کلنٹن فاؤنڈیشن اقتصادی پابندیوں کے دوران ایران کی مالی مدد کرتی رہی،واشنگٹن پوسٹ

کلنٹن فاؤنڈیشن اقتصادی پابندیوں کے دوران ایران کی مالی مدد کرتی رہی،واشنگٹن ...

  



 واشنگٹن(اے این این)امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق صدر بل کلنٹن کی قائم کردہ فلاحی تنظیم ’’کلنٹن فاؤنڈیشن‘‘ ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں کے دوران تہران کی مالی معاونت کرتی رہے ۔ واشنگٹن پوسٹ کے دعوے کے مطابق کلنٹن فاؤنڈیشن نے بھاری امدادی رقوم کے حصول کے لیے سویڈن کی ان فرموں کے ساتھ تعاون کیا جو ایران میں مختلف شعبوں میں کام کرتی رہی ہیں۔ اس میں سویڈش موبائل فون کمپنی"اریکسن" شامل ہیں جس کا "کلنٹن فاؤنڈیشن" کے ساتھ لین دین رہا ہے۔ فاؤنڈیشن کی انتظامیہ کو بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ "اریکسن" کی ایران کی کمپنیوں کے ساتھ بھی شراکت داری موجود ہے۔ یوں اس کمپنی نے "کلنٹن فاؤنڈیشن" کو خاموش رکھنے کیلئے بھاری رقم رشوت میں دی تھی۔رپورٹ کے مطابق "ہیلری و بل کلنٹن فاؤنڈیشن" کی سویڈش شاخ نے "اریکسن" سے 200 ملین کرون کے عطیات صرف اس لیے حاصل کیے تھے تاکہ فاؤنڈیشن ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث تہران پرعائد پابندیوں کو نرم کرنے میں مدد فراہم کرے۔رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر کی تنظیم کو یہ رقم افریقا میں "ایڈز" کی بیماری کی روک تھام اور ہیٹی میں وباؤں کے انسداد پروگرامات کے لیے دی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق سابق صدر بل کلنٹن نے خود بھی چھ ملین کرون کی رقم سویڈش کمپنی سے وصول کی تھی۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم سات لاکھ 50 ہزار ڈالر بنتی ہے۔ "اریکسن" نے یہ رقم صدر کلنٹن کے ہانگ کانگ میں ایک لیکچر کے عوض ایران میں اپنے اقتصادی منصوبوں سے حاصل ہونے والے منافع میں سے ادا کی تھی۔"وکی لیکس" کی خفیہ دستاویزات کے مطابق ایران اور "کلنٹن فاؤنڈیشن" کے درمیان بالواسطہ تعلق اور رقوم کی وصولی کا سلسلہ اس وقت بھی جاری تھا جب ہیلری کلنٹن وزیرخارجہ تھیں لیکن وزارت خارجہ کو اس کے بارے میں کسی قسم کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

مزید : علاقائی


loading...