حصولِ اقتدار: باری یا اکثریتی ووٹوں سے؟

حصولِ اقتدار: باری یا اکثریتی ووٹوں سے؟
حصولِ اقتدار: باری یا اکثریتی ووٹوں سے؟

  

آئندہ عام انتخابات کا اعلان ہونے سے جمہوری نظام کے تسلسل کی پیش رفت بلاشبہ ایک مثبت اقدام ہے۔ متعلقہ تمام سیاسی رہنماؤں کو یہ حقیقت ذہن نشین رکھنا ہوگی کہ ان کی ترجیح ، کسی خاص سیاسی جماعت یا اتحاد کی طرف زیادہ یا غیر منصفانہ جھکاؤ کی بجائے، ملکی مفاد کے حصول پر خصوصی توجہ مرکوز کرنا، نسبتاً ضروری اندازِ فکر و عمل ہے۔

جمہوری اقدار کا قیام و استحکام، تاحال یہاں عوام کی توقعات کے مطابق مضبوط اور گہرا نہیں ہو سکا، اس لئے سیاسی قائدین کو موجودہ خامیوں اور کوتاہیوں کی نوعیت اور روایت سے نجات حاصل کرنے کی خاطر اپنے عزائم اور کاوشیں، درست سمت میں آگے بڑھانا ہوں گی۔

آج کل، ملک کے سیاسی ماحول میں غیر جمہوری عناصر کی غیر آئینی دلچسپی اور مداخلت سے، جمہوری اور آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں جو مشکلات اور رکاوٹیں حائل لگتی ہیں، ان کو خوش اسلوبی اور پُرامن حالات میں عبورکرنا ہی بہتر سیاست کاری کا تقاضا ہے۔

اگر بعض مقتدر یا مفاد پرست افراد، جمہوری سرگرمیوں کی پُرامن اور آزادانہ پیش رفت کے عمل میں اپنی من مانی اور چالبازی کے ذریعے، کسی دیگر مختلف روش پر مبنی اپنا کردار ادا کرنے پر راغب اور خواہش مند ہیں تو ظاہر ہے کہ ایسے خواب دیکھنے کا رجحان ، محبت وطن لوگوں کو ختم اور کم کرنے کی بھرپور کوششیں، بروئے کار لانے پر زور دینا ہوگا۔

بدقسمتی سے، اس سرزمین پر بعض غیر ملکی طاقتوں اور اداروں کی جانب سے آئے دن ملک دشمن سازشوں اور تخریبی منصوبوں کی عمل داری سے ،دہشت گردی کے واقعات رونما کئے جانے کی اطلاعات پڑھنے اور سننے میں آتی رہتی ہیں۔ ان کو روکنے کے لئے خلوصِ نیت اور باہمی اتفاق و اتحاد کے مظاہرے لازمی تقاضے ہیں۔

جمہوری سرگرمیوں کی مسلسل آئین و قانون کے تحت کارکردگی کو کامیاب بنانے کے لئے غیر جمہوری عناصر کے مہروں کے راستے روکنے کا عزم و کردار اپنایا جائے، نیز اس اہم ذمہ داری کو ہوش مندی سے پورا کیا جائے۔وطن عزیز کو سیاسی استحکام پر لانے کے لئے معاشی میدان میں خودانحصاری کے معیار پر لانے کی ضرورت ہے۔

سی پیک کے منصوبوں کی مخالفت اور چین سے باہمی مفاہمت سے دور رکھنے کی خاطر، بعض ملک دشمن قوتیں، اپنے سوچے سمجھے عزائم کے تحت، منفی اور تخریبی کارروائیاں، منظم اور مسلسل انداز سے تاحال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے اہداف کے حصول کے لئے سیاسی رہنماؤں کو ملک میں امن و امان اور جمہوری اصولوں کو ترجیحی بنیادوں پر اختیار کرنا ہو گا۔

بصورت دیگر غیر جمہوری عناصر اور ان کے مہرے تو حصول اقتدار اور اپنے مخصوص مفادات کی حرص و ہوس میں، اگر پارلیمنٹ میں اکثریتی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو پھر جمہوری اقدار اور اصولوں کو بدقسمتی سے یہاں نظر انداز کرکے آمرانہ طرز عمل کے اقدامات کو دوبارہ رائج کیا جا سکتا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ اکثر اوقات اپنا اثر و رسوخ، غیر جمہوری عناصر کی تائید و حمایت سے قائم کرکے اسے بڑھاتی اور مستحکم کرتی ہے، لیکن ایسے طرزِ حکومت سے ملکی وقار و احترام کو خاطر خواہ حد تک دھچکا لگنے سے قومی مفادات کو نقصان پہنچتا ہے۔

گزشتہ چند سال سے بعض ناکام سیاست کار، اس امر کا شکوہ کررہے ہیں کہ فلاں سیاسی رہنما نے اقتدار میں چار باریاں لے لی ہیں اور کسی دیگر جماعت کے قائد نے تین بار، ملکی اقتدار پر قبضہ کئے رکھا، لیکن ان کی باری تاحال نہیں آئی۔ وہ اس بارے میں اپنی محرومی کا اگرچہ مختلف اوقات میں اظہار کرتے رہتے ہیں، لیکن ان کا یہ مطالبہ اگر آئین و قانون کے تحت درست اور جائز ہے تو وہ بلاشبہ کسی متعلقہ سرکاری ادارے یا عدالت مجاز سے رجوع کرکے اپنی اس خواہش کی برآوری کے لئے تگ و دو کر سکتے ہیں،جبکہ ہر بالغ طبع اور باشعور شخص جانتا ہو گا کہ ملک بھر میں وفاقی اور صوبائی سطحوں پر لوگوں کے مسائل اور مشکلات کے حل کے لئے مختلف ادارے اور محکمے موجود ہیں۔

جہاں ان کے افسران اور ماتحت ملازمین ، حکومتی پالیسیوں کے مطابق، عوام کے مسائل حل کرنے اور ان کی زندگی آسان کرنے کے اقدامات کی منصوبہ سازی اور عملی کارکردگی سرانجام دیتے ہیں، تاکہ عوام کی تکالیف اور پریشانیوں کے سدباب کے لئے قومی وسائل استعمال کرکے اور اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے متعلقہ مشکلات کو ختم یا کم کیا جائے۔

سطور بالا میں بعض ناکام سیاست کاروں کی اقتدار کے بڑے عہدوں سے تاحال محرومی کو دور کرنے میں عوام کی بے لوث خدمت ہی سب سے بہتر اور موثر اندازاور کامیاب راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔ صرف زبانی وعدے جھوٹے دعوے، دیگر سیاست کاروں پر شب و روز الزامات کی بوچھاڑ اور بدتمیزی کے الفاظ کی گولہ باری ہرگز کسی شخص کے لئے عوام کی حمایت کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔

آج تک وطن عزیز میں کسی شخص یا سیاسی رہنما کو جمہوری نظامِ حکومت میں اکثریتی اراکین کی حمایت کے بغیر وزیراعظم کا منصب حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی مروجہ آئین و قانون کے تحت،مستقبل قریب میں ایسا ہونے کا کوئی امکان لگتا ہے۔

عوام کی قیادت کے لئے مطلوبہ انسانی اوصاف اور قربانی کے جذبوں کی مثبت صفات کا حامل ہونا اہم ضروریات ہیں، لہٰذا حصول اقتدار کے لئے باری کی بجائے مقابل امیدواروں سے زیادہ تعداد میں ووٹوں کا حصول اشد ضروری ہے۔

مزید :

رائے -کالم -