بجٹ میں کاروبار کی لاگت کم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے‘ مزمل صابری

بجٹ میں کاروبار کی لاگت کم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے‘ مزمل ...

  



اسلام آباد (کامرس ڈیسک) تاجر برادری نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ ایک اجلاس میں بجٹ 2015-16پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئے بجٹ میں کاروبار کی لاگت کم کرنے کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے جس وجہ سے تاجر برادری کیلئے عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنا مشکل ہو گا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبرکے صدر مزمل حسین صابری نے کہا کہ تاجر برادری نئے بجٹ میں سیلز ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے تا کہ کاروبار کی لاگت کم ہو اور کاروباری سرگرمیوں کو بہتر فروغ مل سکے لیکن حکومت نے ان کے مطالبے کو یکسر نظر انداز کر کے کوئی اچھی روایت نہیں ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیلز ٹیکس اس وقت خطے میں بہت زیادہ ہے جس وجہ سے صنعت و تجارت اور برآمدات کو فروغ دینے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد چیمبرنے اپنی بجٹ تجاویز میں ٹیکسوں کی شرح کو کم کرنے کی تجویز دی تھی تا کہ ٹیکسوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے میں سہولت ہو۔ تاہم حکومت نے ایسی تجاویز کو زیر غور لانے کی بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈال دیا ہے جس سے کاروبار کو فروغ دینا مشکل ہو گا اور عوام کیلئے مہنگائی بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئے بجٹ میں کافی بلند اہداف رکھے گئے ہیں جن کو حاصل کرنے کیلئے حکومت کو سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ تاجر برادری ایکسپورٹ انڈسٹری کیلئے زیرو ٹیکس کا مطالبہ کرتی رہی ہے تا کہ برآمدات میں بہتری لائی جا سکے لیکن حکومت نے ٹیکس کم کرنے کی بجائے ایکسپورٹ شعبے پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 2فیصد سے 3فیصد کر دیا ہے جس سے برآمدکنندگان کے مسائل میں اضافہ ہو گا اور برآمدت کو ترقی دینا مزید مشکل ہو گا۔

اسلام آباد چیمبر کے سابق صدور عبدالرؤف عالم اور طارق صادق نے کہا کہ نئے بجٹ میں حکومت نے زراعت، تعمیراتی شعبے اور پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری کیلئے جن مراعات کا اعلان کیا ہے وہ قابل ستائش ہیں کیونکہ ان سے معیشت میں بہتری کی توقع ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پرائم منسٹر یوتھ قرضہ سکیم پر مارک اپ کو کم کر کے 6فیصد تک لا کر ایک اچھا فیصلہ کیا ہے جس سے نوجوان کاروبار کی طرف مائل ہوں گے۔ اس کے علاوہ حکومت نے ٹیوب ویلوں کیلئے بلاسود قرضے فراہم کرنے اور آبای ذخائر کی ترقی کیلئے بجٹ میں رقوم بڑھا کر مثبت اقدامات اٹھائے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی پبلک سیکٹر شعبے کیلئے حکومت نے بجٹ بڑھا کر 700ارب کر دیا ہے جس سے ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز ہو گی۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پبلک سیکٹر شعبے کیلئے مختص بجٹ میں کسی قسم کی کٹوتی کرنے سے باز رہے کیونکہ مالی سال 2014-15کے دوران حکومت نے پی ایس ڈی پی بجٹ میں کٹوتی کی جس وجہ سے کئی ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہوئے۔

مزید : کامرس


loading...