بجٹ اور بے بسی

بجٹ اور بے بسی
بجٹ اور بے بسی

  



جب کوئی یہ کہتا ہے کہ بجٹ کا عام آدمی پر کوئی اثر نہیں ہوگا تو مجھے عام آدمی پر ترس آنے لگتا ہے کہ اس پر کسی بات کا اثر ہی نہیں ہوتا، حالانکہ بجٹ تو بنایا ہی اس نقطۂ نظر سے جانا چاہیے کہ عام آدمی پر اس کا اثر ہو، اس کی زندگی بدلے، اسے بھی سکھ چین کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملے،مگر ہمارے ہاں بجٹ چونکہ ملک الموت قسم کی چیز رہی ہے، اس لئے اس کی خوفناکی کو کم کرنے کے لئے ہمیشہ یہ جملہ دہرایا جاتا ہے کہ اس سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا۔ موجودہ قومی بجٹ کی خوبیاں گنوانے والے بھی یہ جملہ تواتر کے ساتھ ارشاد فرما رہے ہیں، حتیٰ کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے بھی بجٹ کو تاریخی قرار دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اس سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا۔ حکمران عام آدمی کا جس طرح محبت بھرے انداز میں ذکر کرتے ہیں، میری رگِ حاسدانہ پھڑکنے لگتی ہے اور یہ عام آدمی مجھے زہر لگنے لگتا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ یہ کہیں مجھے مل جائے تو میں اس کی وہ درگت بناؤں کہ اس کی نانی بھی آئندہ عام آدمی بننے سے توبہ کرلے۔۔۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مجھے تو وہ عام آدمی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا، جو حکمرانوں کے ہر طرح کے منفی اثرات سے محفوظ رہتا ہے، جس پر پٹرول مہنگا ہو یا بجلی، بجٹ میں ٹیکسوں کی گنگا بہائی گئی ہو یا مہنگائی کا جن بوتل سے نکال دیا گیا ہو، کوئی اثر نہیں ہوتا، وہ راوی کی طرح چین ہی چین لکھتا ہے۔ یہاں لوگ بجٹ کے بعد گڑگڑا رہے ہیں، بلبلا رہے ہیں، حتیٰ کہ سرکاری ملازمین بھی جھولیاں اٹھا اٹھا کر اس عام آدمی کو بددعائیں دے رہے ہیں، جس پر بجٹ میں 253 ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کا کوئی اثر نہیں ہوا اور حکمران طبقہ اس کی مثال دے کر ان کے سینوں پر مونگ دل رہا ہے۔

اس بار بھی بجٹ میں کوئی ایک ٹیکس بھی براہ راست نیا نہیں لگایا گیا۔ سبھی ٹیکس بالواسطہ ہیں، جو بالآخر وہ عام آدمی ہی ادا کرتا ہے، جس کے بارے میں حکمران بڑی سفاکی کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ اس پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ بجٹ کے بعد اسحاق ڈار ایک ٹی وی چینل پر فخریہ اعلان کررہے تھے کہ پچھلے دو برسوں میں دو لاکھ نئے ٹیکس گزار ڈھونڈے گئے ہیں اور اب ان کی تعداد 9لاکھ ہوگئی ہے۔20کروڑ کی آبادی میں 9لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں اور ان میں بھی 80فیصد تعداد سرکاری ملازمین کی ہے۔ اسحاق ڈار یہ بھی بتا دیں کہ جن 2لاکھ ٹیکس گزاروں کا فخریہ اضافہ وہ بیان کررہے ہیں ، ان میں سے کتنے ہیں،جن کی تنخواہیں عمر کے ساتھ ساتھ بڑھنے کی وجہ سے ٹیکس کی حد میں آ گئی ہیں۔ بات یہ نہیں کہ آپ نے کتنے نئے ٹیکس گزار پیدا کر لئے ہیں، سوال یہ ہے کہ آپ نے ٹیکس کس نوعیت کے نافذ کئے ہیں؟ اگر بجٹ کی تمام تر آمدنی بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے آنی ہے تو پھر اس کا سارا بوجھ اس طبقے پر پڑے گا جو اپنا بوجھ آگے منتقل نہیں کر سکتا۔ جی ایس ٹی اور ایکسائز و کسٹم ڈیوٹیز پر انحصار کرنے سے بڑے سرمایہ داروں کا تو کچھ نہیں جاتا، عام آدمی کی جیب خالی ہوتی ہے۔ اس بار ڈیری کی مصنوعات پر بھی جی ایس ٹی نافذ کر دیاگیا ہے، اب اس کا بوجھ شیدے میدے نے ہی اٹھانا ہے۔ ایک صاحب نے کیا خوبصورت بات کی ہے کہ اسحاق ڈار نے ماہ رمضان سے پہلے ایسی اشیاء کو مہنگی کرکے، جن کا روزہ دار زیادہ استعمال کرتے ہیں، حکومت کی طرف سے انوکھا رمضان پیکیج دے دیا ہے۔

بجٹ کے حامیوں کا ایک تکیہ کلام سالہا سال سے سنتے آ رہے ہیں، اسے اس بجٹ کے لئے بھی دہرایا جا رہا ہے کہ موجودہ حالات میں اس سے بہتر بجٹ پیش نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہ ’’موجودہ حالات‘‘ آخر ہیں کیا کہ کبھی تبدیل ہی نہیں ہوتے۔ اسحاق ڈار اپنا ایک کارنامہ یہ گنواتے ہیں کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں دوگنا اضافہ ہوگیا اور انہیں آنے والے دنوں میں 19ارب ڈالر تک لے جایا جائے گا۔ اصل میں ان کا سارا فوکس ہی ڈالر کے ذخائر کی طرف رہا ہے، اسی لئے ان کے مخالفین انہیں اسحاق ڈالر بھی کہتے ہیں۔ ذخائر برقرار رکھنے کے لئے آئی ایم ایف کی آشیرباد بھی ضروری ہوتی ہے۔ لوگ اگر یہ کہتے ہیں کہ موجودہ بجٹ بھی آئی ایم ایف کا تیار کر دہ ہے تو کچھ غلط نہیں کہتے، البتہ ہمیں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا بجٹ پر تبصرہ سن کر بہت لطف آیا، اس سے تو لگتا ہے کہ اسحاق ڈار نے اتنی بھی محنت نہیں کی، جتنی ایک نالائق طالب علم اگلے سال کے امتحان کی تیاری کرتے ہوئے پرانے نوٹس کو جدید بنانے کے لئے کرتا ہے۔ سراج الحق کا کہنا ہے کہ موجودہ بجٹ تو پچھلے سال والا ہے، جسے صرف اعدادوشمار اور تاریخیں تبدیل کرکے پیش کر دیا گیا ہے، ویسے کہتے تو وہ بھی کچھ غلط نہیں۔ بجٹ تقریر کے جملے دیکھئے یا اعداد و شمار ، دعوے دیکھئے یا وعدے ،ان میں سرمو کوئی فرق نظرنہیں آئے گا۔اسی لئے بجٹ کے بعد اس کے حامی بھی سٹیریو ٹائپ جملے ہی بولتے ہیں، جن میں یہ جملہ بطور خاص شامل ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت اس سے بہتر بجٹ پیش نہیں کر سکتی تھی۔ نجانے موجودہ حالات سے ان کی مراد کیا ہوتی ہے۔

عوام نے تو حکومت کا ہر فیصلہ برداشت کیا ہے، بجلی مہنگی ہوئی تو اُف نہ کی، پٹرول مہنگا ہوا تو صبر شکر کے ساتھ برداشت کر لیا۔ لوڈشیڈنگ کے باجوود اووربلنگ کے ذریعے حکومت کا خزانہ بھرا۔ اشیائے خورونوش پر ٹیکس لگے تو حالات کا جبر سمجھ کر قبول کرلئے، اب اس کے باوجود اگر حکومت کے حالات بہتر نہیں ہوتے تو عوام کیا کریں، کہاں جائیں، سورج کیا مغرب سے طلوع ہوگا تو حکومت اچھے حالات کا بجٹ پیش کر سکے گی؟۔۔۔سرکاری ملازمین کا پارہ تو اس بجٹ کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی چڑھ گیا ہے۔ اسحاق ڈار اگر کوئی اچھا سا بہانہ کرکے ، حالات کی سنگینی کا رونا روکر بجٹ میں ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے سے معذرت کرلیتے تو شاید سرکاری ملازمین کا غصہ اس طرح بے لگام نہ ہوتا، جیسا ساڑھے سات فیصد اضافے کے اعلان سے ہوا ہے۔ اسے کہتے ہیں:’’ مرے کو مارے شاہ مدار‘‘۔۔۔ !

چھوٹے سرکاری ملازمین کو ساڑھے سات فیصد اضافے کا لولی پاپ دیا گیا تو ان کا پارہ آج کل کی گرمی کی طرح چڑھ گیا اور شنید ہے کہ سوموار سے پورے ملک میں یہ مخلوقِ خدا جگہ جگہ مظاہرے کر رہی ہے۔ جب سے مَیں نے ہوش سنبھالا ہے، یہ شاید پہلا موقع ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اس قدر کم اضافہ کیا گیا ہے۔ ملک میں گیارہویں سکیل تک کے ملازمین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یوں سمجھیں کہ 80فیصد ملازمین اسی کیٹگری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی تنخواہوں میں اس فارمولے کے مطابق تین سو سے 9سو تک کا اضافہ ہوگا۔ بقول سرکاری ملازمین کے اس اضافے سے تو ’’اونٹ کے منہ میں زیرے‘‘ والا محاورہ بھی شرمانے لگا ہے۔ شریف برادران کے بارے میں سرکاری ملازمین کا یہ تاثر بن چکا ہے کہ وہ کاروباری طبقے کو نوازتے اور ملازمت پیشہ طبقے کو رگڑا لگاتے ہیں۔ آج سرکاری ملازمین کو رہ رہ کر آصف علی زرداری کے پانچ سال یاد آ رہے ہیں، جن کے دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مجموعی طور پر 80فیصد اضافہ ہوا۔ شریف برادران کا یہ تیسرا بجٹ ہے اور بمشکل 27فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سرکاری ملازمین کے دل پر اس وقت چھریاں چلتی ہیں، جب ٹی وی چینل اس اضافے کو بھی بریکنگ نیوز بنا کے چلاتے ہیں، جبکہ اخبارات باقی سب کچھ بھول کر ہیڈ لائن میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی سرخی لگانا نہیں بھولتے۔ اس سے کاروباری طبقے کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں، وہ اپنی چھریاں مزید تیز کر لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سرکاری ملازمین پر خزانے کے منہ کھول دیئے گئے ہیں، اس لئے انہیں بھی اپنی تجوریاں بھرنے کے لئے ان کے منہ کھول لینے چاہئیں۔ یہ خبر بار بار بریکنگ نیوز کے طور پر چلائی جاتی رہی کہ سرکاری ملازمین کا میڈیکل الاؤنس 25فیصد بڑھا دیا گیا ہے۔ اللہ کے بندو یہ تو دیکھو کہ یہ 25فیصد بنتا کتنا ہے؟ صرف ایک سو روپیہ۔ اس میں تو ڈسپرین کے 6پتے بھی نہیں آتے، جس ملک میں علاج حد درجہ کمرشل ہو چکا ہو، ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بیورو کریسی سے مل کر لوٹ مچا رکھی ہو، وہاں آپ فی خاندان ایک سو روپیہ میڈیکل الاؤنس کی مد میں بڑھا کر ڈیسک بجواتے ہیں، کچھ توخدا خوفی کریں۔

کہنے کو مزدور کی اجرت 12ہزار روپے سے بڑھا کر 13 ہزار روپے کر دی گئی ہے، یہ اجرت بذاتِ خود ایک بہت بڑا استحصال ہے، لیکن اسحاق ڈار سے کوئی یہ پوچھے کہ اس اجرت کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کیا اقدامات کرتی ہے؟سرمایہ داروں کے پنجے میں جکڑا ہوا مزدور ایک بے بس پرندے کی مانند ہوتا ہے، اسے آٹھ ہزار روپے دے کر 12ہزار کے واؤچر پر دستخط یا نشان انگوٹھا لگوا لیاجاتا ہے۔۔۔جس حکومت کے اندرونی سرمایہ داروں اور آئی ایم ایف نے ہاتھ پاؤں باندھ رکھے ہوں، وہ حکومت کبھی عوام دوست اور اچھا بجٹ پیش نہیں کر سکتی۔ البتہ وہ یہ دعویٰ ضرور کر سکتی ہے کہ موجودہ حالات میں اس سے بہتر بجٹ پیش نہیں کیا جا سکتا تھا۔ سو یہ دعویٰ اس بار بھی کیا گیا ہے اور ہم ایک بار پھر اس دعوے کو بے بسی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔

مزید : کالم


loading...