وہ وقت جب بینک کی معمولی غلطی نے غریب آدمی کو کروڑ پتی بنا دیا

وہ وقت جب بینک کی معمولی غلطی نے غریب آدمی کو کروڑ پتی بنا دیا
وہ وقت جب بینک کی معمولی غلطی نے غریب آدمی کو کروڑ پتی بنا دیا

  



 سڈنی(نیوز ڈیسک) آسٹریلیامیں ایک شراب خانے کے ویٹرکو اے ٹی ایم مشین میں تکنیکی خرابی نے کروڑ پتی بنا دیا اور مشکل سے گزر بسر کرنے والا شخص نوٹوں میں کھیلنے لگا۔

یہ گذشتہ سال نومبر کی بات ہے جب انتیس سالہ ڈین سانڈرز ایک رات دوستوں کے ساتھ ہلہ گلا کرنے باہر نکلا۔ جب اسے رقم کی ضرورت پیش آئی تو قریبی اے ٹی ایم پر پہنچا لیکن یہ دیکھ کر مایوس ہو گیا کہ اس کے اکاؤنٹ   میں محض 3 ڈالر کی رقم تھی۔

ڈین نے اس کے باوجود 200 نکالنے کی کوشش کی اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ بیلنس نہ ہونے کے باوجود اے ٹی ایم مشین نے اسے 200 ڈالر عنایت کر دیئے۔

اسی رات اس نے ایک اور جگہ سے اپنا بیلنس دیکھا اور پہلے ہی کی طرح 200ڈالر مزید نکلوا لئے۔

اب ڈین حیران ہونے کے علاوہ نہایت خوش بھی تھا کہ اس کااکاؤنٹ  خالی ہونے کے باوجود نوٹ دھڑا دھڑ نکل رہے تھے۔

اگلے کچھ دنوں میں اس نے ہزاروں ڈالر نکال لئے اور عیش و عشرت میں رقم اڑانا شروع کر دی۔

جب اس کے پاس مشکوک طریقے سے دولت آنے کی خبریں گرم ہوئیں تو اسے ملازمت سے بھی فارغ کر دیا گیا اور اس کی محبوبہ نے بھی اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔

ڈین نے یہ غم غلط کرنے کے لئے مزید رقم نکلوانا شروع کر دی اور بالآخر کل 16 لاکھ ڈالر (تقریباً 16کروڑ پاکستانی روپے)اڑا لئے۔

وہ کسی بھی اور ارب پتی کی طرح پرائیویٹ جہاز استعمال کرتا اور دنیا کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں خوب عیش وعشرت کرتا رہا لیکن ساڑھے چار ماہ بعد ہی اسے احساس جرم نے ستانا شروع کر دیا اور بالآخر وہ ایک نفسیات دان کے پاس مدد کے لئے پہنچ گیا۔ بعد ازاں بینک کو اس کی خبر ہونے کے بعد پولیس نے اس کی گرفتاری کے لئے وارنٹ جاری کر دیاہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے نکلوائی گئی رقم کا اندراج ڈین کے اکاؤنٹ  میں نہیں ہو رہا تھا جس کے باعث وہ کروڑوں لوٹنے میں کامیاب ہو ا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس