جواں ہمت نوجوان لڑکی جسے درندوں نے اس کے باپ کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایالیکن اس نے ہار ماننے کی بجائے کچھ ایسا کیا کہ دنیا کو حیران کردیا

جواں ہمت نوجوان لڑکی جسے درندوں نے اس کے باپ کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ ...
جواں ہمت نوجوان لڑکی جسے درندوں نے اس کے باپ کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایالیکن اس نے ہار ماننے کی بجائے کچھ ایسا کیا کہ دنیا کو حیران کردیا

  



کیپ ٹاﺅن (نیوز ڈیسک) جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی جیس فورڈ کو 21 سال کی عمر میں حیوان صفت مردوں کے ایک گروہ نے ان کے والد کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا لیکن انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے سانحہ کو روگ بنا لینے کی بجائے غیر معمولی ہمت سے کام لیا اور نہ صرف خود اعتمادی سے جینا شروع کردیا بلکہ اپنی شناخت کو خفیہ رکھنے سے انکار کرتے ہوئے خواتین کو جنسی درندوں کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ دینے کا علم بھی بلند کردیا۔

اخبار ”میٹرو“ کے مطابق جیس اپنے والد کے ساتھ چہل قدمی کررہی تھیں کہ بدقماش مردوں کے گروہ نے انہیں گھیر لیا۔ درندوں نے جیس کے معمر والد کو ایک درخت کے ساتھ باندھ دیا اور اس کے بعد ان کے سامنے ان کی بیٹی کی عصمت دری کرتے رہے۔ اس واقعے کے بعد وہ نہ صرف شدید نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگئیں بلکہ ایڈز، ٹی بی اور دیگر بیماریوں کے خدشے کے تحت انہیں درجنوں ادویات کا استعمال طویل عرصے تک کرنا پڑا جس کی وجہ سے ان کی صحت بھی شدید متاثر ہوئی۔ اس تمام ابتلاءکے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور پھر سے جینے کا عزم لے کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔ قانون کے تحت انہیں یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنی شناخت خفیہ رکھتیں لیکن انہوں نے یہ کہہ کر دنیا کے سامنے آنے کا اعلان کردیا کہ وہ جنسی درندوں کے سامنے چھپنا نہیں چاہتیں اور دیگر خواتین کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ شرم کی بات ان کے لئے نہیں بلکہ ان کی عزت پر حملہ کرنے والوں کے لئے ہے اور وہ بدکردار مجرموں سے چھپیں گی نہیں بلکہ سربلند کرکے جئیں گی۔

انہوں نے خواتین میں آگاہی کے لئے ایک مہم کا آغاز بھی کیا اور ان کے والد نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ جب گزشتہ سال 28 سالہ نوجوان جوناتھن سے جیس کی شادی ہوئی تو ان کے والد خود ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں مہمانوں کے سامنے لائے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے فرشتہ صفت والد نے انہیں ہمت دی جس کے باعث وہ آج ایک پرعزم زندگی گزاررہی ہیں، اور جس کے بغیر شائد وہ زندہ نہ رہ پاتیں۔ جیس کو قدرت نے دو جڑواں بچوں کی نعمت سے بھی نواز دیا ہے جن کے نام لیلیٰ اور دانیال رکھے گئے ہیں۔ ان کی عصمت دری کرنے والے مجرموں کو مجموعی طور پر 107 سال قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔

مزید : انسانی حقوق


loading...