مقبول ترین ، زندگی بدل دینے والا ناول۔۔۔ قسط نمبر 52

07 جون 2017 (14:03)

ابویحییٰ

یہ ایک عظیم تباہی کا منظر تھا۔ ہر طرف آگ بھڑک رہی تھی۔ شعلوں کا رقص جاری تھا۔ جلتے ہوئے مکانات اور املاک سے اٹھنے والے سیاہ بادل آسمان کی بلندیوں کو چھورہے تھے۔ فضا میں آہیں، چیخیں اور سسکیاں بلند ہورہی تھیں۔ زمین بے گناہوں اور گناہگاروں کے خون سے رنگین تھی۔ انسانوں کو بے دریغ مارا جارہا تھا۔ گھروں کو لوٹا جارہا تھا۔ خواتین کی ناموس گلی کوچوں میں پامال ہورہی تھی۔ یروشلم کی گلیوں میں ہر طرف عراق کے طاقتور ترین حکمران بخت نصر کے فوجی دندناتے ہوئے پھررہے تھے۔ ان کے سامنے ایک ہی مقصد تھا۔ بنی اسرائیل کے اس مقدس ترین شہر اور اس کے باسیوں کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیں۔
اس افراتفری اور ہنگامے میں کچھ سپاہی ایک کمانڈر کے ہمراہ گھوڑوں پر سوار تیزی سے ایک سمت بڑھے جارہے تھے۔ شہر کے کونے میں بنے جیل خانے کے قریب پہنچ کر وہ رکے اور اپنے گھوڑوں سے اتر کر کھڑے ہوگئے۔ ان کا کمانڈر آگے بڑھا اور جیل خانے میں موجود قیدیوں کی سمت دیکھتے ہوئے پکارا:

مقبول ترین ، زندگی بدل دینے والا ناول۔۔۔ قسط نمبر 51 پڑھنےکیلئے یہاں کلک کریں
’’تم میں سے یرمیاہ کون ہے؟‘‘
اس کی بات کا کوئی جواب نہیں آیا، لیکن تمام قیدیوں کی نظریں ایک پنجرے کی طرف اٹھ گئیں جہاں ایک قیدی کو پنجرے کے اندر انتہائی بے رحمی سے رسیوں سے جکڑ کر رکھا گیا تھا۔ کمانڈر کو اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا۔ اس نے سپاہیوں کی سمت دیکھا۔ وہ تیزی سے آگے بڑھے۔ پنجرے کو کھولا اور یرمیاہ نبی کو رسیوں کی قید سے رہائی دلائی۔ وہ اتنے نڈھال تھے کہ زمین پر گر پڑے۔ کمانڈر ان کی سمت بڑھا ۔وہ ان کے سامنے پہنچ کر کھڑا ہوگیا اور نرمی سے کہا:
’’یرمیاہ! تم ٹھیک تو ہو۔‘‘
قیدی نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ مگر شدتِ ضعف سے ان کی آنکھیں پھر بند ہوگئیں۔ کمانڈر نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے فخر کے ساتھ کہا:
’’یرمیاہ تمھاری پیش گوئی پوری ہوگئی۔ ہمارے بادشاہ بخت نصر شاہِ عراق نے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ آدھی آبادی قتل ہوچکی ہے اور آدھی آبادی کو ہم غلام بناکر اپنے ساتھ لے جارہے ہیں۔ مگر تمھارے لیے بادشاہ کا خصوصی حکم ہے کہ تمھیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔ تم ایک سچے آدمی ہو۔ تم نے اپنی قوم کو بہت سمجھایا، مگر وہ باز نہ آئی اور اب اس نے اس کی سزا بھگت لی۔‘‘
یہ کہہ کر وہ پیچھے مڑا اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا:
’’یرمیاہ کو چھوڑدو اور باقی قیدیوں کو قتل کردو۔ اس کے بعد اس شہر کے آدمیوں کے لہو سے اپنی پیاس بجھاؤ اور ان کی عورتوں سے اپنے خون کی گرمی کو ٹھنڈا کرو۔ جو چیز ہاتھ آئے اسے لوٹ لو اور جو باقی بچے اسے آگ لگادو۔‘‘
قیدیوں کو قتل کردیا گیا اور سپاہی لوٹ مار کے لیے دوسری سمتوں میں نکل گئے۔ یرمیاہ علیہ السلام پوری قوت مجتمع کرکے اٹھے اور پنجرے کی دیوار کا سہارا لے کر بیٹھ گئے۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کا شہر جل رہا تھا۔ ان کے جسم کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا، مگر اس سے کہیں زیادہ درد انھیں اپنی قوم کی ہلاکت کا تھا۔
پھر اسکرین پر ان کی زندگی اور ان کے دور کے کئی مناظر ایک ایک کرکے سامنے آنے لگے۔ وہ قوم کے اکابرین اور عوام کو سمجھارہے تھے۔ مگر ان کی بات کوئی نہیں سن رہا تھا۔ ان کی قوم عراق کے سپر پاور بادشاہ اور آشوریوں کے زبردست حکمران بخت نصر کے تابع تھی۔ سالانہ خراج بخت نصر کو بھیجنا ہی ان کی زندگی اور عافیت کا سبب تھا۔ اس غلامی کا سبب وہ اخلاقی پستی تھی جو قوم کے رگ و پے میں سرایت کرگئی تھی۔ توحید کے رکھوالوں میں شرک عام تھا۔ زنا اور قمار بازی معمول تھی۔ بددیانتی اور اپنے لوگوں پر ظلم ان کا چلن تھا۔ جھوٹی قسمیں کھاکر مال بیچنا اور پڑوسیوں سے زیادتی کرنا ان کا معمول تھا۔ یہ لوگ بھاری سود پر قرض دیتے۔ جو مقروض قرض ادا نہ کرپاتا اس کے خاندان کو غلام بنالیتے۔ علما لوگوں کی اصلاح کرنے کے بجائے انھیں قومی فخر میں مبتلا کیے ہوئے تھے۔ ایمان، اخلاق اور شریعت کے بجائے ذبیحوں اور قربانیوں کو اصل دین سمجھ لیا گیا تھا۔ ان کے حکمران ظالم اور رشوت خور تھے۔ انصاف کے بجائے عیش و عشرت ان کا معمول تھا۔ مگر پوری قوم اس بات پر جمع تھی کہ ہمیں بخت نصر کی غلامی سے نکل کر بغاوت کردینی چاہیے۔ حقیقت یہ تھی کہ ان پر خدا کا غضب تھا، مگر ان کو یہ بات بتانے کے بجائے قومی فخر اور سلیمان و داؤد کی عظمتِ رفتہ کے خواب دکھائے جارہے تھے۔ انھیں امامتِ عالم کی دہائی دی جارہی تھی حالانکہ وہ بدترین ایمانی اور اخلاقی انحطاط کا شکار تھے۔
پھر اسکرین پر وہ منظر سامنے آیا جب یرمیاہ علیہ السلام پر وحی آئی کہ اپنی قوم کی اصلاح کرو۔ انھیں سیاست سے نکال کر ہدایت کی طرف لاؤ۔ ایک دفعہ سچی خدا پرستی پیدا ہوگئی تو سیاست میں بھی تمھی غالب ہوگے۔ انھیں حکم تھا کہ وہ شادی کرکے گھر بسانے کے بجائے قوم کو آنے والی تباہی سے خبردار کریں۔ مگر جب یرمیاہ علیہ السلام یہ پیغام لے کر اٹھے تو ہر طرف سے ان کی مخالفت شروع ہوگئی۔ خدا کے اس نبی نے اپنے زمانے کے عوام و خواص، اہلِ مذہب اور اہلِ سیاست سب کو پکارا، مگر گنتی کے چند لوگوں کے سوا کسی نے ان کی بات نہ سنی۔ ان کی دعوت بالکل سادہ تھی۔ بخت نصر سے ٹکرانے کے بجائے اپنے ایمان و اخلاق کی اصلاح کرو۔
اسکرین پر سب سے زیادہ ڈرامائی منظر وہ تھا جب یرمیاہ نبی بادشاہ کے دربار میں لکڑی کا جوا (ہل کا وہ حصہ جو جانوروں کو جوتنے کے لیے ان کے گلے پر ڈالا جاتا ہے) پہن کر پہنچ گئے تھے۔ یہ ان لوگوں کو سمجھانے کی آخری کوشش تھی کہ اس وقت تم پر لکڑی کا جوا ڈلا ہوا ہے اسے توڑنے کی کوشش کرو گے تو لوہے کے جوے میں جکڑدیے جاؤ گے۔ مگر درباریوں اور اہل علم نے ان کو بخت نصر کا ایجنٹ قرار دے دیا۔ بادشاہ نے آگے بڑھ کر لکڑی کا جوا تلوار سے کاٹ ڈالا۔ اس کے ساتھ ہی فیصلہ ہوگیا۔ اب ان کے گلے میں لوہے کی بیڑیاں ڈالی جائیں گی۔
اللہ کے اس نبی کو بخت نصر کا ایجنٹ قرار دے کر بطور سزا پہلے کنویں میں الٹا لٹکایا گیا اور پھر ایک پنجرہ میں باندھ دیا گیا۔ بخت نصر کے خلاف بغاوت کردی گئی۔ جواب میں بخت نصر عذاب الٰہی بن کر ٹوٹ پڑا۔ پھر اسکرین پر وہی پہلا منظر آگیا جب عذاب کی بارش سے یروشلم نہارہا تھا۔ یرمیاہ علیہ السلام نے آنکھیں کھول کر ارد گرد پڑی بے گور و کفن لاشوں اور چاروں طرف رقصاں تباہی کے مناظر پر ایک نظر ڈالی اور بلند آواز سے کہا:
’’میں نے تم لوگوں کو کتنا سمجھایا ۔ مگر تم نے سیاسی شعبدہ بازوں اور متعصب جاہل مذہبی لیڈروں کی پیروی کو پسند کیا۔تم حق و باطل کے معاملے میں غیر جانبدار رہے۔ تم معاشرے کے خیر و شر اور خدائی احکام سے بے نیاز ہوکر زندگی گزارتے رہے۔ آخرکار اس کی سزا سامنے آگئی۔‘‘
پھریرمیاہ نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور دھیرے سے بولے:
’’عدلِ کامل کا دن آئے گا۔ ضرور آئے گا۔ مگر کچھ انتظار کے بعد۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے ساتھ ہی منظر ختم ہوگیا اور ایک زوردار ڈانٹ فضا میں بلند ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا غصہ اپنے عروج پر تھا۔ ان کے نبی کے ساتھ جو کچھ بنی اسرائیل نے کیا تھا اس کی جو سزا بخت نصر کی صورت میں انہوں نے بھگتی تھی وہ بہت معمولی تھی۔ اصل سزا کا وقت اب آیا تھا۔ حکم ہوا ہر اس شخص کو پیش کیا جائے جو کسی درجے میں بھی یرمیاہ کے ساتھ کی گئی اس زیادتی میں شریک تھا۔
بادشاہ امرا اور مذہبی لیڈروں کا وہ گروپ پیش ہوا جو اس سانحے کا ذمہ دار تھا۔ ان میں سزا دینے والے بھی تھے اور وہ بھی جو یرمیاہ علیہ السلام کو بخت نصر کا ایجنٹ قرار دے کر ان کے خلاف فضا ہموار کررہے تھے۔ ان سب کے لیے جہنم کا فیصلہ سنادیا گیا۔ پھر اس کے بعد ایک ایک کرکے اس زمانے کے عوام کا احتساب شروع ہوا۔ نبی کے مجرموں کا احتساب جس طرح ہونا چاہیے تھا ویسے ہی ہوا اورہر مجرم کے لیے بدترین سزا کا فیصلہ ہوگیا۔(جاری ہے)

مقبول ترین ، زندگی بدل دینے والا ناول۔۔۔ قسط نمبر 53پڑحنے کیلئے یہاں کلک کریں

(ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ کئی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوچکے ہیں۔ابو یحییٰ نے علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ آنرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا ایم فل سوشل سائنسز میں ہے۔ ابویحییٰ نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ قرآن مجید پر ایک تحقیقی کام کررہے ہیں جس کا مقصد قرآن مجید کے آفاقی پیغام، استدلال، مطالبات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)

مزیدخبریں