نئے مالی سال کا بجٹ:اہداف پر نظر رکھنے کی ضرورت

نئے مالی سال کا بجٹ:اہداف پر نظر رکھنے کی ضرورت

  



وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مالی سال 2015-16ء کے لئے جو بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے، اس کا حجم 44کھرب51ارب 30کروڑ روپے ہے، جس میں 16کھرب 25 ارب روپے کاخسارہ ظاہر کیا گیا ہے، بجٹ میں ٹیکسوں میں ردوبدل کے ذریعے253 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہو گا باقی خسارہ قرضوں سے یا نوٹ چھاپ کر پورا کیا جائے گا۔ بجٹ میں مختلف شعبوں کی مجموعی طور پر سبسڈیز43فیصد تک ختم کر دی گئی ہیں، جبکہ پاور سیکٹر کی سبسڈیز 47فیصد کم کر دی گئی ہیں۔ پاور سیکٹر میں سبسڈیز221 ارب روپے سے کم کر کے 118ارب کی گئی ہیں۔ اِسی طرح 120ارب روپے کے ٹیکس استثنا ختم کئے گئے ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں ساڑھے سات فیصد اور میڈیکل الاؤنس میں 25فیصد اضافہ کیا گیا ہے، کم از کم تنخواہ 13ہزار روپے کر دی گئی ہے، پی ایچ ڈی الاؤنس 10ہزار روپے کر دیا گیا، بجٹ اقدامات سے سگریٹ، مشروبات اور میک اَپ کا سامان مہنگا ہوگا، زرعی اور صنعتی مشینری پر ٹیکس کم کیا گیا ہے، اس لئے اس کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔ پیکٹ والا دہی، مکھن، پنیر، فلیورڈ مِلک اور دیسی گھی کے نرخ بڑھنے کا امکان ہے، صنعتوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کے لئے صوبہ خیبرپختونخوا میں2018ء تک لگنے والی صنعتوں کو پانچ سال کے لئے ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے۔ اس صوبے سے افغانستان کو برآمد کی جانے والی سبزیوں، پھلوں، ڈیری مصنوعات اور گوشت کی قیمت ڈالر کی بجائے پاکستانی کرنسی(روپے) میں وصول کی جائے گی۔ افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کو برآمد کئے جانے والے گھی اور خوردنی تیل کا کوٹہ بڑھا کر 1000میٹرک ٹن ماہانہ کر دیا گیا ہے، ٹیکسٹائل سیکٹر کے لئے64ارب15کروڑ روپے کا خصوصی مالی پیکیج منظور کیا گیا ہے، جس کے ذریعے اس سیکٹر میں2019ء تک برآمدات دُگنا ہو جائیں گی اور30لاکھ افراد کے لئے روزگار پیدا ہو گا۔

نئے مالی سال کے بجٹ میں بھی پہلے کی طرح بیرونی وسائل پر انحصار کیا گیا ہے، بجٹ کا لگ بھگ ایک تہائی قرضوں کے سود کی ادائیگی اور متعلقہ امور (ڈیٹ سروسز) پر خرچ ہو جائے گا، اخراجات کا دوسرا بڑا شعبہ دفاع ہے، خطے کی صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی تیاریاں ہر لحاظ سے مکمل رکھے، بھارت کی حالیہ دھمکیوں کے تناظر میں اس امر کی اور بھی زیادہ ضرورت ہے، چنانچہ دفاعی اخراجات میں اضافہ ضروری تھا، اِسی طرح صوبوں کو ادائیگیاں بھی بڑی رقم ہے جو بجٹ میں سے ادا کی جائے گی، اس طرح مجموعی طور پر 39کھرب 10ارب روپے تو محض ان تین مدوں پر خرچ ہو جائیں گے۔ اگر آئندہ مالی سال میں ایف بی آر نے مقررہ ہدف حاصل کر لیا تو31 کھرب4ارب روپے جمع ہوں گے، تو بھی ایسی صورت میں وفاق کے پاس بینکوں سے قرضہ لینے کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو گا، غیر ملکی قرضوں کی ضرورت بھی رہے گی، قرضوں کی مخالفت اپنی جگہ، لیکن ان پر اس وقت تک انحصار کرنا مجبوری ہے، جب تک ملکی وسائل میں اضافہ نہیں ہو جاتا۔

ملکی وسائل میں اضافے کی دو ہی صورتیں ہیں یا تو پاکستان کی زمینیں سونا اُگلنے لگیں یا پھر زیر زمین جو معدنی دولت ہے اسے زمین سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو جائیں، لیکن ابھی تک اس میں معمولی کامیابی ہوئی ہے۔ ریکوڈک کی سونے، تانبے اور دوسری دھاتوں کی کانوں کا معاملہ کہیں درمیان میں ہی لٹکا ہوا ہے، بات ٹھیکے دینے کے معاملے پر ہی پھنسی ہوئی ہے، شاید کچھ لوگ اس گنگا کے بہنے سے پہلے ہی اس میں ہاتھ دھونا چاہتے ہیں، اس لئے بات تیزی سے آگے نہیں بڑھ رہی۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ٹیکسوں کے ذریعے آمدنی بڑھائی جائے، لیکن گزشتہ دو سال میں ایف بی آر تو نظرثانی ہدف کے مطابق بھی ٹیکس جمع نہیں کر سکا، جو بجٹ میں رکھے گئے ہدف سے کم تھا۔ایسی صورت میں اخراجات کیسے پورے ہوں گے۔

نئے مالی سال کے بجٹ میں جو اہداف رکھے گئے ہیں، ان میں بعض بہت اچھے ہیں، اگر وہ پورے ہو جائیں، اصل ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ بجٹ میں جو اہداف رکھے جائیں اُن پر پوری طرح عمل درآمد بھی ہو، موجودہ بجٹ میں جو وعدے کئے گئے ہیں۔ اگر ان پر کما حقہ عمل ہوتا ہے تو ہم اگلے سال بجٹ پیش کرتے ہوئے زیادہ بہتر مقام پر کھڑے نظر آئیں گے۔ اس وقت سابقہ بجٹ پر بھی ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے، جس میں یہ دیکھا جائے کہ اس کے کون کون سے اہداف حاصل نہیں ہو سکے اور کون سے توقع سے کم حاصل ہوئے، ہر سال کے بجٹ میں کچھ خوشنما وعدے وعید کئے جاتے ہیں، کچھ خوبصورت خواب دیکھے اور دکھائے جاتے ہیں، کچھ ایسے اہداف بھی رکھ دیئے جاتے ہیں جن کا حصول بظاہر ممکن نہیں ہوتا۔ سارا سال اگر مقررہ اہداف کا تعاقب کیا جاتا رہے اور اہداف کا حصول ممکن ہو تو ایک اوسط بجٹ بھی بہت کچھ دے سکتا ہے۔

گزشتہ کئی سال سے حکومتیں دعوے کرتی چلی آ رہی ہیں کہ ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کیا جائے گا، لیکن ایسا اب بھی نہیں ہوا۔ اب بھی بالواسطہ ٹیکس زیادہ وصول کئے جا رہے ہیں اور براہِ راست ٹیکس لگانے سے گریز کیا جا رہا ہے، ٹیکسوں کا سارا بوجھ انہی شعبوں پر ڈالا جا رہا ہے، جو پہلے سے ٹیکس نیٹ میں موجود ہیں۔ نئے ٹیکس گزار تلاش نہیں کئے جا رہے اور اگر کئے جا رہے ہیں تو پھر کہا جا سکتا ہے کہ اس میں کما حقہ، کامیابی نہیں ہو رہی۔ اس مقصد کے لئے کوششوں کو دو چند کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ فیصلہ اچھا ہے کہ ایس آر او کے ذریعے ٹیکس رعائتیں دینے کا اختیار ایف بی آر سے واپس لے کر پارلیمنٹ کو دے دیا گیا ہے، اس طرح پسند و ناپسند کا خاتمہ ہو گا۔ البتہ اب ارکانِ پارلیمینٹ کو یہ ضرور دیکھنا ہو گا کہ وہ اگر کوئی رعایت کسی کو دینا چاہیں گے تو اس کے لئے میرٹ کو ترجیح دی جائے گی، جن ایس آر اوز کو واپس لیا گیا ہے ان میں دی گئی ٹیکس مراعات سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔ ٹارگٹ کے حصول اور نئے ٹیکس گزاروں کی تلاش کے لئے ایف بی آر کو روایتی طریقے چھوڑ کر نئے جذبے سے کام کرنا ہو گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگلے چند سال کے اندر ٹیکس جمع کرنے کا ہدف دوگنا کر لینا کوئی مشکل کام نہیں ہے، جبکہ اس وقت ہم مقررہ اور نظرشدہ ہدف بھی حاصل نہیں کر پا رہے، جب تک ٹیکس کی بنیاد وسیع نہیں ہو گی، ایسا کرنا ممکن نہیں ہو گا، نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا وقت کی ضرورت ہے۔

رواں مالی سال حکومت اس لحاظ سے خوش قسمت رہی کہ اس سال عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بہت زیادہ کم ہو گئیں، جس کی وجہ سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہو گیا، اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں اور اگلے مالی سال میں امکان ہے کہ یہ ذخائر اگر 20ارب ڈالر تک نہیں تو19ارب ڈالر تک ضرور پہنچ جائیں گے، بجٹ میں یہی ہدف رکھا گیا ہے۔ اگر یہ حاصل ہو جائے تو روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مزید مستحکم ہو جائے گا، جو اس وقت بھی اچھی پوزیشن پر ہے اور سال رواں میں ڈالر کی قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے بیرونی قرضوں میں بھی کمی آئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے بجٹ خسارہ کم ہوا، اس سے حکومت کو بھی ریلیف ملا تو عوام نے بھی تھوڑا بہت سُکھ کا سانس لیا کہ انہیں بجلی کے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں ریلیف میسر آیا، ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی کہیں کہیں کم ہوئے اور براہِ راست ایندھن استعمال کرنے والوں کو تو کافی ریلیف میسر آیا، مہنگائی کم ہوئی اور افراطِ زر میں کمی آئی۔ اس وقت بھی عالمی منڈی میں قیمتیں بڑی حد تک مستحکم ہیں، جو تھوڑا بہت اضافہ ہوا ہے وہ قابلِ برداشت ہے، حکومت چاہے تو جی ایس ٹی کم کر کے تیل کی قیمتوں میں ریلیف دے سکتی ہے، اس لئے یہ وقت ہے کہ حکومت ایسے اقدامات اٹھائے جن کے ذریعے معیشت ٹیک آف کر سکے۔ عالمی تجزیہ نگاروں کا بھی یہی خیال ہے کہ ایسے وقت میں معیشت کو مہمیز دی جا سکتی ہے، وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حکومتی اقدامات سے معیشت کو سنبھالا ملا ہے، وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی ہے اور اب اس کے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ تیل کی عالمی قیمتیں اس وقت جس سطح پر ہیں وہاں شاید زیادہ عرصے تک قائم نہ رہ سکیں اس لئے اس سنہری موقع کو ہاتھ سے نہیں نکلنے دینا چاہئے۔

اس وقت امن و امان کی صورتِ حال بھی آپریشن ضربِ عضب کے صدقے گزشتہ برسوں سے بہت بہتر ہے، پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کی قابلِ قدر قربانیوں کے طفیل صورت حال بہتر ہوئی ہے۔ ان حالات میں غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان لائی جا سکتی ہے۔ چین کی46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اپنی جگہ دوسرے ملک کے سرمایہ کاروں کو بھی اس جانب راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ اِسی طرح خود پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھی اپنے سرمائے کو جمود سے نکالنا چاہئے۔ پاکستان کے جن سرمایہ کاروں اور سیاست دانوں نے دبئی، برطانیہ، ملائشیا اور سپین وغیرہ میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اُن کو بھی اپنا سرمایہ وطن واپس لانا چاہئے۔

بجٹ کے موقع پر سیاسی جماعتوں کی طرف سے آنے والا ردعمل عموماً فارمولا فلموں کی طرح ہوتا ہے، جو سیاسی جماعت حکومت مخالف ہے اسے بجٹ میں کچھ اچھا نظر نہیں آتا، جو حکومت کی حامی ہیں انہیں ہر طرف ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے، جبکہ حقیقت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں ہوتی ہے۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے تنخواہوں، پنشنوں وغیرہ میں اضافے کو معمولی قرار دیا ہے اور زیادہ تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن یہ غالباً پہلی دفعہ ہے کہ تنخواہیں مہنگائی کی نسبت زیادہ شرح سے بڑھائی گئی ہیں، کم از کم تنخواہ13ہزار روپے کر دی گئی ہے جو اگر کم ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ پہلے ملکی وسائل بڑھائے جائیں، صنعتوں اور کاروبار کو وسعت دی جائے، روزگار کے وسائل پیدا کئے جائیں، تب تنخواہیں بھی بڑھائی جا سکتی ہیں۔ دُنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ تنخواہیں پہلے بڑھائی جائیں اور معیشت کی ترقی کی جانب توجہ پھر مبذول کی جائے، اس طرح گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنے سے نہ معیشت مضبوط ہو گی، نہ مزید تنخواہیں بڑھائی جا سکیں گی، اس وقت حکومت نے جو کم از کم تنخواہ 12ہزار مقرر کر رکھی ہے اکثر جگہوں پر اس پر بھی عمل نہیں ہوتا، تو کیا اب تازہ اضافے پر عمل درآمد ہو گا، جو بجٹ اسحاق ڈار نے پیش کیا ہے اگر اس کے وعدوں پر پوری طرح عمل ہو گیا تو نہ صرف ان کی حکومت کو سیاسی فوائد حاصل ہوں گے، بلکہ وہ آئندہ کے لئے زیادہ بہتر بجٹ پیش کر سکے گی۔ اگرچہ اپوزیشن جماعتوں سے یہ اپیل تو کی جا سکتی ہے کہ وہ ٹیکس جمع کرنے میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں، لیکن وہ اپنے سیاسی مفادات کو نظر انداز کر کے ایسا کریں گی، تو ان کی سیاست نہیں چل سکتی اس لئے سیاسی سیکٹر سے حمایت ملنے کی زیادہ امیدیں وابستہ نہ کی جائیں۔

مزید : اداریہ