کس چیز نے ان خواتین کو صحرا کے بیچوں بیچ اپنے کپڑوں سے نجات حاصل کرنے پر مجبور کر دیا ؟ حیرت انگیز حقیقت جانئے

کس چیز نے ان خواتین کو صحرا کے بیچوں بیچ اپنے کپڑوں سے نجات حاصل کرنے پر مجبور ...
کس چیز نے ان خواتین کو صحرا کے بیچوں بیچ اپنے کپڑوں سے نجات حاصل کرنے پر مجبور کر دیا ؟ حیرت انگیز حقیقت جانئے

  



دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) دین کے معاملات میں جبر اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے لیکن جب انسانوں پر بندوق کے زور پر دین مسلط کیا جائے تو اس کا نتیجہ مثبت کی بجائے منفی برآمد ہوتا ہے، جس کی ایک تازہ ترین مثال وہ شامی خواتین ہیں جنہیں داعش نے گولی کے زور پر برقعہ پہنایا۔

عالمی میڈیا میں ان شامی خواتین کی تصاویر گردش کررہی ہیں جو داعش کے زیر قبضہ علاقے سے نجات پا کر کرد علاقے میں داخل ہوئیں تو زبردستی پہنائے گئے برقعے اتار پھینکے۔ ترکی کی سرحد کے قریب کرد ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقے روجاوا میں داخل ہوتے شامی شہریوں اور خصوصاً برقعے اتارتی خواتین کی کچھ تصاویر کیمرہ مین شیروان درویش نے بنائیں، جو زبردستی نافذ کی جانے والی شریعت کے نتائج کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ درویش کے ساتھ موجود صحافی جیک شاین نے جریدے ”میل آن لائن“ سے بات کرتے ہوئے بتایا، ”یہ خواتین، بچے اور مرد داعش کے زیر قبضہ علاقے سے فرار ہورہے تھے اور جیسے ہی یہ کرد علاقے میں پہنچتے تو خواتین خود کو برقعوں سے آزاد کردیتیں، گویا کہ وہ پھر سے آزادی کی سانس لے رہی ہوں، گویا کہ وہ تاریکی کو خود سے اتار کر پھینک رہی ہوں، اور بالآخر آزاد ہونے پر مسرت محسوس کررہی ہوں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...