خوش رہنے والے جوڑوں کے ہاں بچوں کی پیدائش زیادہ ہوتی ہے:تحقیق

خوش رہنے والے جوڑوں کے ہاں بچوں کی پیدائش زیادہ ہوتی ہے:تحقیق
خوش رہنے والے جوڑوں کے ہاں بچوں کی پیدائش زیادہ ہوتی ہے:تحقیق

  



واشنگٹن (اے پی پی)عمومی تاثر یہی پایاجاتاہے کہ ہنسی خوشی رہنے والے افراد کے ہاں زیادہ بچے پیداہوتی ہیں لیکن اب ایک تحقیق نے بھی یہ بات ثابت کردی ہے کہ ہنسی خوشی رہنے والے جوڑے کا کنبہ بڑا ہوتاہے ۔

'ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی' سے وابستہ ماہرین نفسیات کی حالیہ تحقیق کے مطابق جو مرد اور عورتیں اپنی زندگی میں زیادہ خوش اور مطمئن تھے ان کے بچوں کی تعداد زیادہ تھی۔محققین جن ہایانگ کم اور جاشوا ہکس نے کہا کہ بچے صرف خوشی کا ایک ذریعہ نہیں ہیں بلکہ خوشی خود مستقبل میں افزائش نسل کے ساتھ جڑی ہوئی ہے،مطالعے میں ایک ٹھیک ٹھاک تعلق کی بات کی جارہی ہے اور نتائج کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ ازدواجی تعلقات کی حیثیت کا بچوں کی پیدائش اور خوشی کے درمیان پائے جانے والے تعلقات میں اہم کردار ہے۔ انہوںنے دو سرووں میں 559 امریکی وکلاء مرد اور خواتین کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔ 1984 میں کئے جانے والے اس سروے میں وکلاء نے اپنی زندگی میں اطمینان کو درجہ دیا تھا۔دوسری بار 1990 میں شرکاء سے رابطہ کیا گیا اور اس بار ان سے پوچھا گیا کہ ان کے کتنے بچے ہیں۔

ایک بھارتی گاؤں جہاں مرد متعدد شادیاں کرتے ہیں، وجہ ایسی کہ جان کر آپ کو بھی یقین نہ آئے گا

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ تجزیاتی رپورٹ میں شرکاء کی آمدنی، عمر اور جنس جیسے دیگر عوامل کو شامل کرنے کے بعد بھی جو لوگ پہلی بار رابطہ کے وقت زیادہ خوش اور مطمئین تھے ان کے بچوں کی تعداد زیادہ تھی۔ مطالعے کے دوسرے حصے میں ماہرین نے 1995 اور دوسری بار 2004 اور 2006 میں 5000 امریکیوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جس سے ظاہر ہوا کہ جن لوگوں نے پہلی بار خوشی اور اطمینان کے لیے زیادہ نمبر حاصل کئے تھے ایک دہائی کے بعد ایسے لوگوں کے بچوں کی تعداد زیادہ تھی۔دوسرے سروے میں ماہرین نے خوشی کی مختلف شکلوں کا جائزہ لیا اور نتائج میں زیادہ مثبت سوچ، اطمینان کی شرح اور زندگی میں معنی اور مقاصد کو آزادانہ طور پر بچوں کی تعداد کے ساتھ منسلک کیا گیاتاہم ان کا کہنا تھا کہ خوشی کس طرح افزائش نسل کی حوصلہ افزائی کرتی ہے یہ وجوہات اب بھی نامعلوم ہے۔

مرد زیادہ بولتے ہیں یا خواتین؟سائنسدانوں نے پول کھول دیا

مطالعے کا ایک دلچسپ پہلو یہ تھا کہ ماضی کی خوشی اور بچوں کی تعداد کے درمیان تعلقات ان لوگوں میں کمزور تھے جو سروے کے آغاز میں ایک بچے کے والدین تھے۔اس کمزور تعلق کی ممکنہ وجوہات کے حوالے سے ڈاکٹر کم اور ہکس نے کہا کہ ایک بچے کی پیدائش کے بعد والدین سے منسلک حقیقت پسندانہ مسائل خوشی اور رجائیت کے ان اثرات کو زائل کر دیتے ہیں جن کی وجہ سے والدین میں اضافی بچوں کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس