بجٹ میں غریبوں کو کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا گیا،ڈاکٹروسیم اختر

بجٹ میں غریبوں کو کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا گیا،ڈاکٹروسیم اختر

  



لاہور(پ ر)پارلیمانی لیڈرصوبائی اسمبلی وامیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختراور سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ نے وفاقی بجٹ کو مایوس کن بجٹ قراردیتے ہوئے کہاہے کہ یہ بجٹ الفاظ کاہیرپھیراور شعبدہ بازی ہے۔ اس بجٹ میں غریب عوام کو کسی قسم کاکوئی ریلیف نہیں دیاگیا۔ ایسا لگارہا ہے جیسے یہ بجٹ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کوریلیف دینے کے لئے پیش کیاگیا ہے تعلیم،صحت اور سرکاری ملاز مین کونظراندازکیاگیاہے۔

ملازمین اور پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ نہ کرکے غریب ملازمین کامعاشی قتل کیاگیاہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیاجانے والابجٹ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ہدایات پر بنایااور پیش گیا ہے۔جی ڈی پی5.1کے مقابلے میں صرف4.24فیصد تک محدود ہے جس کاواضح مطلب ہے کہ مسلم لیگ(ن)کی حکومت معاشی اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حکمرانوں کو عوامی مسائل کا ادراک ہی نہیں۔نئے ٹیکس لگانے سے عوام کو شدیدمایوسی ہوئی ہے۔ بڑے مگرمچھوں کوٹیکس نظام کے دائرہ کار میں لانے کی بجائے غریب عوام کاخون نچوڑا جا رہاہے۔انہوں نے کہاکہ بجٹ تقریر کے162صفحات پرحکومتی تعریفیں کی گئیں ہیں۔برآمدات میں کمی قرضوں کی ادائیگی کیلئے1300ارب مختص اور ایف بی آر کے ہدف میں تین بار نظر ثانی حکمرانوں کی بدترین کارکردگی کی مثال ہے۔حکومتی اہداف دراصل کاغذی کاروائی ہیں۔جماعت اسلامی پنجاب کے رہنماؤں نے مزیدکہاکہ موجودہ حکومتی پالیسیوں سے صنعت اور زراعت میں کوئی بہتری نہیںآسکتی۔وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے بجٹ میں مراعات یافتہ طبقے کے مفادات کوتحفظ دیاگیا ہے۔نوازشریف حکومت نے معمولی منصوبوں پر بھی قومی خزانے سے تشہیر پربھاری مالی وسائل کابے دریغ استعمال کیاہے۔سبسڈیز میں 105 ارب 64 کروڑ 50 لاکھ روپے کی کمی سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

مزید : میٹروپولیٹن 4