اگر ہر دُعا قبول ہو جاتی ، تو!

اگر ہر دُعا قبول ہو جاتی ، تو!
اگر ہر دُعا قبول ہو جاتی ، تو!

  



دنیا میں افراتفری پھیل جاتی ۔ ہر مذہب میں دُعا کا تکرار کے ساتھ ذکر ہے ہندو کی پرارتھنا ہو، مسیحوں کی چرچ سروس ہو، یہودیوں کا دیوارِگریہ سے لگ کر زار و قطار رونا ہو یا ارواح پرستوں کا اپنے بزرگوں کی روحوں کو مدد کے لئے پکارنے کا عمل ہو، اِن سب کی عبادتیں دُعاؤں پر اختتام پذیر ہوتی ہیں۔۔۔اللہ تعالیٰ کی کتابِ مبین میں کم از کم 50 جگہ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگو احادیث مبارکہ میں دُعا کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ نہج البلاغہ میں حضرت علیؓ اپنے نورِ چشم حضرت امام حسینؓ کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو اور دُعا مانگو تاکہ تم ہر مشکل اور تکلیف سے دُور رہو۔ صحیفہ السّجادیہ میں ذِکر ہی دُعاؤں کا ہے۔ قرآنی دُعائیں جو مختلف پیغمبروں سے منسوب ہیں، ظاہر کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول بھی اللہ کی مہربانی اور مدد کے محتاج تھے۔ دراصل ہر دُعا مانگنے والااپنے رب کی کریمی، اُس کی خلاقی، اُ س کی رزاقی اور اُس کی رحیمی کو پکارتاہے ۔ دُعا مانگنے والا کتنا ہی متکبر ہو، طاقتور ہو، بے پناہ اثرورسوخ رکھتا ہو لیکن جب وہ اپنے گاڈ، پّربھو، پرمیشور، رّب اور اللہ کے سامنے جُھک کر عاجزی کے ساتھ اپنے مذہب کے مطابق اپنے Creater سے مدد مانگتا ہے تو دراصل وہ اپنے خالق جو ہم مسلمانوں کے عقیدے کے مطا بق صرف اللہ تعالیٰ ہے ،کی عظیم طاقت کی گواہی دیتا ہے اور اُس سے مدد مانگتا ہے۔

دُعا مانگنے سے سکون ملتا ہے، اُمید پیدا ہوتی ہے، اُمید پژِ مُردہ زندگی میں جان ڈالتی ہے۔ مایوسی کا توڑہے۔ نفسیاتی ڈپریشن میں اِنسان دُعاؤں کا ہی سہارا لیتا ہے بیمار انسان دُعا میں شفاء ڈھو نڈتا ہے ۔ بڑے بڑے جابر، اور خود پسند جب اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگتے ہیں تو وہ عاجزی کا مجسمہ بن جاتے ہیں لیکن اِن سب عوامل کے باوجود ضروری نہیں ہے کہ دُعا قبول ہو۔ دراصل اللہ تعالیٰ نے یہ تو ضرور کہا ہے کہ ہم اِنسان اُس سے دُعا مانگیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ازل سے ہی اس دنیا میں جو کچھ بھی ہونا ہے وہ پہلے ہی لوحِ محفوظ میں دے دیا گیا ہے۔ اِنفرادی طور پر اللہ تعالیٰ رحم کھا کر کسی فرد کی دُعا سُن کر اُس فرد کی انہونی لیکن جائز خواہش کو پورا کر دیں تو یہ استثنا کہلائے گی۔ آپ اسے معجزہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن ربِّ کائنات نے جو اصول بنا دیئے ہیں اور جو ہماری تقدیر میں لکھ دیا ہے وہ ہو کر رہے گا۔ دُعائیں ہمیں اُمید تو دِلا سکتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے Predestined نظام میں تبدیلی نہیں لا سکتی ہیں۔ ذرا سوچیں۔ ایک کسان اپنے رَبّ سے دُعا مانگ رہا ہے کہ خوب دھوپ نکلے اور گرمی کی زیادتی ہو تاکہ اُس کی گندم کی فصل پک کر تیار ہو جبکہ میرے جیسا شہری گرمی سے تنگ آکر بارش کی دُعا مانگ رہا ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کے نظام میں تو وہی ہو گا جو اُس نے پہلے ہی لکھ دیا ہے۔ میری دُعا کسی کے مفاد کے منافی ہو سکتی ہے اور کسی دوسرے فرد کی اپنے لئے دُعا کرنے سے میرا کاروبار تباہ ہو سکتا ہے۔ دنیا میں 6 ارب انسانوں کی دُعائیں اتنی متنوع اور ایک دوسرے کی ضِّد ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ ہر دُعا کو قبولیت کا شرف بخش دے تو تمام دنیا میں ابتری اور اِنتشار پیدا ہو جائے۔

مثال کے طور پر ہر مذہب اور فرقے کی دُعائیں عموماً ایک دوسرے کے خلاف ہوتی ہیں۔ مسلمانوں کی مسجدوں میں تو 100 فیصد مخصوص قسم کے دُعائیہ جملے بولے جاتے ہیں۔ مثلاً غلبہِ اسلام ہو، اہلِ ہنود اور یہود ذلیل و خوار ہوں، اُمتِ مسلمہ میں اتحاداور بھائی چارہ ہو، وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کی دُعائیں روزانہ 5 وقت اجتماعی طورپر مانگی جاتی ہیں بلکہ جمعہ کی نماز میں تو مولوی حضرات رونے دھونے کے ساتھ دُعائیں مانگتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ہماری دُعائیں اس طرح ہوبہو قبول نہیں ہو سکتیں اسلام کا غلبہ جس طو ر ہوتا نظر آرہا ہے القاعدہ اور دولتِ اسلامی کی شکل میں تو وہ بہت ہی بھیانک ہے۔ جس قسم کا نفاق مسلمان ملکوں کے درمیان ہے، مختلف مسلکوں اور فرقوں کے درمیان ہے، اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ ہماری دُعائیں اللہ تعالیٰ کے منصوبے کو نہیں بدل سکتیں۔ ہم کتنی ہی کثیر تعداد میں مسجدیں بنا لیں، مسجدوں کو نمازیوں سے بھر دیں، عمرے کریں، میلاد، بارہ وفات اور آخری چہار شنبے منائیں۔ 5 سٹار اور 7 سٹار حج کریں، داڑھیاں رکھیں، ماتھے کو سجدے میں رگڑ رگڑ کر سیاہ محراب بنا لیں، ٹخنوں سے اُونچی شلواریں پہن لیں، رسول اللہؐ کی اِتباع میں کتنی ہی گِریہ زاری کر لیں۔ چُھریوں سے اپنے سینے لہو لہان کر لیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو ذلِت و خواری ہمارے لئے لکھ دی ہے وہ ہم سب کو نظر آ رہی ہے۔

ادھر اہل یہود اور کفار، فراست ، عقل و دانش اور کاروباری دیانت داری کی وجہ سے پھل پھول رہے ہیں۔ دراصل کفار نے قرآنِ مجید کا وہ حصہ اپنا لیا ہے جس کو ہم اللہ تعالیٰ کے معاشرتی، سماجی اور معاشی احکامات کہتے ہیں۔ یہ کفار نہ ہی کم تولتے ہیںیا ماپتے ہیں، نہ ہی ذخیرہ اندوزی کر کے حرام قسم کی منافع خوری کرتے ہیں، نہ ہی ملاوٹ شدہ اشیائے خوردو نوش فروخت کرتے ہیں، نہ ہی کم ترمال (سودے)کو بہتر اور معیاری مال بنا کر بیچتے ہیں۔ قرآنِ مجید کے اِن تجارتی اور معاشی احکامات کا جو حشر رمضانِ کریم میں ہوتا ہے وہ دُکھ اور اَفسوس کے علاوہ ہمیں کیا دے سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس قسم کے دو نمبری مسلمانوں کی دُعائیں تو نہیں مانے گا۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کو چلانے میں اِنصاف اور اصول کو ضرور مدِ نظر رکھتے ہیں۔ وہ ہماری دُعائیں سن کر بھی ہمیں نظر انداز کرتے ہیں۔ اس دفعہ رمضان میں حسب معمول شہرِ اعتکاف بھی بنیں گے۔ لیکن ہمیں ملے گا کیا۔ مزید ذلّت۔ سچی بات ہے ہم نے دل سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا ہی نہیں ۔لالچ اور ہوس نے ہمارے تاجروں کو گمراہ کر دیا ، ریاکاری ، فریب جھوٹ اور مالی بد دیانیتوں نے ہمارے سیاستدانوں اور حکومتی کارندوں کو اللہ تعالیٰ کا مجرم بنا دیا، ہمارے عوا م چور، دوغلے، خوشامدی، ڈرپوک اور بے وقت شور و غوغا کرنے والے اور سب سے بڑھ کر ہمارے خود غرض، خود پرست اور تفرقہ ڈالنے والے دینی علماء ، اِن سب نے مل کر اللہ تعالیٰ کو ہم سے ناراض کر دیا ہے۔ اسی لئے ہم اُس کے کرم سے محروم ہیں۔

اللہ تعالیٰ سب دُعائیں نہیں سُنتا اور یہ کہ اس کائنات کو چلانے کا پہلے سے طے شدہ اللہ تعالیٰ نے منصوبہ بنا دیا ہے،یہ خیال میرے ذہن میں سعودی عریبہ میں رہتے ہوئے جدہ میں آیا جہاں میَں قریباً 7 سال لگاتار رہا ہوں۔ ہر جمعہ والے دن یا چھٹیوں کے دوران میں اپنی فیملی کے ساتھ عمرے کے لئے مکّہ مکرّمہ جاتا تھا۔ دراصل ہم پاکستانیوں کا یہ مرغوب ترین رُوٹین تھا۔ گھر سے احرام باندھو ، گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے مکہ پہنچ جاؤاور وہاں عمرے، طواف اور باجماعت نمازیں پڑہتے رہو۔ میَں نے کم از کم دو سو عمرے تو ضرور کئے ہونگے اور حج بھی دو کئے۔ خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت تمام دنیا سے آئے ہوئے عمرے کے زائرین قریباً چالیس اور پچاس ہزار کے درمیان تو ضرور ہوتے تھے۔ ذرا غور کریں کہ اِتنی ہی یا کچھ کم تعداد میں 24 گھنٹے اور 12 مہینے تمام دنیا سے آئے ہوئے مسلمان خانہ کعبہ کے گرد طواف کر رہے ہیں، دُعائیں مانگ رہے ہیں، حطیم کی دیوار سے لگ کر گِریہ زاری کر رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے دربار میں ہماری کوئی بھی شنوائی نہیں ہو رہی۔ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں سے کیوں مکمل طور پر بے نیاز ہے۔ہماری اجتماعی دُعائیں تو بالکل بے اثر ہیں۔ ہماری اِنفرادی دُعا کی قبولیت معجزہ ہی ہو سکتی ہے۔

دراصل جب اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا بنائی تھی تو ہر نفس کی قسمت پہلے سے ہی تجویز کر دی تھی۔ اللہ تعالیٰ دُعا مانگنے کی ہمیں اپنی کتابِ مبین میں تر غیب تو ضرور دیتے ہیں لیکن دُعا کی قبولیت ضرور ی نہیں ہے خواہ ہم کتنے ہی مزاروں پر چلے جائیں۔ پیروں فقیروں کو نذ ر و نیاز دیں، کچھ نہیں ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ اپنے ہی لکھے ہوئے کو نہ بدلے۔ دُعا اِنسانی نفسیات کے لئے بہت ضروری ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ہر زی روح کی قسمت پہلے سے طے کر دی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے نا اُمیدی کے کینسر سے بچنے کے لئے دُعا مانگنے کا حکم بھی دیا ہے۔ دُعا اُمید دیتی ہے، اُس سے اِنسان میں خود اعتمادی آتی ہے، خود اعتمادی محنت اور تدبیر کرنے پر اُبھارتی ہے۔ قرآن میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں " لیسَ لِل اِنسانَ اِلّی ما سع۔ خود اعتمادی کے ساتھ جب اِنسان اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے محنت اور کوشش کرے گا تو ہو سکتا ہے وہ انسان اپنی خواہش کی تکمیل حاصل کر لے۔

بطو ر پالیسی اللہ تعالیٰ دُعاؤں کو سُن تو لیتے ہیں لیکن اُنہیں خال خال قبول کرتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ہر دُعا کو قبولیت بخش دیں تو دنیا کا امن، نظم و ضبط اور روزمرّہ کی زندگی اتھل پتھل ہو جائے۔ ہم انسانوں کا کام اللہ تعالیٰ سے ہر وقت دُعا مانگتے رہنا چاہیے کیونکہ اس طرح مایوسی نزدیک نہیں آتی۔ لیکن ہو گا وہی جو اللہ تعالیٰ نے ہم سب کے لئے تجویز کر رکھا ہے۔ ہم مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بہت اعلیٰ دعائیہ لٹریچر تصنیف کئے۔ مناجات اور حمد سے متعلق ہمارے شعراء نے بہت کچھ کہا ہے۔ قرآنی دُعاؤں کے علاوہ ہمارے بزرگانِ دین نے اپنے الفاظ میں بھی دُعا مانگی ہے۔ اُن کی دُعا کو قبولیت بھی ملتی ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی منشاء پر منحصر ہے۔ یا رہے کہ اللہ تعالیٰ اگر دُعا قبول فرماتے بھی ہیں تو وہ اِنفرادی تو ہو سکتی ہے لیکن کسی قوم یا جماعت کے خلاف یا حق میں نہیں ہو گی۔ اللہ تعالیٰ ہماری ہر عرضی کو قبول کرنے کے پابند نہیں ہیں خواہ اُس عرضی کے ساتھ ہم اپنی نیکیوں اور عبادتوں کے سرٹیفکیٹ لف کر دیں:

HE IS THE SUPREME

ahmad-manzoor@hotmail.com

مزید : کالم