بجٹ ۔۔۔غریب کا یا امیر کا

بجٹ ۔۔۔غریب کا یا امیر کا
بجٹ ۔۔۔غریب کا یا امیر کا

  



بجٹ پر بحث ابھی تھمی نہیں۔ ابھی تو بحث شروع ہوئی ہے۔ بحث کا نیا پہلو یہ ہے کہ یہ بجٹ امیر کا بجٹ ہے یا غریب کا۔ جناب اسحاق ڈار کا موقف ہے کہ یہ بجٹ غریب کا بجٹ ہے۔ جبکہ اپوزیشن کا مقدمہ یہ ہے کہ یہ امیر کا بجٹ ہے۔ حالانکہ میرے نزدیک اب بجٹ کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے۔ مجھے تو ہر ماہ بجٹ ملتا ہے۔ ہر ماہ کسی نہ کسی چیز کی قیمت بڑھتی رہتی ہے۔ کم بھی ہوتی ہے لیکن ایسا بہت کم ہو تا ہے۔ جب حکومت بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتیں ایک سال کے لئے نافذ نہیں کر سکتی تو اس کا سالانہ بجٹ کس کام کا۔ جب پٹرول کی قیمت، بجلی کی قیمت، گیس کی قیمت سمیت ہر چیز کی قیمت ہر ماہ بدلتی ہے تو مجھے بجٹ سے کیا لینا دینا۔ مجھے اس بجٹ پر کیسے اعتماد ہو سکتا ہے۔جب میں اپنے گھر کا بجٹ ہی نہیں بنا سکتا کہ کب کیا چیز مہنگی ہو جائے تو اس بجٹ کا میری معیشت پر کیا اثر ہے۔ کہتے ہیں ارکان اسمبلی ایوان میں عوام کے نمائندے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ خبر کیا بجٹ کی اہمیت سمجھنے کے لئے کافی نہیں کہ اسی فیصد ارکان اپنی بجٹ دستاویز اسمبلی میں ہی چھوڑ گئے۔ انہوں نے ان دستاویز کو ساتھ لے جانے کی کوشش ہی نہ کی۔

سوال لیکن دلچسپ ہے کہ کیا یہ امیر آدمی کا بجٹ ہے یا غریب آدمی کا بجٹ ہے۔ لیکن اس کے لئے امیر اور غریب کی تعریف کرنا ہو گی۔ وفاقی وزیر خزانہ نے دلیل دی ہے کہ نہ تو گھی مہنگا کیا گیا ہے۔ نہ چینی۔ نہ دودھ مہنگا کیا گیا ہے۔ اس لئے یہ غریب کا بجٹ ہے۔ لیکن اس کے جواب میں یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ ڈبے کا دہی تو مہنگا کیا گیا ہے۔ ڈبے کا دودھ بھی مہنگا ہو جائے گا۔ان کمپنیوں کو تو صرف مہنگائی کا بہانہ چاہئے ہو تا ہے۔ اگر بڑے شہروں کی بات کی جائے تو لوگ اپنی صحت کے حوالے سے کافی سنجیدہ ہو چکے ہیں۔ اس لئے کھلی چیزیں کم ہی استعمال کی جاتی ہیں۔ ویسے بھی کھلے دودھ میں کتنا پانی ہے اس کا بھی کوئی حساب نہیں۔ بلکہ اس کا کوئی قانون بھی نہیں۔ اس لئے شہروں میں ڈبے کے دودھ اور دہی کا استعمال بہت حد تک بڑھ چکا ہے۔ اب سوال ہے کہ یہ لوگ جو اپنی صحت کا خیال رکھتے ہیں اور صحت مند دودھ اور دہی استعمال میں کرنے کی خواہش رکھتے کیا امیر ہیں غریب؟ میرے خیال ایسا کوئی بھی شخص جس کو اپنی صحت کا خیال ہے وہ غریب ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لئے اس پر اتنا ٹیکس لگا دینا چاہئے کہ وہ اپنی صحت کا خیال کرنا چھوڑ دے۔ اسی لئے منرل واٹر بھی مہنگا کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو کے مخالفین بھٹو پر سب سے بڑا الزام یہی لگاتے تھے کہ بھٹو تو پانی بھی فرانس کا پیتا ہے۔ اس دور میں منرل واٹر پاکستان میں نہیں تیار ہوتا تھا اور فرانس سے درآمد کیا جا تا تھا۔ لیکن اب تو ملک میں غریب گنداپانی پینے کی وجہ سے پیٹ اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ حکومت عام آدمی بالخصوص غریب آدمی کو صاف پانی فراہم کرنے میں مکمل طور پر نا کام ہو گئی ہے۔ اور اب اس بجٹ میں منرل واٹر بھی مہنگا کر دیا گیا ہے۔ اب اس کا غریب پر اثر ہو گا کہ نہیں۔ مجھے لگتا ہے بس اسی پر اختلاف ہے۔

اسی طرح اس بجٹ میں گاڑیاں سستی کی گئی ہیں۔ گاڑیوں کی رجسٹریشن اور دیگر ٹیکسوں میں بھی کمی کی گئی ہے۔ اس ملک کا غریب آدمی گاڑی استعمال کرتا ہے اور میٹرو امیر آدمی کے لئے بنائی جا رہی ہے۔ اسی لئے تو گاڑیاں سستی کر کے۔ ان کے ٹیکسوں میں کمی کر کے غریبوں کو ریلیف دیا گیا ہے۔ بنتا تو یہی ہے کہ اب میٹرو کے کرائے بڑھا دئے جائیں۔ کیونکہ اس پر تو امیر ہی سفر کر رہے ہیں۔ غریبوں کے پاس تو اپنی گاڑی ہے۔ ملک کی معاشی حالت سمجھنے کے لئے اتنی بات جاننا ہی کافی ہے کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی ملک کے ترقیاتی بجٹ سے زیادہ ہے۔ بس اتنا ہی سمجھ لیں کہ قرضہ بڑھ رہے ہیں۔

یہ ایس آر اوز کا معاملہ بھی غریب کے لئے ہے اسی لئے تواس میں اتنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔اگر اس سے امیر کا فائدہ ہو تا تو یقیناًاس میں کمی دیکھنے میں آتی۔ حکومت نے میک اپ کا سامان بھی مہنگا کر دیا ہے۔ اب تو غریب اپنی بیگم کو بھی میک اپ نہیں کروا سکے گا۔ سگریٹ پر پھر ٹیکس لگا دیا گیا۔اس بیچارے سگریٹ پر تو ہر بجٹ میں ہی ٹیکس لگا دیا جا تا ہے۔ اس بیچارے سگریٹ کا تو کوئی مقدمہ بھی لڑنے کو تیار نہیں۔ ویسے بھی غریب کو سگریٹ پینا ہی نہیں چاہئے ۔ اس لئے ٹیکس جائز ہے۔ ملک میں بے روزگاری اس وقت ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ڈار صاحب کہہ رہے ہیں کہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے۔یہ کہا جا رہا ہے کہ بیس لاکھ سے زائد موقع پیدا ہونگے۔ اللہ کرے یہ سچ ہو جائے کیونکہ ایک تو مہنگائی اور پھر بے روزگاری انسان کا جینا مشکل ہو جا تا ہے۔ یہ درست ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے ہیں۔ لیکن عام آدمی سوال کر رہا ہے کہ اس کا مجھے کیافائدہ ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ملک نے ڈیفالٹ نہیں کیا ہے۔ لیکن اگر عام آدمی ڈیفالٹ کر رہا ہے تو بھی تو ملک ہی ڈیفالٹ ہی کر رہا ہے۔ بات تو صرف سمجھنے کی ہے۔

مزید : کالم


loading...