ہر بجٹ اعدادوشمار کا گورکھ دھندا، عوام کے لئے نہیں!

ہر بجٹ اعدادوشمار کا گورکھ دھندا، عوام کے لئے نہیں!

  



تجزیہ: چودھری خادم حسین

بجٹ ہر سال آتا اور ہر مرتبہ یہی کچھ ہوتا ہے جو اب ہو رہا ہے۔ وفاقی ہو یا صوبائی یہ الفاظ کا گورکھ دھندا ہوتے ہیں اور ماہر بابوؤں نے اسے تیار کیا ہوتا ہے۔ وفاقی بجٹ کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے کہ این ایف سی اور متعدد دوسرے امور کی وجہ سے صوبوں کے بجٹ اس کے مرہون منت ہوتے ہیں، ہر بجٹ کے پیش ہو جانے سے پہلے اور بعد میں اس پر تبصرے اور تجزیئے ہوتے رہتے ہیں اور چند روز کے بعد سب اسی تنخواہ پر کام کرنے لگتے ہیں، جبکہ بجٹ کے پرت آہستہ آہستہ کھلتے چلے جاتے ہین، اس بجٹ کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں، قرضوں کا حصول اور ادائیگی بھی ساتھ ساتھ ہے اور ترقیاتی ترجیحات بھی سامنے ہیں، اس کے باوجود بہت کچھ پس منظر میں ہے۔

یوں تو بجٹ کا انتظار ہر شعبہ زندگی کو ہوتا ہے تاہم مقررہ آمدنی گروپ (فکس انکم گروپ) میں سے سرکاری ملازم بہت انتظار کرتے ہیں ہر سال ان کی طرف سے تنخواہوں میں اضافے کا انتظار اور پھر مایوسی ہوتی ہے۔ اس بار بھی یہ شرمندہ ہیں کہ وزیرخزانہ نے کمال مہربانی سے صرف 7.5 فیصد اضافہ عنایت فرمایا ہے جسے سرکاری ملازمین نے مسترد کر دیا کہ مہنگائی کی شرح میں اضافے سے اس کا کوئی مقابلہ ہی نہیں، ملازمین کی طرف سے زیادہ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور احتجاج بھی ہو رہا ہے۔

بجٹ پر یہ سب ہوتا رہے گا اسی دوران گلگت بلتستان میں عام انتخابات اور منڈی بہاؤ الدین میں ضمنی الیکشن ہو رہے ہیں اور سیاسی جماعتوں میں کشمکش جاری ہے جو خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے ہے۔ عمران خان اس سلسلے میں اپنے بیانات میں بات آگے بڑھاتے جا رہے ہیں۔ پہلے دھاندلی تسلیم نہیں کی گئی۔ پھر کہا گیا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ پھر بولے جو حلقہ کہیں کھول دیں گے اور اب بڑے فخر سے کہہ رہے ہیں سب کہتے ہیں تو پھر دھاندلی ہوئی ہوگی۔ سب مل کر اتفاق رائے سے طے کر لیں ہم دوبارہ انتخابات کرا دیتے ہیں یہ پیشکش توبڑی فراخدلانہ ہے لیکن اس کے وفاقی انتخابات والے موقف سے مختلف ہے، ان کو یاد کرنا چاہیے کہ وہ 2013ء کے انتخابات کے بارے میں کیا کہتے چلے آ رہے ہیں، اس لئے بہتر عمل یہ ہے کہ سب حضرات پہلے حالات کا جائزہ لیں اور دریافت کرتے جائیں کہ کیا کیا خرابی ہے اور پھر فوری طور پر پارلیمنٹ کی انتخابی اصلاحات کمیٹی کے کام کی رفتار کو ’’جیٹ رفتار‘‘ بنا دیں۔ خوب غور کریں اور بہترین پیکیج تیار کرکے پارلیمنٹ کے ایوانوں سے منظور کرائیں کہ تنازعات ختم ہوں، قومی امور پر توجہ دی جائے، ہر ایک کی اپنی رائے ہوتی ہے اور اسے حق حاصل ہے کہ وہ اس کے مطابق عمل کی کوشش کرے جمہوریت میں بہتر عمل یہ ہے کہ اتفاق رائے ہو جائے۔ کوئی امر ایسا نہیں جس میں یہ سب نہ ہو سکے۔

جہاں تک بجٹوں کا تعلق ہے تو عوام ہمیشہ مایوس ہوتے اور ہوتے رہیں گے اس کے باوجود وہ اپنی پسند کو نہیں چھوڑ سکتے کہ سب پارٹیاں اور راہنما سامنے ہیں ووٹ تو بہرحال دینا ہے۔ تازہ بجٹ بھی عوام کے لئے نہیں، کیا انوسٹی گیٹنگ رپورٹنگ والے ایک کھرب 22ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ واپس لینے کی تفصیل تلاش کرکے عوام کو آگاہ کر سکتے ہیں کہ جن جن شعبوں سے یہ چھوٹ ختم ہوگی وہ سب یہ بوجھ عوام پر ہی منتقل کریں گے اور یوں یہ جانیں کہ یہ ایک کھرب 22ارب کے ٹیکس عوام پر ہی لگائے گئے ہیں۔

مزید : تجزیہ


loading...