فرنیچر پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے ،تربیتی منصوں میں کوئی بے ضابطگی نہیں

فرنیچر پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے ،تربیتی منصوں میں کوئی بے ضابطگی نہیں
 فرنیچر پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے ،تربیتی منصوں میں کوئی بے ضابطگی نہیں

  



لاہور(انوسٹی گیشن سیل) پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ذیلی ادارہ اور وفاقی ادارہ برائے صنعت کے ماتحت کام کرنے والے فرنیچر پاکستان کے چیف ایگزیکٹو افسر فیصل شمیم کا کہنا ہے کہ فرنیچر پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔بعض حاسدین دانستاً ادارے کی بدنامی کا باعث بننے کی کوشش کررہے ہیں۔محکمے میں ہر کام باقاعدہ طے شدہ طریقے سے متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد ہوتا ہے۔روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل شمیم کا کہناتھا کہ وہ ملک کے اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل اور بین الاقوامی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فرائض انجام دینے کے بعد فرنیچر پاکستان میں میرٹ پر انہیں جی ایم اور بعد ازاں چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ ان کا کہناتھا کہ 18ویں بورڈ میٹنگ کے تمام ممبران انہیں تحریری طورپر سی ای او تسلیم کرتی ہے۔اورعدالت بھی ان کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے۔فیصل شمیم کا کہناتھا کہ انہوں نے ڈیڑھ برسوں کے دوران پشاور ، سرگودھا اور چینوٹ میں تین مشترکہ تربیتی، پیدواری مراکز قائم کئے اور زیر تربیت طلبہ کو ماہانہ 4ہزار روپے فی کس وظیفہ بھی دیا۔صرف یہی نہیں بلکہ ملک میں پہلی بار لکڑی خشک کرنے کی بھٹیاں لگائیں گئیں۔پہلے ہی دوماہ کے اندر 30لاکھ روپے کا ریونیو اکٹھا کیا۔اور فرنیچر ایسوسی ایشن کے مطالبے پر ورلڈ کلاس لکڑی سبسڈائز ریٹ پر رجسٹرڈ ترکھانوں کو فراہم کی۔فیصل شمیم نے مزید بتایا کہ ہالینڈ کی مشہور زمانہ ڈونر ایجنسی پم نے پہلی بار پاکستان میں 36مفت مشن رکھنے کی منظوری دی۔جہاں بیرون ملک سے آئے ٹرینر تربیت دینگے اور دیگر معاملات کی نگرانی کرینگے۔انہوں نے بتایا کہ جاپان کی حکومت نے فرنیچر پاکستان کے لیے22کروڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری دی ہے۔ جو کہ ادارے کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فیصل شمیم کا کہناتھا کہ SEM اور ثیکار کی مشینری خرید کر ایک طرف حکومت کو 8کروڑ روپے کا فائدہ پہنچایا گیا تو دوسری طرف شعبے سے وابستہ افراد کو اعلیٰ معیار کی تکنیکی معاونت فراہم کی۔فیصل شمیم کا کہناتھا وہ خود گھوسٹ ملازمین کے خلاف ہیں۔اور اس سلسلے میں سیاسی ناراضگی مول لیتے ہوئے تحریری طورپر متعلقہ حکا م کو آگاہ بھی کرچکے ہیں۔ انہوں نے ملازمین کو خلاف ضابطہ ترقی دینے کے الزام کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ۔انہوں بے بتایا کہ جب وہ فرنیچر پاکستان میں آئے تھے تو محکمے کے پاس اپنا کوئی بھی سنٹر موجود نہیں تھا۔ اور انہوں نے انتھک کوششوں سے سرگودھا پشاور ، چنیوٹ وغیرہ میں سنٹر قائم کئے ۔اور مہنگے داموں اراضی بیچنے کی کوشش کرنے والے ایک سابق ممبر بورڈ آف ڈائریکٹر کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہوئے سستے داموں پوری اراضی خریدی۔جس کے ثبوت موجود ہیں۔ان کا کہناتھا کہ سٹائل جنریشن نامی کمپنی سے مشینری کی خریداری ان کے آفس کی بجائے منسٹری سے ہوئی ہے۔ان کا کہناتھا کہ تربیتی منصوبوں میں کسی قسم کی بے ضابطگی نہیں پائی جارہی ۔ ایک ماڈیول کے لیے جس قدر تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی قدر دی جاتی ہے۔اور تمام ٹرینیز کو ماڈیول میں شامل تمام تربیتی کورس کرنا ہوتے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ ان کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرنے میں سابق ماتحت فنانس مینجر احمر اصغر کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔جواس سے قبل بھی ان کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرچکے ہیں۔ اور پھر ان الزامات پر تحریری طورپر معافی بھی مانگ چکے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...