا ۔ ایک تو فری لانس مزاج کا چھڑا چھانٹ آدمی بال بچے دار گھرانے کا رخ کرتے ہوئے نفسیاتی جھاکے کا شکار ہوتا ہے ۔ پھر مڈل کلاسیا رویوں سے جڑے ہوئے یہ مخصوس وسوسے کہ کیا پتا گھر سے باہر والا ’ایکدم اوریجنل ‘ ضیا ڈار گھر کے اندر محض ایک پالتو شوہر ہو ۔ نہ بھی ہو تو جون جولائی کی گرمیوں میں شرفاء دن ڈھلے تک آرام کرتے ہیں ، اور یہ آدمی تو ماڈل ٹاؤن کے سی بلاک میں رہتا بھی سسرال کے ساتھ ہے ۔ ملاقات اگلے دن پہ ٹال نہیں سکتے تھے کیونکہ ایک انتظامی پھڈے بازی میں شعبہ ء انگریزی کے اساتذہ نے ہڑتال کرنے کی ٹھان لی تھی ، جس پر عملدرآمد ضیا کے مشورہ کے بغیر ممکن نہ تھا ۔

لو جی ، اب میں فالتو شور سے بچنے کی غرض سے موٹر سائیکل کو ایک با ادب فاصلے پہ روک کر ڈرتے ڈرتے گھر کی گھنٹی بجاتا ہوں ۔ اوپر کے ایک کمرے کا پردہ سرکتا ہے ۔ مسکراتا ہوا شناسا چہرہ باہر کو جھانکتا ہے ۔ میں ہاتھ ہلاتا ہوں ۔ جواب میں بازوؤں کے عجیب و غریب اشارے جیسے کوئی ڈانس کر رہا ہو ۔ یہ سچ مچ کا ڈانس تھا کیونکہ جب ضیا ڈار صاحب گھر کی لم سلمی ڈرائیو وے پہ ٹھمکتے ٹھمکتے گیٹ تک پہنچے تو ہونٹوں پہ ایک ملی نغمے کے بول تھے ’اے جان وطن ، سلطان وطن‘ ۔ البتہ ، میری شان بڑھانے کی خاطر ’وطن‘ کے لفظ کو ’ ملک ‘ سے بدل دیا تھا ۔۔۔ ’جان ملک ، سلطان ملک‘ ۔ میری ڈھارس بندھی اور چیلہ اپنے سے آٹھ دس سال بڑے گرو کے پیچھے پیچھے ڈرائینگ روم میں پہنچ گیا ۔ ’اوئے ، پانی شانی پیو گے؟‘ تائید میں سر ہلایا تو فٹافٹ اندر جاکر لیمن اسکوائش کے دو گلاس اور کٹے ہوئے آم لے آئے ۔

میں نے بات شروع کی کہ ہمارے استاد اور انگلش ڈپارٹمنٹ کے سینئر ساتھی سید حسن طاہر ایک انتظامی پھڈے میں پھنس گئے ہیں اور ہمارا مطالبہ ہے کہ متعلقہ آدمی ان سے سب کے سامنے معافی مانگے ۔ ’بالکل مانگے گا ، نہیں تو دما دم مست قلندر ‘ ضیا صاحب نے فل جوش میں کہا ۔ میں نے عرض کیا کہ مارشل لا کا دور ہے ، بہت سے پروفیسر زیر عتاب ہیں ، سو دیکھ بھال کے چلنا ہو گا ۔ ’اوئے شاہ جی ساڈے پیو دی جگہ تے نیں ، تونہہ ویکھ تے سہی کل ہوندا کیہہ اے‘ ۔ انتظامی مسئلہ تو خیر اگلے دن صدر شعبہ نے اپنی خوش تدبیری سے سلجھا دیا ، لیکن ڈرائینگ روم کا مکالمہ کلائمکس پہ تھا تو بیگم خدیجہ ضیا بھی آ پہنچیں ۔ ضیا نے کھڑے ہو کر مصنوعی التجائیہ انداز میں کہا ۔ ’اللہ کی قسم ، اس لڑکے نے تو صرف شربت مانگا تھا ، آم تو اپنی مرضی سے لایا ہوں ۔ میں نے سوچا ذرا ٹوہر ہو جائے گی‘ ۔

احمد ندیم قاسمی کا قول ہے کہ شستہ مزاح آنسوؤں میں دھلا ہوتا ہے ۔ بعد میں تو ضیا ڈار والی تکنیک کو اپنا کر میں خود بھی بہت فائدے میں رہا ، لیکن گھر کے اندر اس مسخرے پن پر پہلی بار احساس ہوا تھا کہ چوبیس گھنٹے ہنسنے کھیلنے کی حکمت عملی دنیا کے ساتھ ایک کمپرومائز تو ہے ہی ، یہ کسی نہ کسی سطح پر اپنے گرد و پیش کے خلاف انتقامی کارروائی بھی ہے ۔ یعنی اسی طرح کا فنکارانہ انتقام جس نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر تخلیق کاروں کی بے بسی کو منظوم گیتوں میں ڈھال دیا تھا ۔ ’میں مرزا ساگر سندھ دا ، میری راول جنج چڑھی ۔ ۔ ۔ اسلام آباد دے کوفے توں میں سندھ مدینے آئی آں‘ ۔ ہم ہمہ وقتی سیاسی کارکن نہ ہوتے ہوئے بھی ان گیتوں کی آواز کے پیچھے بہت دور تک دوڑے ۔ پھر پتا چلا کہ نوحوں کی تعبیر نہیں ہو ا کرتی ، ہاں یہ دل میں اتر جائیں تو ہمارے تصور حیات کو بدل کر رکھ دیتے ہیں ۔

ضیا الدین ڈار کا تصور حیات تو پہلے ہی بدلا ہوا تھا ۔ کسی بھی انسانی سرگرمی کو روایتی سیاق و سباق سے جدا کر کے دیکھنے کی عادت ، حد درجہ کی بے غرضی اور ہر اس حرکت پہ دل کھول کر داد دینے کا رویہ جو مقتدر لوگوں کے مسلمہ طور طریقوں کے منافی ہو ۔ صبح صبح گھر سے ٹھیک ٹھاک ناشتہ کرکے کالج آئے ہیں مگر نو بجے پہلا پیریڈ ختم ہوتے ہی کینٹین میں چائے کی دعوت ، ساتھ وہ چیز جسے صیغہ واحد میں پیٹی کہنا چاہئیے ۔ پھر بھی آرڈر دیتے ہوئے ہمارے پسندیدہ ویٹر لہراسب کی پیروی میں کہیں گے ’ایک ایک پیٹز بلکہ پیٹس‘ ۔ اتنی دیر میں کوئی نہ کوئی اینگری ینگ مین آ جائے گا ۔ مجھ سے تعارف کراتے ہوئے کہیں گے ۔ ’ذوالفقار بھٹی بہت اعلی آدمی اے ۔ ایہنوں میں شیخوپورہ دا جاننا واں ۔ ۔ ۔ انتظار مہدی بہت اعلی آدمی اے ۔ سٹوڈنٹ اے پر وائس پرنسپل کولوں نئیں ڈردا ‘ ۔ پسندیدگی کا حتمی معیار ایسٹیبلشمنٹ سے کسی بھی رنگ میں لڑائی ۔

ایک بار کالج کے امتحان میں بطور نگران ہماری ڈیوٹی ایک ہی کمرے میں لگی اور پرچہ بھی ہمارے ہی مضمون انگریزی کا ۔ پیپر بانٹا گیا تو ضیا ڈار نظر ڈالتے ہی کہنے لگے ’یار ، حاجی کریم الدین نے گرائمر کا سوال بہت مشکل دیا ہے ‘ ۔ ممکن تھا کہ اینٹی اسٹوڈنٹ رویہ کی بنا پہ پروفیسر کریم الدین کی شان میں ایک آدھ گستاخی اور کر جاتے ، مگر دو طلبہ نے ایک شریف سے امیدوار کی طرف دیکھ کر کہا ’سر ، کریم الدین صاحب اس کے ابا ہیں‘ ۔ ہم نے کوشش کرکے ہنسی روکی ، پر مظلوم عوام کی حمایت کیسے ترک ہو سکتی ہے ۔ آدھا ٹائم ہونے پر ضیا صاحب نے مجھے دروازے کی کنڈی چڑھانے کو کہا ۔ تعمیل ہوئی چڑھائی تو اشارے سے کلاس روم میں ایک فرضی لکیر کھینچ کر کہنے لگے ’ دائیں والوں کو گرائمر کا سوال تم کرا دو ، بائیں والوں کو میں‘ ۔ میرے احتجاج پہ جھلا کر کہا ’یار ، پرچہ بہت مشکل ہے‘ ۔ یہ بد دیانتی نہیں تھی ، صرف اہل اقتدار کی حکم عدولی کا اشارہ تھا ۔(جاری ہے)

مزید : کالم


loading...