رحمت کو زحمت مت بنا ئیے!

رحمت کو زحمت مت بنا ئیے!
رحمت کو زحمت مت بنا ئیے!

  

حضرتِ فا طمہ الزہرہؓ، ام المو منین حضرتِ خدیجہؓ ، سیدہ بی بی سکینہؓ اور سیدہ زینبؓ صرف نام نہیں بلکہ بیٹی، بیوی اور بہن کا استعارہ ہیں۔مگر ان سب رشتوں میں لقب رحمت صرف بیٹی کو عطا ہو ا ہے۔حضرتِ ابو ہریرہؓ سے حدیثِ مبا رکہ روا یت ہے: ’’جب اللہ تعا لیٰ نے مخلو ق کو پیدا کیا تو اس نے اپنی کتاب میں لکھا جو اس کے پا س عرش پر رکھی ہو ئی ہے کہ میرے غضب پر میری رحمت غالب ہے‘‘۔۔۔ بیٹی جیسی رحمت کے لیے مگر ہم کتنے کم ظرف وا قع ہو ئے کہ جس چا درِ رحمت کو اختیار کر نا جس قدر آ سان تھا اسے ہما ری کم نصیبی نے کس قدر مشکل بنا دیا۔کہا وت ہے۔ ’’ایک بیٹی اپنے والد کی شفقت بھری با نہوں سے نکل کر بڑی ہو سکتی ہے، مگر والد کے دلِ درد مندسے کبھی با ہر نہیں نکل سکتی‘‘۔

اللہ نے جب سے نور نظر عطا کی، زندگی ایک نئے ڈھب سے شروع ہو چکی، گو یا چادرِ رحمت دراز ہو چکی ہے۔کارو بارِ زندگی میں مقاصد کی جستجو ئیں تو بہت تھیں مگر اب ایک نئی جستجو میں مبتلا ہو گیا ہوں، یہ ا پنے بچپن کی کھو ئی ہو ئی جستجو ہے، اپنے گذرے ہو ئے بچپن کی چا ہ ہے، جو شب و روز یا دوں سے محو ہو گئے وہ ایک با رپھر ہاتھ آ ئے ہیں گو یا فطرت اور ایک چھو ٹے سے بچے کو بیک وقت اشا روں کنا یوں اور اندازوں کی زبان میں سمجھ رہے ہیں، لطف و عنا یت کا ایک پو را دفتر کھل چکا ہے۔

میرا مشا ہدہ ہے سما جی طور پر بیٹیوں کے سلسلے میں خوف کی سا ئیکا لو جی پیدا ہو ر ہی ہے جوروز بروز بڑھ بھی ر ہی ہے، سب کو بیٹا ہی چا ہئے کیونکہ سب کو زیا دہ سے زیا دہ اقتصا دی تحفظ کی فکر کھا ئے جا رہی ہے اور سب کی منشا ہے کہ اپنے نو نہا لوں کے ذریعے زیا دہ سے زیادہ ملا زمتوں کا حصول ممکن بن سکے۔ یہ کو ئی آ ج کا مخمصہ نہیں ہے، بر سوں سے بر صغیر کی معا شرت میں یہ رچ بس سا گیا ہے، حتٰی کہ ہما را ادب تک اس اپروچ سے محفوظ نہیں، میں آ ج بھی جب اس موضوع پر سوچتا ہوں تو مجھے یاد آ تا ہے کہ بڑی اللہ آ مین سے لڑ کے کی پیدا ئش کا ذکر تو مجھے قراۃ العین حیدر کے نا ول آ گ کا دریا میں پہلی دفعہ پڑ ھنے کو ملا تھا۔ مگرذ ہن میں رہ رہ کے اب تک یہ خیال آ تا تھا کہ جنم جنم سے یہ امتیا زی رویے اب تعلیم اور شعور سے کچھ مدھم پڑ رہے ہیں مگر ہم جس سما ج کے با سی ہیں یہاں تو گنگا روز ازل سے الٹی بہہ رہی ہے ،سب کچھ مر دا نہ ہے سب کچھ، اقتصادی تحفظ بھی شا ید مر دوں کی اسی نفسیات سے مشروط نظر آ تا ہے، سما جی عزت و وقار میں اضا فہ بھی مر دوں کا مرہونِ منت سمجھا جا تا ہے اوریہاں عورت کا کر دار محض ہر کا میاب مرد کے پیچھے کھڑے ہو نا ہے، کیونکہ مر دوں کے معا شرے میں کا میابی محض مر د کے کھو نٹے سے بند ھے رہنے کا نام ہے۔کا میا بی عزت اور شہرت کے معا ملے میں عور ت کا مر د سے آ گے نکلنا نا ممکن ، بر ابری بھی مر د انہ معا شرے کے بس سے با ہر ہے، ہاں البتہ مر د کے پیچھے پیچھے جگا لی کرنا اس کی کل کا ئنات بنا کر ٹھہرا دی گئی ہے۔ یہ رویہ ہمیں مذ ہب ، لینگو یج، کلچر ، نصاب، روزگار اورمیڈیا سب جگہ اسی مر دا نہ سینہ زوری کی یاد دلا رہا ہے۔ٹیکسٹ بک کھول کے پڑ ھ لیں سارے ہیروز ما شا اللہ مرد ہیں کہیں بھو لے سے بھی عورت ذات کو بہتر کرداروں میں متعارف نہیں کرایا جا تا،مردِ مو من، مردِ حق ، ضربِ مو من، ہمتِ مرداں مدد خدا ،حا لا نکہ اصل محا ورے کے ساتھ کسی کسی مرد نے کھیلواڑ کیا ہے۔۔۔God helps those who help themselves۔۔۔اس میں کہاں ہمت مرداں کا ذکر ہے ؟زر اور زمین کی وجہ سے جھگڑے ہو تے ہیں مگر کسی سطحی ذہنیت نے اس محاورے میں زن کا ذکر چھیڑ دیا ہے حقیقت یہ ہے زن کے معاملے میں حضرت انسان شروع سے بدنیت وا قع ہو ئے ہیں۔

اخبا ر میں خبر بنا تے ہو ئے بھی مرد اخبار نویس اپنی مردا نہ جبلت سے مغلوب نظر آ تے ہیں، خبر کی فریمنگ یوں کی جا تی ہے کہ عورت ہی صرف آ شنا کے ساتھ بھا گتی ہے، آ شنا کے ساتھ بھا گنے وا لی چار بچوں کی ماں صرف عورت ہی ہو تی ہے ،وہ جو بد کردار شخص اس عورت کو بہلا پھسلا کر بھگا کر لے گیا اس کا ذکر کہیں نہیں سنیں گے، نہ اس کا کو ئی بچہ تھا، نہ یہ اپنی ذمہ داریوں سے بھا گا ہے اور نہ ہی اس کا کردار سما ج پر کا لا دھبہ ہے، مرد اس کا لے کام میں بر ابر کا شریک جرم ہو تا ہے مگر ’’کا لی‘‘ صرف عورت قرار پا تی ہے،یہ سب مر دانہ اپروچ کا کیا دھرا ہے۔

تا ریخ سا ری مردوں کے کا رنا موں سے بھر ی پڑی ہے۔کیا عورتیں اتنی ہی نکمی واقع ہو ئی ہیں؟ نہیں جناب مردوں کے غلبے کی تا ریخ صرف مردوں نے لکھی ہے اس لیے عورتوں کاکو ئی خا ص کر دار نہیں، دو سری حقیقت یہ بھی ہے جب عورتوں کو یکساں موا قع اور مقابلے کا ہموار میدان سیا ست، قیا دت اور سما جی میدان میں نہیں ملے گا تو لا محا لہ عور تیں قو می زند گی اور تا ریخ میں کیسے جگہ بنا ئیں گی؟ نئی مردم شما ری میں خواتین 48.6 فی صدہیں لیکن روز گار اور معاشی ترقی کے مختلف شعبوں میں خواتین کا حصہ انتہا ئی کم ہے۔

آ با دی کے مقا بلے میں خوا تین کے روز گار کی شرح 20فی صد ہے۔Employment to Population Ratio (EPR) بتا رہا ہے کہ پاکستانی معیشت کے لئے 80فی صد خواتین کسی بھی طرح کی لیبر یا خد مات سر انجام نہیں دے رہیں اور یہ معیشت پر بو جھ سے زیا دہ کچھ نہیں۔یہ اعداو شمار گلو بل جینڈر گیپ انڈ یکس کی گذشتہ پانچ سا لہ رپورٹ سے ہیں۔ آ ئی ایم ایف کی رپورٹ ہے اگر پاکستان میں خواتین کے روز گار کی شرح مردوں کے برابر ہو جا ئے تو پا کستا نی معیشت کے ڈی جی پی کا حجم 75 فی صدبڑ ھ جا ئے۔

آئی ایل او کی جائزہ رپورٹ ہے کہ پا کستان میں خواتین اور مردوں کے درمیان صنفی امتیاز محض 25فی صد بھی کم ہو جا ئے تو جی ڈی پی 9 فی صدبڑ ھ جا ئے گا ، اس کا مطلب ہو گا 139 بلین ڈا لرز اور یہ سو لہ سال میں پاکستان کو ملنے وا لی امریکی امداد (33بلین ڈالرز) 100 بلین ڈا لرز سے بھی زیا دہ ہو گی۔

صرف اتنا سوچ لیجئے کہ پاکستان میں چین کی سر ما یہ کا ری اور قرضے (60ارب ڈالر)بھی اس سے کم ہیں۔ایک اور پہلو عورتوں کے صبر اور حکمت کا بھی ہے۔آپ سرکارﷺ پر نبوت کا اظہار ہوا تو حضرت خدیجہؓ سے ذکر کیا اور انہی سے حو صلہ اور مدد

ملی، مگرآ ج کل مسجد کے منبرپر قا بض مولوی شا ید یہ سب بھول چکا ہے۔رمضان کی بر کت سے مسجد کا رخ کیا وعظ میں سیدہ فا طمہ الزہرہؓ، اہل بیت اور امہات المو منین کا تذ کرہ سنا ، پھر ہا تھ اٹھا کر اجتما عی دعا کا حصہ بنا با ر با راولادِ نرینہ کی دعا اللہ کے حضور پیش کرنا مجھے صنفی امتیاز محسوس ہوا او ر میں نما زیوں کی اس بڑی اللہ آ مین کے پر شور بھنور میں یقین کریں بہت خو فزدہ ہو گیا ،ہا تھ دعا سے گرا کرچپکے سے یہ سو چتا ہوا با ہر نکل آ یا کہ نا انصا فی کا کا روبار تو خا نہ خداور در گا ہوں پر ہو رہا ہے جہاں دعا ئیں، منتیں اور چڑ ھا وے بھی نرینہ اولاد کے لیے ما نگے جا تے ہیں۔

اب آ خر میں ایک اور بات جو کہنی لا زمی ٹھہری وہ ہے بیٹیوں کے رشتے سے آ گے بڑ ھ کر بہنوں کی نعمتِ لا زوال !ہم میں سے جوبہنوں سے نو ازے گئے ہیں بہت زبر دست قسمت وا لے واقعہ ہو ئے ہیں یقین کریں اگر گھر میں بہنیں ہو ں تو زندگی میں بڑے سکون اور نر می کا احسا س ہمیشہ ہو تا ہے۔۔۔

مزید :

رائے -کالم -