گلگت بلتستان انتخابات میں حکمرانی کے تاج کا فیصلہ کل ہو گا

گلگت بلتستان انتخابات میں حکمرانی کے تاج کا فیصلہ کل ہو گا

  



 گلگت/ (آئی این پی) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات (کل ) پیر کو ہونگے جن میں قانون ساز اسمبلی کی24 نشستوں پر272 امیدوار مدمقابل ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان کانٹے دار مقابلے کا امکان ہے ، تینوں جماعتوں کے امیدواراپنی اپنی کامیابی کیلئے پرعزم ،سیکیورٹی کے سخت انتظامات ‘ایم کیو ایم کا انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں قانون ساز اسمبلی کی24 نشستوں پر272 امیدوار مدمقابل ہیں جبکہ تین بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا۔ا دھر الیکشن کمیشن نے آزادنہ ، منصفانہ اور شفاف انداز میں کرانے کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لئے ہیں۔قانون ساز اسمبلی کی چوبیس نشستوں پر گیارہ سو تیتالیس سے زا ئد پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں جہاں چھ لاکھ سترہ سو سے زائد رائے دہندگان اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ادھر الیکشن کمیشن نے پاک فوج کی نگرانی میں تمام پولنگ اسٹیشنوں کیلئے بیلٹ پیپرز روانہ کر دئیے ۔پولنگ پیر کو صبح آٹھ بجے شروع ہو گی جو کسی وقفے کے بغیر شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔گلگت بلتستان میں انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقراررکھنے کیلئے تما م اضلاع میں فوجی دستوں کوتعینات کر دیا گیا ۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس مقصد کیلئے الیکشن کمیشن اور سول انتظامیہ نے درخواست کی تھی۔دوسری جانب گلگت بلتستان میں انتخابات کیلئے امیدواروں کی انتخابی مہم گزشتہ رات 12بجے ختم ہوگئی۔دوسری جانب گلگت بلتستان قومی موومنٹ نے قانون ساز اسمبلی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ گلگت بلتستان کے صدر عبدالواحد کا کہنا ہے کہ عوام کو مسلکی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش کی جارہی ہے،انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ بھی انتخابات کا بائیکاٹ کریں اور 8جون کو گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ گلگت بلتستان میں حکمرانی کاتاج کس کے سرپرہوگا اس کافیصلہ (کل)پیر کو ہوجائے گا۔گلگت بلتستان کے محکمہ داخلہ نے دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت عوامی اجتماع ، ریلیوں ، اسلحے کی نمائش ، ہوائی فائرنگ ، متنازعہ نعرے بازی اور لاوڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی لگا دی ۔آخری روز تمام جماعتو ں کے رہنماؤں نے انتہائی زور دار انتخابی مہم چلاتے ہوئے بڑے جلسے کئے اور عوام سے اپنی پارٹی کے امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے اور انہیں فتح دلانے کی اپیل کی ۔

مزید : صفحہ اول


loading...