شاہین زمبابوے کے بعد لنکا ڈھال سکیں گے۔۔؟

شاہین زمبابوے کے بعد لنکا ڈھال سکیں گے۔۔؟

  



پاکستان کا دورہ سری لنکا

سری لنکا کیخلاف کامیابی کیلئے ٹیم کو سخت محنت درکار ہوگی

ایشین بریڈ مین ظہیر عبا س آئی سی سی کی صدار ت سنبھالنے کے لئے تیار

زمبابوین کرکٹ ٹیم او ر کوچ کا وطن واپس پر پاکستانی قوم سے اظہار تشکر

پاکستان کرکٹ ٹیم نے زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز کا امتحان تو اپنے نام کرلیا اور اس سیریز میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا اور تقریبا تین سال کے بعد ون ڈے سیریز اپنے نام کرنے کا اعزاز حاصل کیا پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا سب سے زیادہ فائدہ ایک یہ بھی ہوا کہ پاکستا ن کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی کارکردگی پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے اور جس طرح سب کھلاڑیوں خاص طور پر بیٹسمینو ں نے عمدہ کھیل پیش کیا اس کی تعریف کی جانی چاہئیے لیکن اس سیریز کے باوجود ٹیم کو ابھی کئی مراحل طے کرنے ہیں اور جس میں دورہ سر ی لنکا سرفہرست ہے اس دورہ میں پاکستانی ٹیم نے سری لنکا کے خلاف اس کی سر زمین پر کھیلنا ہے زمبابوے کی ٹیم سری لنکا کے مقابلے میں بہت آسان حریف ہے اور پاکستان اپنی سر زمین پربھی نہیں کھیل رہا اس سے سری لنکا کے خلاف سیریز اب قومی کرکٹ ٹیم کے لئے ایک بہت بڑا امتحان ہے چیمپئنز ٹرافی کا انعقاد بھی سر پر ہے اور اس میں شرکت کیلئے پاکستان کو سری لنکا کے خلاف بھی سیریز اپنے نام کرنے کی ضرورت ہے اسی طرح ہی تو پاکستان چیمپینئز ٹرافی ایونٹ میں شرکت کرسکے گا پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے دورہ سری لنکا بہت اہمیت کاحامل ہے او ر ٹیم 9جون کو دورہ کیلئے کولمبو روانہ ہورہی ہے جبکہ پاکستان اور سری لنکا کے مابین کرکٹ سریزکے’’ لوگو‘‘ کی تقریب فلیٹیز ہوٹل لاہور میں منعقد ہوئی جس میں پی سی بی کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکر خان ،ہائر گروپ کے سی ای اوجاوید آفریدی ،چیئرمین برائٹو پینٹس ،عاطف ریاض ،ڈائریکٹر جنید جمشید علی مفتی اورگولڈن پرل کاسمیٹکس کے سی او عبدالرشید بھی شریک تھے ۔اس موقع پر شرکا ء نے پاکستان اور سری لنکا کے مابین سیریز کے ’’لوگو ‘‘کی رونمائی کی اور گروپ فوٹو بنوایا دوسری طرف پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورۂ سری لنکا کے لئے ٹیم کے کھلاڑیوں کا اعلا ن کردیا ہے اور اعلان کردہ کھلاڑیوں میں کئی کھلاڑیوں کی واپسی بھی ہوئی ہے ۔مصباح الحق کو کپتا ن برقرار رکھا گیا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ سرفراز احمد نائب کپتانی کے فرائض سر انجام دیں گے پاکستا نی ٹیم کی اس وقت بہت اچھی کارکردگی ہے اور اس کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر ٹیم کے تما م کھلاڑیوں نے اسی طرح عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا تو سری لنکا کے خلاف اس کی سر زمین پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے کھیلنا مشکل نہیں ہوگا اور ٹیم ضرور کامیابی حاصل کرے گی کپتان مصباح الحق بھی اس حوالے سے پرجوش ہیں او ان کا کہنا ہے کہ ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو اپنے ملک میں کھیلنے کا بہت تجربہ حاصل ہوا ہے اور اس طرح ان کے کھیل میں نکھار پیدا ہوا ہے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کھیل کو اسی طرح تسلسل سے برقرار رکھا جائے اور امید ہے کہ جس طرح کھلاڑی اس وقت کھیل پیش کررہے ہیں اس کو برقرار رکھیں گے سری لنکا ایک مضبوط ٹیم ہے اور اس نے ہمیشہ ہی پاکستان کے خلاف عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا ہے اور اس مرتبہ بھی وہ سخت حریف ہی ہوگی اور اس کیلئے ہم بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گے دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کیلئے ٹیم کے کھلاڑیوں کا اعلان کردیا ہے کھلاڑیوں میں مصباح الحق کو کپتان جب کہ اظہر علی کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔ مزید کھلاڑیوں میں یونس خان، محمد حفیظ، شان مسعود، وہاب ریاض، احسان عادل، جنید خان، یاسر شاہ، ذوالفقار بابر، اسد شفیق، حارث سہیل، احمد شہزاد، عمران خان اور سرفراز احمد شامل ہیں۔قومی ٹیم کے سلیکٹرز نے بنگلہ دیش کے خلاف متاثر کن پرفارمنس نہ دکھانے کے باعث جادوگر اسپنر سعید اجمل کو ڈراپ جب کہ اوپنر احمد شہزاد کو ایک بار پھر موقع دیا ہے۔دوسری جانبچیئرمین پی سی بی شہریارخان نے کہا ہے کہ 2016میں سری لنکا اور بنگلہ دیش سے بھی سیریز کا معاہدہ کر لینگے،نان ٹیسٹ ممالک افغانستان، آئرلینڈ، نیدرلینڈز ٹور کرنا چاہتے ہیں مگر اگلے 8ماہ پاکستانی ٹیم بیحد مصروف ہے۔ انھوں نے کہا کہ رواں ماہ سری لنکا جانا اور پھر زمبابوے روانگی طے ہے، واپسی پر یو اے ای میں انگلینڈ سے میچز ہونگے، اسی وینیو پر بھارت سے سیریز بھی متوقع ہے، پھر ٹیم نیوزی لینڈ چلی جائے گی، آئندہ سال فروری میں ہم پاکستان سپر لیگ بھی کرانا چاہتے ہیں، یوں مارچ، اپریل2016تک کوئی جگہ خالی نہیں ہوگی، شہریارخان نے کہا کہ اے، انڈر 15، 16،19اور ویمنز ٹیموں کے دورے متوقع ہیں، اگست میں بنگلہ دیش نے خواتین سائیڈ کو بھیجنے کا کہا ہے، ان ٹیموں کے جہاں میچز ہونگے انھیں وہیں ٹہرا دینگے۔سیکیورٹی اور آنے جانے کے اخراجات کم ہونگے، سری لنکا کی اے ٹیم بھی جوابی ٹور پر پاکستان آئے گی۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ برس دبئی میں ویٹرنز لیگ ہو رہی ہے۔اس میں برائن لارااور ایڈم گلکرسٹ جیسے پلیئرز بھی موجود ہوں گے، وہ اگر یہاں آ کر کھیلے تو بہت اچھا رہے گا۔دوسری جانب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے پی سی بی کی طرف سے سابق کپتان ظہیر عبا س کو آئی سی سی کے صدر کی حیثیت سے نامز کیئے جانے کے تصدیق کردی ہے ، آئی سی سی نے اپنے اعلامیہ میں کہاکہ ظہیر عبا س کی نامزدگی آئی سی سی کی نامزدگی کمیٹی کو غور کیے لئے بھیجوائی جائیگی اور بعد ازاں منظور ی کے لئے آئی سی سی بورڈ کے21سے 26جون تک بارباڈس میں ہونے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔آئی سی سی کی صدارت کے لئے نامز د ہونے والے سابق کپتان ظہیر عبا س کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کی صدارت کے لئے نامزد ہونا میرے لئے اعزاز کی بات ہے اور کرکٹ کے کھیل کے سفیر کی حیثیت سے آئی سی سی کی نمائندگی کرکے بہت خوشی ہوگی۔67سالہ ظہیر عبا س نے 1969سے لے کر 1985تک 78ٹیسٹ اور 62ون ڈے میچز کھیلے ہیں۔وہ 1975,1983کے ورلڈ کپ میں بھی حصہ لے چکے ہیں اور 14ٹیسٹ میچز اور 13ون ڈے میچز میں پاکستان کی بطور کپتان نمائندگی کرچکے ہیں .ظہیر عباس واحد ایشین بلے باز ہیں جو کہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں سینچریوں کی سینچری بنا چکے ہیں۔آئی سی سی کی صدارت کے لئے نامزد سابق ٹیسٹ کرکٹر ظہیر عباس نے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کے تسلسل کے لئے اپنا رول ادا کریں گے۔ انہوں نے زمبابوے کے دورے کو خوش آئند قرار دیا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کا کہنا تھا پاکستان بھارت ، آسٹریلیا سمیت دیگر ٹیموں کو فول پروف سیکورٹی دینے اور انٹرنیشنل سیریز کے احسن انتظامات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، اب بڑی ٹیموں کو بھی ہمت کرنی ہو گی۔ دوسری جانب سابق چیئرمین اور پی سی بی گورننگ بورڈ کے رکن نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی دسمبر میں شیڈول کرکٹ سیریز مقررہ وقت پر ہوگی۔ نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا کہ پاک بھارت سیریز اپنے مقررہ وقت پر ہوگی۔ بھارتی حکومت نے کھیلوں کو سیاست سے الگ قرار دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ کرکٹ تعلقات بحال کرنے کی بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سیریز بہت اہم ہے اور ہم بھیا س کا خیر مقدم کرتے ہوئے کرکٹ بحالی کے لئے تیار ہیں۔ آئی سی سی کی صدارت چھوڑنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک اس کے لئے کسی سابق کرکٹر کو نامزد کیا جانا ہی بہتر تھا اس لئے دستبرداری کا فیصلہ کیا۔ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ بورڈ کے ممبران نے متفقہ طور پر سابق کپتان ظہیر عباس کا نام فائنل کیا اس حوالے سے کسی نے بھی دوہری رائے کا اظہار نہیں کیا۔ سابق چیئرمین کا کہنا تھا کہ جاوید میانداد کی کرکٹ کیلئے بے پناہ خدمات ہیں مگر ظہیر عباس کے کا مشترکہ فیصلہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ظہیر عباس آئیکون کرکٹر ہیں جنہیں کرکٹ کی خدمات پر ایشین بریڈ مین کا خطاب بھی ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میں یہ فیصلہ نہ لیتا تو کسی بھی ٹیسٹ کرکٹر کو آئندہ دس سال اس عہدے کے لئے انتظار کرنا پڑتادوسری جانب شائقین کرکٹ نے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہونے پر پی سی بی کے چیئرمین شہر یار خان ،سابق چیئرمین نجم سیٹھی ،چیف آپریٹنگ سبحان احمد ،انتخاب عالم ،ذاکر خان اورجی ایم میڈیا آغا اکبر اور دیگر عہدیداران کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔شائقین کرکٹ راؤ اویس چوہان،راؤ عتیق الرحمان ،رانا شبیر احمد ( کامونکی)،سینی ،معمر رانا نے ایک انٹرویو میں کہاکہ پاکستان میں زمبابوے کے خلاف کرکٹ سیریز کا کامیاب انعقاد پی سی بی اور حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہے اور امید ہے کہ دنیا کی دیگر انٹرنیشنل کرکٹ ٹیمیں بھی پاکستان آئیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ پاک زمبابوے سیریز کے دوران دن رات کام کرنے والے پولیس اور دیگر محکموں کے اہلکاران کے لئے انعامات کا اعلان کیا جانا چاہئے۔سیریز کے کامیاب انعقاد میں ان کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان کی کوشش ہے کہ اب زمبابوے کے بعد دیگر غیر ملکی کرکٹ ٹیمیں بھی پاکستان کا دور ہ کریں اور اس کیلئے و ہ مختلف کرکٹ بورڈز کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہیں اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلی جانے والی کرکٹ سیریز کی بات کی جائے تو اس کا انعقاد بھی وقت کیاہم ضرورت ہے اور امید ہے کہ جس طر ح اس شیڈول کو طے کیا گیا ہے اس کے مطابق ہی اس سیریز کا انعقاد بھی ہوگا اور پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل نظر ائیں گی پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوششوں کی تعریف کیجانی چاہئیے جبکہ زمبابوین کرکٹ ٹیم نے نہ صرف پاکستان کا دورہ کیا ہے بلکہ اس نے پاکستانیوں کے دل بھی جیت لئے ہیں اور پوری قوم اس حوالے سے بہت خوش ہے اور اب اس کو کسی اور ٹیم کے آنے ا نتظار ہے اس کے بارے میں کا جارہا ہے کہ سری لنکا کی ٹیم اب پاکستان کا دور ہ کرے گی اور اب جب ٹیم سری لنکا کے دورہ پر جارہی ہے تو پی سی بی کے لنکن بورڈز کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت کے بھی امکانات روشن ہیں اور امید ہے کہ جلد ہی اس بارے کوئی فیصلہ منظر عام پر آجائے گا اور شائقین کرکٹ جنہیں پاکستان میں غیر ملکی کرکٹ ٹیموں کی آمد کاشدت سے انتظار ہے ان کا یہ انتظار بھی ختم ہوجائے گا ضرورت اس بات کی ہے کہ اب پاکستان میں غیر ملکی کرکٹ ٹیموں کی آمد کا سلسلہ شروع ہونا چاہئیے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...