افغانستان ،بم دھماکوں میں خواتین بچوں سمیت 15افراد جاں بحق،ڈرون حملے میں 20شہری مارے گئے

افغانستان ،بم دھماکوں میں خواتین بچوں سمیت 15افراد جاں بحق،ڈرون حملے میں ...

  



کابل(آئی این پی)افغانستان میں مختلف بم دھماکوں میں خواتین اور بچوں سمیت15 شہری جاں بحق اور 6زخمی ہوگئے جبکہ نیشنل سیکورٹی فورسز کے آپریشن اور ڈرون حملے میں 130 طالبان عسکریت پسند ہلاک اور 61 زخمی ہوگئے ،دورانِ لڑائی 11 افغان فوجی بھی مارے گئے ۔ہفتہ کو افغان میڈیا کے مطابق دارلحکومت کابل میں بم دھماکے میں 2 افراد ہلاک ہوگئے ۔پولیس کاکہنا ہے کہ دھماکہ 12 ویں پولیس ڈسٹرکٹ کی حدود میں ہوا۔افغان نیشنل آرمی کی ایک گاڑی کے ساتھ مقناطیسی بم نصب کیا گیاتھا جسکے پھٹنے سے ایک بچہ اور خاتون شدید زخمی ہوگئے جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے ۔ادھر صوبہ قندھار میں بارودی سرنگ دھماکے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد ہلاک ہوگئے ۔صوبائی گورنر کے ترجمان نے بتایا ہے کہ واقعہ ضلع شاہ ولی کوٹ کے علاقے تگہ ورک میں پیش آیا جہاں شہریوں کی ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی ۔دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں 4 خواتین اور 2 بچے شامل ہیں۔دریں اثناء غزنی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں 7 افراد ہلاک ہوگئے،6 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں ۔ادھروزارت دفاع کے ترجمان جنرل ظاہر عظیمی نے ایک بیان میں بتایاہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ملک میں عسکریت پسندوں کیخلاف جاری آپریشن کے دوران 11 افغان فوجی مارے گئے ۔دریں اثناء وزارت داخلہ کے جاری کردہ بیان میں کہاگیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں نیشنل سیکورٹی فورسز نے 11 مختلف صوبوں میں آپریشن کیے جس میں 96 طالبان جنگجو ہلاک اور 61 زخمی ہوگئے جبکہ 4 کو گرفتارکرلیا گیا ۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آپریشن بدخشاں،جاؤزجان،ارزگان،غزنی،پکتیا،پکتیکا،ہلمند ،قندھار،خوست،تخار اور قندوز میں کیے گئے ۔آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز نے مختلف اقسام کی 28دیسی دھماکہ خیز ڈیوائسز بھی قبضے میں لے کر ناکارہ بنادیں۔شمال مشرقی صوبہ بدخشان میں سینکڑوں طالبان نے حملہ کرکے ضلع یمگان پر قبضہ کرلیا ہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہیں جنھوں نے ضلع کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں۔فوجی حکام کاکہنا ہے سیکورٹی فورسز شہری ہلاکتوں کو روکنے کیلئے ضلع سے پچھے ہٹ گئے ہیں۔ دوسری جانب جنوب مشرقی صوبہ خوست میں طالبان کمانڈر کی نماز جنازہ کے دوران امریکی ڈرون حملے میں 34 مشتبہ طالبان جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ۔ صوبائی نائب گورنرعبدالواحد پاٹن نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈرون طیارے نے صوبے کے ضلع واشر میں ڈیورڈ لائن کے قریب علاقے کو نشانہ بنایا۔پاٹن نے ابتدائی طور پر حملے میں طالبان عسکریت پسندوں کے مارے جانے کے بارے میں بتایا تھا تاہم بعد میں انکا کہنا تھا کہ حملے میں مارے جانے والوں میں کچھ شہری بھی شامل ہیں۔انکا کہنا تھا کہ تمام لوگ افغان فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے طالبان کمانڈر کی نماز جنازہ میں شامل ہونے کیلئے جمع ہوئے تھے کہ اس دوران ڈرون حملہ ہوگیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ڈرون حملے میں تدفین میں شریک افراد کے علاوہ متعدد گاڑیاں اور مکانات بھی تباہ ہوگئے۔دوسری طرف طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈرون حملے میں 20 افراد مارے گے جو عام شہری تھے۔ اس سے قبل گزشتہ روز ننگر ہارمیں2 امریکی ڈرون حملوں میں17افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

مزید : علاقائی


loading...