پولٹری انڈسٹری پر سیلز ٹیکس اور امپورٹ ڈیوٹی کو فوری واپس لیا جائے‘ ڈاکٹر محمد کمال

پولٹری انڈسٹری پر سیلز ٹیکس اور امپورٹ ڈیوٹی کو فوری واپس لیا جائے‘ ڈاکٹر ...

  



لاہور( کامرس رپورٹر)پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن ناردرن زون کے چیئر مین ڈاکٹر محمد کمال نے کہاہے کہ پولٹری زراعت کے شعبوں میں سب سے منظم سیکٹرہے ۔ اس وقت پولٹری انڈسٹری کل استعمال ہونے والے گوشت کا 40فیصد حصہ مہیا کررہی ہے، تقریبا 18لاکھ لوگوں کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے اور سرمایہ کاری 700ارب سے زائد ہو چکی ہے۔ اس تناسب سے حکومت کو بھی محاصل ملتے ہیں ۔ پولٹری انڈسٹری معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہے ۔ پولٹری گوشت کا سب سے سستا ذریعہ ہے ۔سالانہ بجٹ 2015-16 5 جون کو پیش کیا گیا۔ اس میں پولٹری فیڈ پر سیلز ٹیکس 5%لگا دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ سویا بین جو کہ پولٹری فیڈ کا اہم جزو ہے اس پر امپورٹ ڈیوٹی 10%اور سویا بین پر سیلز ٹیکس بھی 10% لگا دیا گیا ہے ۔ اس سے انڈے اور مرغی کی قیمتوں پر نہایت منفی اثرات پڑیں گے جس کی وجہ سے انڈے اور مرغی کی پیداواری قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ انڈے اور مرغی ایک ایسا انیمل پروٹین کا ذریعہ ہے جو ہر عام آدمی کی پہنچ تک ہے لیکن اس کی بڑھتی ہوئی قیمت اس کی رسائی کو عام آدمی تک نا ممکن بنا دے گی۔ پولٹری انڈسٹری نے پچھلے پچاس سال میں بہت ترقی کی ہے اور انیمل پروٹین مہیا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلی تمام حکومتوں نے پولٹری انڈسٹری کے ساتھ بھر پور تعاون کیا اور عوام الناس تک کم اور مناسب قیمت میں انڈے اور مرغی کی فراہمی کو یقینی بنایا ۔ امریکہ ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور وہاں تقریبا ایک بلین ڈالرروزانہ کے حساب سے فوڈآئیٹم پر(Subsidy)امداد دی جاتی ہے اس کے برعکس پاکستان میں پیداوری لاگت کی قیمت پولٹری فارمرز پر کتنی ہی کم کیوں نہ ہو جائے حکومت کی طرف سے کوئی امداد یا ریلیف پولٹری فارمرز کو نہیں دیا جاتا۔

جبکہ پولٹری انڈسٹری اپنی مد د آپ کے تحت 10-12%سالانہ ترقی کر رہی ہے اور انیمل پروٹین مہیا کر رہی ہے۔

پاکستان پولٹری انڈسٹری کے چیئر مین ڈاکٹر محمد مصطفی کمال نے پارلیمنٹ سے درخواست ہے کہ پولٹری انڈسٹری پر لاگو کئے گئے سیلز ٹیکس اورامپورٹ ڈیوٹی کو فورا واپس لیا جائے نہیں تو پولٹری انڈسٹری کی پچھلے 50سال کی محنت بے سود ہو جائے گئی ۔ جس کی وجہ سے بہت سے پولٹری فارمز بند ہو جانے کا بھی خدشہ ہے جس کے نتیجے میں انڈے اور مرغیوں کی پیداوار میں کمی واقع ہو گی اور قیمت بڑھنے سے عام آدمی انڈہ اور مرغی خریدنے سے قاصر ہو جائے گا۔

مزید : کامرس