چینی ،گھی اور بجلی کے نرخ نہیں بڑھائے،امیروں نہیں غریبوں کا بجٹ ہے ،اسحاق ڈار

چینی ،گھی اور بجلی کے نرخ نہیں بڑھائے،امیروں نہیں غریبوں کا بجٹ ہے ،اسحاق ...

  



اسلام آباد (ما نیٹرنگ ڈیسک228آن لائن228اے این این) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اگلے سال کے قومی بجٹ کے حوالے سے متعدد تاثرات اور خبروں کو غلط قرار دیا ہے، متعدد وضاحتیں کی ہیں اور کچھ دعوے بھی کیے ہیں، انہوں نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ تمام آدمی کے استعمال کی کوئی چیز مہنگی نہیں ہوئی بلکہ سب کچھ پہلے کی طرح سستا ہے۔ نئے بجٹ میں غریبوں پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا گیا بلکہ امیر طبقہ ہی سخت فیصلوں کی زد میں آیا ہے، اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالی سال 16 2015-ء کا بجٹ امیروں کیلئے نہیں بلکہ غریبوں کیلئے ہے جس میں غریبوں کو خصوصی مراعات دی گئی ہیں اور گھی،چینی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیاچنانچہ بجٹ میں غریبوں کیلئے بہت کچھ ہے ،پیک دہی اور پنیر کی قیمت بڑھائی، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کم کیا، چھوٹے موبائل سستے ہوئے ، بیرون ممالک بھیجا جانیوالا سیمنٹ مہنگا کیا ، شہدا کی بیواؤں کے ذمہ واجب الادا دس لاکھ روپے کا قرضہ اور سود ختم کر دیا۔ اسحق ڈارنے کہا کہ گلگت بلتستان کیلئے گندم پر سبسڈی ختم نہیں کی گئی ہے اس حوالے سے ایک ٹی وی چینل سے غلط خبر نشر کی گئی اور وہاں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ جی بی کیلئے ساڑھے چھ ارب روپے کی سبسڈی برقرار ہے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ابہام درست نہیں ہے، پٹرول ڈیزل پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا ہے۔ صرف پرانے ٹیکس کو ریگولائز کیا گیا ہے جس میں فرنس آئل بھی شامل ہے ۔ سیمنٹ کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی لگائی ہے اس کاتعلق مقامی سیمنٹ سے نہیں ہے۔ہم سیمنٹ کی مقامی صنعتوں کو بچانا چاہتے ہیں۔ پیکٹ والے دہی پنیرپر ٹیکس لگایاہے کیونکہ اسے امیر استعمال کرتے ہیں دودھ مہنگا نہیں کیا۔ موبائل فون عملاً مہنگا نہیں ہوا صرف مہنگے موبائل پر ٹیکس بڑھایا جو سات سو روپے سے بڑھا کر ایک ہزار روپے کیا ہے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سیکرٹریوں کی تنخواہوں میں دوگنا اضافہ نہیں ہوا ہے بلکہ ان کے پی ایس کے خصوصی الاؤنس میں اضافہ کیا ہے‘ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں عملاً ساڑھے سات فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے کیونکہ میڈیکل الاؤنس میں بھی 25 فیصد اضافہ کیا ہے اور دو ایڈہاک الاؤنس ضم کردیئے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور بیت المال کا بجٹ بڑھا دیا ہے اور سرکاری ملازمین کا انکم ٹیکس کم کر دیا ہے۔ سولر ٹیوب ویل کیلئے ایک لاکھ روپے جمع کرانا ہوں گے باقی دس لاکھ روپے بغیر سود کے قسطوں میں ادا کیا جائے گا۔ شمسی ٹیوب ویل سے کناشتکار کو 1600 روپے بل میں بچت ہوگی۔ سولر ٹیوب ویل بجلی کے ٹیوب ویل سے بھی سستا ہے۔ ملک بھر میں 30 ہزار سولر ٹیوب ویل لگائے جائیں گے اور ہر سال 10 ہزار ٹیوب ویل فراہم کریں گے۔موجودہ بجٹ اقدامات سے 20 سے 25 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ عارضی بے گھر افراد کی بحالی تعمیر نو کیلئے ایک سو پچیس ارب روپے درکار ہیں۔ تقریباً20 سے 22 ارب روپے کا ٹی ڈی پی ٹیکس بڑی کمپنیوں پر عائد کیا گیا ہے جن کی تعداد200 تک ہے۔ یہ تاثر درست نہیں کہ یہ بجٹ امیر دوست ہے بلکہ غریب دوست ہے۔بعد ازاں مختلف سوالوں کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو خصوصی رعایتی پیکیج دیا گیاہے اور یہ پیکیج سیاست سے بالاتر ہے‘ کے پی کے اس پیکیج کا حق دار تھا۔ ہمیں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت سے کوئی دشمنی نہیں، خیبرپختونخوا کے حالات اس کا تقاضا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال ادھار لینے کے بجائے خودکفالت کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ مالیاتی خسارہ آئندہ سال کم کرکے ساڑھے چار فیصد کردیں گے ہم نے مالیاتی خسارہ 8 فیصد سے کم کرکے5 فیصد کیا ہے جو ہماری کامیابی ہے ہم ادھار لے کر خرچ کرنے کے قائل نہیں ہیں قرضوں پر انحصار کم سے کم کریں گے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ بجٹ پرشرمندہ ہوں نہ کوئی افسوس ہے دیانتداری سے عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے ایوان میں بحث کے دوران اچھی تجاویز اور آراء کو بجٹ منظوری سے قبل شامل کیا جائے گا۔ کراچی کی گرین لائن بس سروس کیلئے وفاق معاونت کرے گا۔ یومیہ تین لاکھ مسافر فائدہ اٹھائیں گے30 جون تک 26سو ارب روپے کے ٹیکس محصولات کا ہدف حاصل ہونے کی توقع ہے۔ مردم شماری اگلے سال مارچ اپریل میں ہوگی جس کیلئے رقم مختص کی گئی ہے۔ ایک سوال پر وزیر خزانہ نے وضاحت کی کہ سرکاری ملازمین کوعملاً14 فیصد اضافہ ملے گا۔ ایڈہاک ضم کرنے سے پنشن والوں کو بھی فائدہ ہوگا آپریشن ضرب عضب سے معیشت پر بوجھ پڑا ہے۔ سرکلر قرضے کا بجٹ سے تعلق نہیں ہوتا اس لئے گردشی قرضے کے اعدادو شمار بجٹ میں نہیں ہوتے۔ سرکلر قرضہ 200 ارب سے کم ہے۔

مزید : صفحہ اول