15سال پرانے گھر سیل کرنے کے خلافمتاثرین کا بھرپوراحتجاج

15سال پرانے گھر سیل کرنے کے خلافمتاثرین کا بھرپوراحتجاج

  



لاہور(اپنے خبر نگار سے)لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ایم اے جوہر ٹاؤن کے j-3بلاک میں کئی گھروں کو سیل کر دیا ہے جس کی وجہ سے سیل کیے گئے گھروں کے رہائشی ایل ڈی اے آفس پہنچ گئے اور اتھارٹی کے خلاف شدید نعرے بازے کی۔متاثرین کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ گھر پندرہ سال پہلے خریدے تھے،یہ بیوہ کوٹہ کے پلاٹس ہیں جن پر پندرہ سال پہلے گھر بنائے گئے تھے ان پلاٹوں پر جب گھر بنائے جارہے تھے تو اس وقت ایل ڈی اے نے کیوں نہ ایکشن لیاگھر بنانے واے تو گھر بیچ کر چلے گئے ہیں ہم نے تو ایل ڈی اے کے مکانات سمجھ کر ہی خریدے تھے،اب پندرہ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد ایل ڈی اے کو یاد آیا ہے کہ یہ مکانات غیر قانونی ہیں۔انہوں نے مزید بتا یاکہ کورٹ کے ٓرڈر ہیں کہ مکانات کو ’’ڈی سیل‘‘ کیا جائے،مگر اتھارٹی عدالت کے احکامات کو نہیں مان رہی اور گھروں کو ڈی سیل نہیں کر رہی۔انہوں نے مزید پوچھنے پر بتایا کہ اس جگہ پانچ ہزار کے قریب بیوہ کوٹہ کے مکانات ہیں اس بارے میں جب ایل ڈی اے حکام سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا یہ تمام لوگ غیر قانونی طور پر مکان تعمیر کر کے بیٹھے ہیں جن پلاٹوں پر مکانات یا گھر تعمیر کیے ہوئے ہیں یہ تمام پلاٹ اتھارٹی کے ہیں اس لیے ان کو سیل کیا گیا ہے جوہر ٹاؤن سکیم میں بیوہ کوٹہ صرف فرسٹ فیز میں تھاجو کہ جوہر ٹاؤن سکیم کے بلاک ڈی ون ،ای ون بلاک اور بلاک ای ٹومیں ہیں لہذا جوہر ٹاؤن سکیم کے فیزٹو میں بیوہ کوٹہ نہیں تھاجبکہ سیل کیے گئے گھر بلاک جے تھری میں آتے ہیں،اور یہ بلاک جوہر ٹاؤن کے فیز ٹو میں آتاہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1