بجٹ میں صرف امیروں کو مراعات دی گئیں ،عمران خان، کسان دشمن بجٹ مسترد کرتے ہیں ،آصف زرداری

بجٹ میں صرف امیروں کو مراعات دی گئیں ،عمران خان، کسان دشمن بجٹ مسترد کرتے ہیں ...
بجٹ میں صرف امیروں کو مراعات دی گئیں ،عمران خان، کسان دشمن بجٹ مسترد کرتے ہیں ،آصف زرداری

  



 اسلام آباد (آئی این پی) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے بجٹ کے ذریعے ہمیشہ غریب کو مزید غریب کیا ، (ن) لیگ کے بجٹ میں ہمیشہ غریب کا استحصال کیا جاتا، عام آدمی پر ٹیکس کا بوجھ ڈالا جاتا ہے حکومت نے عوام پر جنرل سیلز ٹیکس کا بوجھ بڑھا دیا ، ، بجٹ میں ساری مراعات پیسے والوں کو دی گئی ہیں، سیل ٹیکس 17سے ساڑھے 12 اور کم سے کم اجرت 13ہزار کی بجائے 15ہزار ہونی چاہیے تھی، گیس پر عائد ٹیکس واپس لیا جائے، حکومت کے ٹیکس وصولی کیلئے کوئی اہم قدم نہیں اٹھایا، حکومت نے ٹیکس چور اور بجلی چور نہیں پکڑے، پاکستانیوں نے 3ماہ میں 38 ارب روپے کی پراپرٹی دوبئی میں خریدی،(ن) لیگ الیکشن میں لوگوں کو خریدتی ہے، یہ اس طبقے پر ٹیکس نہیں لگاتی جو انہیں فنانس دیتا ہے،(ن) لیگ گلگت بلتستان میں ووٹرز کو خرید رہی ہے، کے پی کے میں صنعتی شعبے کو ٹیکس چھوٹ حکومت کا اچھا اقدام ہے۔ وہ ہفتہ کو بنی گالہ میں واقع اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کا بجٹ ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے، یہ بجٹ کے ہدف حاصل نہیں کر سکی، ان کے بجٹ میں امیر کو فائدہ دیا جاتا ہے اور غریب کو دبایا جاتا ہے، اب پھر عوام یہ ٹیکس لگا رہے ہیں اور ان کے بجٹ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ بجٹ کے بعد منی بجٹ آ جاتے ہیں اور ایک طبقہ ایسا ہے جس سے ٹیکس لینے کیلئے کوشش ہی نہیں کی جاتی، اس میں ساری مراعات امیروں کو دی گئی ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس کی وصولیوں میں بھی کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا، ٹیکس چوروں، بجلی چوروں کو نہیں پکڑ سکی، اس کی کمی بھی ٹیکس کی مد میں غریبوں سے پوری کی جا رہی ہے اور بیرون ملک پاکستانیوں کے پیسے لانے کیلئے بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا جبکہ نواز شریف، شہباز شریف نے وعدہ کیا تھا کہ زرداری کا پیسہ باہر سے لائیں گے، اس پر اس لئے کوشش نہیں کی گئی کیونکہ ان کے اپنے پیسے باہر پڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری ختم کرنے کیلئے بھی حکومت نے کوئی اقدام نہیں کیا، عام طبقے کی تنخواہوں میں صرف ساڑھے سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ یہ کم از کم 15فیصد بڑھانا چاہیے تھا۔ عمران خان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کم سے کم اجرت 13ہزار روپے کی ہے، ہم 15ہزار روپے کر رہے ہیں اور ہم سیل ٹیکس ساڑھے 12فیصد پر لا رہے ہیں اور صوبے میں نوکریاں بھی بڑھائیں گے، حکومت کو بھی چاہیے کہ سیل ٹیکس17سے ساڑھے 12پرلے کر آئے اور ہم نے تجویز دی ہے کہ ڈیزل کی قیمت 18روپے کم ہونی چاہیے، اس سے مہنگئای کم ہو گی اور کسانوں کو فائدہ ہو گا اور پیٹرول 6روپے اور کم ہونا چاہیے اور کھاد کی قیمت بھی نیچے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے 12روپے سیل ٹیکس کرنے سے ملک میں سرمایہ کاری آئے گی اور نوکریاں ملیں گی، مہنگائی ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 18کروڑ کی آبادی سے صرف 8لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں، گیس پر عائد ٹیکس واپس لایا جائے، ہم سب زیادہ پیسہ ایف بی آر پر خرچ کریں گے، ہماری تجویز سے کھانے پینے کی ایشیاء کی قیمتوں میں بھی کمی ہو گی، ہم کسانوں پر پیسہ خرچ کریں گے، براہ راست سبسڈی دیں گے اس سے ملک کو فائدہ ہو گا۔عمران خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں 41ہزار امیدوار تھے اتنا بڑا الیکشن تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، اس میں بدنظمی ہوئی ہے، ہم نے تو پہلے ہی مرحلہ وار الیکشن کرانے کی تجویز دی تھی لیکن اس پر کسی نے غور ہی نہ کیا، اب اگر اپوزیشن نہیں مانتی تو ہم پورے صوبے میں ری الیکشن کرانے کو تیار ہیں، ہم نے دھاندلی نہیں کی، ہمیں کوئی خوف نہیں ہے، مسلم لیگ(ن) کو خوف تھا اس لئے اس نے 4حلقے نہیں کھلوائے تھے۔دریں اثناء منڈی بہاؤالدین میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دوبارہ بلدیاتی انتخابات فوج کی نگرانی میں کرائے جائیں،ہم لڑیں گے نہیں بلکہ ملک میں امن کیلئے فرقہ واریت کا مکمل خاتمہ کر دیں گے،جوڈیشل انکوائری کمیشن کی کارروائی جاری ہے، ایک دو ہفتوں میں سب کچھ سامنے آ جائے گا، غریب پر ٹیکس نہیں لگائیں گے بلکہ انہیں ریلیف دیں گے، پاکستان میں غریبوں کے پیسے پر امیر عیاشیاں کر رہے ہیں،وزیراعظم نواز شریف نے چار حلقے اس لئے نہیں کھولے کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے،وہ پاکستان بنائیں گے جہاں باہر سے لوگ نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گے۔ عمران خان نے خیبرپختونخوا میں دوبارہ بلدیاتی الیکشن کرانے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ وہاں دوبارہ فوج کی نگرانی میں انتخابات کرائے جائیں جہاں دھاندلی کے الزامات ہیں وہاں دوبارہ الیکشن کرائے جائیں، میں پوچھتا ہوں کہ اے این پی نے پچھلے پانچ سالوں میں بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرائے،(ن)لیگ، پیپلز پارٹی اور اے این پی اپنے ادوار میں الیکشن کرواتیں تو ہم سیکھ لیتے، ہم نے پہلی مرتبہ بلدیاتی الیکشن کرائے ہیں تو پھر غلطیاں تو ہونی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس نہیں اسے تباہ کیا گیا جبکہ اس کے برعکس ہم نے خیبرپختونخوا پولیس کو بنایا، وہ غیر سیاسی ہے، اس نے ہمارے ہی صوبائی وزیر کو گرفتار کیا۔ عمران خان نے کہا کہ ہمارے ہاں غریبوں کے پیسے پر امیر عیاشی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسا پاکستان بنائیں گے جہاں باہر سے لوگ نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک سے فرقہ وارت کا خاتمہ کردیں گے اور ہم لڑیں گے نہیں بلکہ امن لائیں گے، چھوٹے صوبوں کا احساس محرومی دور کریں گے، غربت کے خاتمے کیلئے پالیسی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 11کروڑ پاکستانی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، ہم ٹیکس پر ٹیکس نہیں لگائیں گے ، ہم امیروں سے پیسہ اکٹھا کریں گے، پاکستان میں 60ارب روپے صرف راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس پرلگا دیا گیا، مغربی ممالک آگے نکل گئے ہیں ہم پیچھے رہ گئے ہیں، پاکستان میں سب سے زیادہ کم رقم تعلیم پر خرچ کی جا رہی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ میں نے نواز شریف سے صرف دھاندلی پر چار حلقے کھولنے کا کہا تھا اس نے نہیں کھولے کیونکہ اسے پتہ تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری نے 2015 کے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے غریب دشمن، کسان دشمن اور سرکاری ملازمین دشمن بجٹ قرار دیا ہے جو وسائل اور مواقع کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کی جانب ایک چھوٹا سا قدم اٹھانے میں بھی ناکام ہے۔ سابق صدر نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا تیسرا بجٹ ایک اکاؤنٹنٹ کا بیان ہے جس میں امیروں کے لئے مراعات دی گئی ہیں جبکہ غریبوں کو دعاؤں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس بجٹ میں کسی قسم کی ٹیکس اصلاحات یا معیشت کی ڈاکومنٹیشن کا کوئی وژن نہیں جبکہ یہی دونوں چیزیں معیشت کی تمام خرابیوں کی جڑ ہیں۔ بجٹ اس بات میں بھی ناکام ہوگیا ہے کہ وہ دولت کے ارتکاز سے پیدا ہونے والی خرابیوں کو دور کر سکے اور دولت اور مواقع کی منصفانہ اور مساویانہ تقسیم کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین خاص طور پر کم تنخواہ دار ملازمین اس بجٹ سے بہت مایوس ہوئے ہیں،کسان بھی پریشان ہوئے ہیں اور مزدور طبقہ حکومت کی جانب سے ان کی مشکلات ناسمجھنے پرمایوس ہے۔ حکومت بین الاقوامی طور پر تیل کی قیمتوں میں کمی کو غربت کے خاتمے کے لئے اور کسانوں کو سہولتیں مہیا کرنے میں ناکا م ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے معاشی ہدف حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اس بجٹ میں جو بڑے دعوے کئے گئے ہیں وہ بھی جھوٹے ثابت ہوں گے کیونکہ حکومت کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ایسا ہی لگتا ہے۔ سابق صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سابق صدر نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ 28مئی 2015 کو آل پارٹیز کانفرنس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان چین معاشی راہداری کو ترجیحی بنیادوں پر بنایا جائے گا لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت اپنے اس وعدے سے مکر گئی ہے۔ حکومت نے پاک چین راہداری کے مغربی روٹ کے لئے جوکہ کے پی کے، بلوچستان کے کم ترقی یافتہ علاقوں سے گزرتی ہے کے لئے پی ایس ڈی پی میں بہت کم رقم مختص کی ہے جو کہ ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ سابق صدر نے حکومت سے کہا کہ وہ اس بارے وضاحت کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ میگا معاشی منصوبوں کی حمایت کی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ حکومت کو ہر صورت میں اے پی سی میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کرنا چاہیے اور اس راہداری کو متنازعہ ہونے سے بچایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غریب دشمن بجٹ ہے۔ جہاں ایک طرف تو حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں کمی نہ کرنے کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے لیکن دوسری طرف بڑی خاموشی سے اس پروگرام کے وسیلہ روزگار اور وسیلہ حق پروگراموں کو بند کر دیا گیا ہے اور غریب لوگوں کو مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کرکے اپنے چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے مواقع سے محروم کردیا گیاہے۔ یہ کسان دشمن بجٹ ہے۔ کسان نہ صرف یہ کہ سیلاب اور غیرمتوقع بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے پریشان ہیں بلکہ وہ حکومت کی جانب سے ان کی فصلوں کی مناسب قیمت نہ دینے پر بھی پریشان ہیں۔ جس وقت بجٹ پیش کیا جا رہا تھا اسی وقت پنجاب میں کسان اپنی مشکلات کے حل کے لئے احتجاج کر رہے تھے۔ حیرت کی بات ہے کہ بجٹ بنانے والوں نے قبائلی علاقے میں ایک یونیورسٹی کی تعمیر کی ضرورت کو قطعی طور پر نظرانداز کر دیا ہے۔ کچھ ہی عرصہ قبل حکومت نے قبائلی علاقے کے لئے مارشل پلان دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ انتہائی حیران کن بات ہے کہ ان تمام باتوں کے باوجود فاٹا کو کوئی یونیورسٹی نہیں دی گئی۔ اس بجٹ کے موقع پر حکومت یہ اعلان بھی کر سکتی تھی کہ اعلیٰ عدالتوں کی عملداری فاٹا میں بھی قائم کی جائے گی۔ سابق صدر نے اس بات کی مذمت کی کہ قبائلی علاقوں کے لئے ترقیاتی منصوبوں کی بجائے حکومت صرف زبانی وعدے کر رہی ہے۔

مزید : صفحہ اول