کبوتر اور نیم دیوانہ بچہ، جاسوس یا؟

کبوتر اور نیم دیوانہ بچہ، جاسوس یا؟
کبوتر اور نیم دیوانہ بچہ، جاسوس یا؟

  



’’واسطہ ای رب دا توں جاویں وے کبوترا‘‘

چٹھی میرے ڈھول نوں پچاویں وے کبوترا‘‘

یہ گیت ماضی کی ایک پنجابی فلم دُلا بھٹی سے ہے، جس میں ہیروئن کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ دُلا بھٹی کو بلانے کے لئے کبوتر کی پیغام رسانی کا آسرا لیتی ہے۔ کبوتر کو ہاتھ میں پکڑے یہ گیت گاتی ہے۔ یہ کبوتر اس وقت تک ہیروئن کے ہاتھ میں رہتا ہے، جب تک گانا مکمل نہیں ہو جاتا، گیت کی تکمیل پر ہی ہیروئن وہ کبوتر فضا میں بلند کرتے ہوئے چھوڑتی ہے، جو آسمان کی طرف جا کر دُلا بھٹی کے گاؤں کا رُخ کر لیتا ہے، دراصل ان ہر دو ہیرو اور ہیروئن کے درمیان خط و کتابت کبوتروں ہی کے ذریعے ہوتی تھی، جو اس دور کا معروف طریقہ تھا کہ تربیت یافتہ کبوتروں کے ذریعے پیغام رسانی ہوتی تھی۔

جس روز بھارت میں ایک پاکستانی کبوتر (غلطی یا پرواز کے زعم میں بھارتی حدود میں چلا گیا) کو پکڑا گیا اور اسے انٹیلی جنس کے حوالے کر دیا گیا کہ تحقیق کی جائے کہیں پیغام رسانی کے لئے تو استعمال نہیں کیا جا رہا، یوں خبر بنی کہ پاکستانی کبوتر سراغ رسانی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا یہ خبر پڑھنے کے بعد ہی اظہارِ خیال کے لئے سوچا، پھر دوسرے امور نے توجہ مبذول کرا لی اور یہ خیال ترک کرنا پڑا، اس کے بعد اس پر کئی دوستوں نے کالم باندھے تو پھر لکھنے کا خیال نہ آیا، اب ایک تازہ خبر نے توجہ کھینچی تو کبوتر کا بھی خیال آ گیا، جس کے بارے میں یہ خبر بھی پڑھ لی کہ پاکستانی کبوتر باعزت بری کر دیا گیا کہ سراغ رسانی کا کوئی نشان نہیں ملا، تاہم اب جو خبر نظر سے گزری وہ یہ ہے کہ بھارت کی طرف سے ایک نابالغ لڑکا (عمر آٹھ سال لکھی گئی) غلطی سے سرحد عبور کر کے پاکستان آ گیا، بظاہر اس کا ذہنی توازن درست نہیں اور نہ ہی اس کی زبان سمجھ میں آتی ہے۔

پاکستانی حکام نے اسے اپنی حفاظتی تحویل میں لے کر بھارتیوں سے رابطہ کیا کہ وہ ’’اپنے مال‘‘ کی شناخت کریں اور اسے واپس لیں۔ یہاں جاسوسی کا الزام نہیں لگایا گیا، نہ ہی ہمارے انوسٹی گیشن والے صحافی بھائیوں اور الیکٹرانک میڈیا نے اس کا یہ کہہ کر پیچھا کیا کہ برین واشنگ کے عمل سے تربیت دے کر بھیجا گیا ہے۔ پاکستانی اس بکھیڑے میں نہیں پڑے کہ ماشا اللہ یہاں تو پہلے ہی ’’را‘‘ کے کئی ایجنٹ مزے سے رہ رہے ہیں، اس کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ ابھی پچھلے روز لاہور سے ایک شخص کو پکڑا گیا، جو ہندو ہے اور جعلی پاکستانی کاغذات کی بنیاد پر گزشتہ پانچ سال سے یہاں رہتا آ رہا ہے، اس لئے کسی مجہول بچے کو پکڑ کر اسے جاسوس قرار دینا یوں بھی مضحکہ خیز ہوتا جیسا کہ بھارت میں کبوتر کی فرانزک جانچ پڑتال نے اسے عالمی خبر بنا دیا، حالانکہ آج کے دور میں تو عاشق اور محبوب کے درمیان بھی کبوتر کی جگہ الیکٹرانک کبوتر نے لے لی ہے۔ انٹرنیٹ کی بدولت فیس بُک اور ٹوئیٹر زندہ باد کہ ان کے ذریعے ذاتی گفتگو مخفی ہوتی ہے اور اسے سکرین سے ختم بھی کیا جا سکتا اور محفوظ بھی رکھا جا سکتا ہے، ایسے میں کبوتر کی سراغ رسانی والی خبر مضحکہ ہی ہوتی، اسی لئے اس مخبوط الحواس بچے کے لئے ایسا کوئی شبہ نہیں کیا گیا۔ البتہ اس کی شناخت کا مسئلہ ضروری ہے کہ اسے بھارت کے حوالے کیا جا سکے۔ اس لئے اس کی بولی کا اندازہ لگایا جا رہا ہے تاکہ متعلقہ زبان جاننے والے کو بُلا کر لڑکے کا نام پتہ معلوم کیا جائے اور اسے باقاعدہ شناخت کے ساتھ بھارت کے حوالے کیا جائے تاکہ یہ کبوتر نہ بن جائے۔

دورِ جدید کی سہولتوں ہی کے حوالے سے عرض ہے کہ لاہور پریس کلب اور چندی گڑھ(بھارت) پریس کلب جڑواں قرار پا چکے ہیں اور ہر دو کے درمیان سیمینار اور کانفرنسیں ہوتی اور وفود کے تبادلے ہوتے ہیں، ایسے ہی ایک تبادلے کے دوران لاہور پریس کلب کے وفد کے ہم بھی ایک رکن تھے، بھارت میں چندی گڑھ پریس کلب کے صدر نوین ایس گریوال تھے، اچھے انسان ہیں، حسب روایت وفد کا استقبال ہوا واہگہ کے راستے اٹاری اور وہاں سے چندی گڑھ پہنچے، جہاں کانفرنس کا اہتمام تھا۔ہمارا بھارت جانے کا یہ پہلا اتفاق نہیں تھا، اس سے پہلے بھی ورلڈ پنجابی کانگرس کے وفود کے ساتھ کئی بار جانے کا اتفاق ہو چکا تھا اور اس دوران بھارت میں قیام کا تجربہ تھا کہ وہاں سے فیکس اور فون کرنا بہت ہی مشکل امر تھا۔ اول تو خبر کہیں سے فیکس نہیں ہوتی تھی، حالانکہ فیکس اور انٹرنیشنل فون کا اہتمام جگہ جگہ تھا، جہاں کہیں مشکل سے فون اور فیکس ملتی تو نقل متعلقہ دکاندار کے پاس رکھوانا ہوتی تھی، جب لاہور پریس کلب کے وفد میں چندی گڑھ پہنچے تو اگلے ہی روز میزبانوں نے ووڈا فون کمپنی کی سموں کا اہتمام کر دیا کہ ہم اپنے گھروں اور دفاتر سے رابطہ رکھ سکیں۔ یوں ہمیں ایک شاپ بھی بتا دی گئی ، جہاں سے خبر فیکس ہو سکتی تھی، ہمیں اس فراخدلی پر بڑی حیرت ہوئی اور میزبانوں کے ساتھ اظہار کئے بغیر نہ رہ سکے، تو ایک مہربان نے ہنستے مسکراتے جواب دیاکہ وہ زمانہ لد گیا جب ایسی پابندیوں کی ضرورت تھی، حتیٰ کہ پاکستان سے آنے والوں کی نگرانی بھی کی جاتی تھی۔

انہوں نے پاکستان پر بھی یہ الزام لگایا لیکن اب اس کی ضرورت نہیں کہ زمانہ بہت ترقی کر گیا، اب تو خلائی سیارے اور الیکٹرانک مواصلات کا دور ہے، اب اتنے تردد کی کیا ضرورت ہے، موبائل سم اور سی سی ٹی وی نگرانی اور بات چیت سننے کے لئے موجود ہیں۔ ہر کال کی ریکارڈنگ ہو سکتی ہے۔یہ یاد آیا تو ہمیں بھارتیوں کی اس غلط فہمی پر تعجب ہوا کہ انہوں نے کبوتر پکڑ کر باقاعدہ سکریننگ کی اور مکمل تحقیق کے بعد قرار دیا کہ بے ضرر ہے۔ البتہ معلوم نہیں کہ عاشق و محبوب والا سلسلہ بھی تلاش کرنے کی کوشش کی گئی یا نہیں، اس بارے میں کوئی خبر نہیں، اس حوالے سے تو پاکستان والے زیادہ حوصلہ مند ہیں کہ انہوں نے نیم دیوانے بچے کی سکریننگ نہیں کی کہ کہیں (سائنس فکشن پر مبنی فلموں کی طرح) اس لڑکے کو روبوٹ بنا کر تو نہیں بھیجا گیا۔بہرحال ہر دو معاملات بخیرو خوبی انجام پائے، ہمارے کشمیری ڈرائیور والا قصہ نہیں ہوا کہ عدالت سے رہا ہو جانے کے بعد بھی واپس نہیں بھیجا جا رہا۔

مزید : کالم


loading...