ڈیمو کریٹک کمیشن فار ہیومن رائٹس اور سیو دی چلڈرن کی صحافیوں کی تربیتی ورکشاپ

ڈیمو کریٹک کمیشن فار ہیومن رائٹس اور سیو دی چلڈرن کی صحافیوں کی تربیتی ...

  



لاہور(لیڈی رپورٹر ) لاہورڈیمو کریٹک کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ اور سیو دی چلڈرن پاکستان کے زیر اہتمام میڈیا کے نمائندوں کے لئے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد صحاٖفیوں کو بچپن کی شادیوں کے حوالے سے موجود قوانین اور ان کی روک تھام میں میڈیا کے کردار کے حوالے سے بتانا تھاڈیمو کریٹک کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ نے اس تربیت کا اہتمام بچپن کی شادیوں کی روک تھام کے حوالے سے جاری ایک مہم کے تحت کیا تھا۔جنوبی پنجاب اور لاہور سے ملک کے نمائندہ میڈیا گروپس سے تعلق رکھنے والے تیس کے قریب صحافیوں نے اس تربیت میں حصہ لیا۔سینئیر صحافی وقار مصطفی، مہمل سرفراز،اور وکیل لیاقت ایڈووکیٹ نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے میڈیا کے کردار بارے شرکا ء کو آگاہ کیا۔جبکہ ڈائریکٹر ڈیمو کریٹک کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ مس تنویر جہاں بھی ٹریننگ میں شریک تھیں۔مس مہمل سرفراز نے شرکاء کو بچپن کی شادیوں کے نقصانات اور اثرات کے بارے میں ،حساس صنفی رپورٹنگ، اور اس کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل کے پس منظر میں آگاہ کیا۔۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا امتیازی اور صنفی متعصب رپورٹنگ کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔وقار مصطفی نے عوامی مسائل کی رپورٹنگ ،اور حساس موضوعات جیسا کہ مذہب،اقلیت،انسانی حقوق کی خلاف ورزی،پر رپورٹنگ کے حوالے سے صحافیوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے شرکا سے بات چیت کی۔انہوں نے صحافیوں کے اس حوالے سے تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حساس موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہوئے صحافیوں کو خود بھی محتاط رہنا چاہئے،کیونکہ ایک غیر محتاط خبر یا ایک تجزیہ کسی حادثہ کا باعث بن سکتا ہے۔لیاقت علی ایڈووکیٹ نے انسداد کم عمری کی شادی ایکٹ سندھ اور ترامیم پنجاب ایکٹ کے اہم نکات شرکاء کے سامنے پیش کئے ۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر مس تنویر جہاں نے کہا کہ اگر صحافی اور سول سوسائٹی مل کر کام کریں تو بچپن کی شادیوں کی روک تھام ممکن ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...