حکومت نے ٹیکسوں میں اضافہ کر کے غریبوں کے ساتھ زیادتی کی،افتخار حسین

حکومت نے ٹیکسوں میں اضافہ کر کے غریبوں کے ساتھ زیادتی کی،افتخار حسین

  



لاہور(لیڈی رپورٹر ) ہیومن رائٹس ویلفیئرفورم کے صدر افتخارحسین نے مالی سال 2015-2016 کے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کے بجائے مزید نئے ٹیکس لگا کر غریب عوام سے عزت کے ساتھ جینے کا حق بھی چھین لیا ہے، وفاقی بجٹ سے مہنگائی کا طوفان آئے گا جس سے غربت بڑھے گی اور خود کشیوں کے رحجان میں بھی اضافہ ہو گا۔گزشتہ روز وفاقی بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ بجٹ عوامی امنگوں کا آئینہ دار نہیں

بلکہ آئی ایم ایف کی ڈیکٹیشن پر تیار کیا گیا ہے اور یہ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے ، زرعی ملک ہونے کے باوجود کسانوں کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ، زرعی ادویات اور آلات پر 17 فیصد ٹیکس لگا کر حکومت نے زراعت اور کسان دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیوب ویلوں کیلئے مہنگی بجلی ، گندم اور چاول کی خریداری میں مڈل مینوں اور بیوپاریوں کے منفی کردار جیسے مسائل نے کسانوں کو خوار کر رکھا ہے اگرچہ پاکستان زرعی ملک ہے اور ہماری معیشت کا زیاد ہ تر انحصار زراعت پر ہی ہے مگر کسانوں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں،چھوٹے کسان مسلسل پس رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ کھاد ،بیج،پانی،بجلی سمیت کسی چیز پر بھی کسانوں کو قابل ذکر رعایت حاصل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کسان ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی وفاقی بجٹ میں حکومت نے کسان کو خوشحال بنانے کیلئے اقدامات نہیں کیے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی مہنگائی کے تناسب سے بہت کم اضافہ کیا گیا ہے،بجٹ میں محنت کش طبقے کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا بلکہ مزید ٹیکس لگا کر غریبوں کو خود کشیاں کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...