خیبرپختونخوا میں نگران وزیر اعلیٰ کا حلف

خیبرپختونخوا میں نگران وزیر اعلیٰ کا حلف

  

صوبہ خیبرپختونخوا میں جسٹس (ر) دوست محمد خان نے نگران وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا اس سے پہلے انہیں نگران وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے متفقہ طور پر کیا جس کے پاس اس سلسلے میں فیصلہ کرنے کا حتمی اختیار ہوتا ہے۔ چونکہ پہلے دو مراحل میں کسی ایک نام پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا اس لئے فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا پڑا۔ وہ اس لحاظ سے لائقِ تحسین ہے کہ جس شخصیت کا انتخاب کیا گیا ہے۔ وہ ابھی حال ہی میں سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے ریٹائر ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے عدالتی کیرئیر میں نیک نامی کمائی اور آخری عہدے سے عزت کے ساتھ رخصت ہوئے البتہ سپریم کورٹ کی روایت کے مطابق ان کی ریٹائرمنٹ پر فل کورٹ ریفرنس منعقد نہیں کیا گیا تھا اور وہ سادگی سے رخصت ہو گئے۔ انہوں نے یہ فیصلہ خود کیا تھا اس کی وجوہ کیا تھیں یہ وہ خود ہی جانتے ہوں گے تاہم اگر انہیں فل کورٹ ریفرنس کے ساتھ رخصت کیا جاتا تو زیادہ اچھا ہوتا، ان کا نام خیبرپختونخوا اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف مولانا لطف الرحمن نے پیش کیا تھا۔

صوبے میں نگران وزیر اعلیٰ کے تقرر کے ضمن میں سب سے پہلے جو نام سامنے آیا تھا وہ ایک کاروباری شخصیت منظور آفریدی کا تھا جس کے نام پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور مولانا لطف الرحمن نے اتفاق رائے کیا تھا جس کے بعد پرویز خٹک انہیں بنی گالہ اپنے قائد عمران خان کو ملانے کے لئے بھی لے گئے معلوم نہیں اس ملاقات میں کیا ہوا کہ اس کے بعد منظور آفریدی کا نام واپس لے لیا گیا اور ان کے حوالے سے ایک ناخوشگوار بحث شروع ہو گئی، ان پر بعض الزامات بھی لگائے گئے جن میں کتنی صداقت تھی اس پر تو ہم اظہار خیال کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ ہماری سیاست میں الزام تراشی کا جو چلن رواج پا گیا ہے اور مستحکم ہوتا چلا جا رہا ہے اس میں کسی پر بھی کوئی الزام لگایا جا سکتا ہے۔ چونکہ منظور آفریدی کے نام پر آسانی سے اتفاق ہو گیا تھا اس لئے بدگمانی کے مرض نے بعض لوگوں کو الزام تراشی پر مائل کر دیا اور یوں منظور آفریدی وزیر اعلیٰ بنتے بنتے رہ گئے اب جسٹس (ر) دوست محمد خان کا انتخاب ہر لحاظ سے بہتر اور قابلِ تحسین فیصلہ ہے لیکن اس کا کریڈٹ پرویز خٹک کے حصے میں نہیں آیا اور نہ ہی تحریک انصاف کی قیادت مجموعی طور پر اس کی حقدار نظر آتی ہے۔

پنجاب اور بلوچستان میں نگران وزرائے اعلیٰ کا انتخاب ابھی تک نہیں ہو سکا، یہ فیصلے بھی الیکشن میں ہی ہوں گے پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کے لئے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے قائد حزب اختلاف محمود الرشید نے جو نام دیا تھا اس پر وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے صاد کر دیا تو تحریک انصاف نے دو دن بعد اپنا ہی دیا ہوانام واپس لے لیا، اس کی حقیقی وجوہ کیا تھیں اور جو سامنے آئیں ان میں کتنی صداقت ہے اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ابھی تک پنجاب میں نگران وزیر اعلیٰ نہیں بن سکا اور اب جو نام فریقین نے دیئے ہیں ان پر پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا اب یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جائیگا اب بھی جتنی جلد فیصلہ ہو جائے بہتر ہے کیونکہ انتخابی عمل باقاعدہ شروع ہو چکا ہے، کاغذاتِ نامزدگی داخل کئے جا رہے ہیں 8 جون آخری تاریخ ہے اس لئے بہتر تھا کہ یہ سارے مرحلے نگران حکومت کی موجودگی میں ہی ہوتے جو نام اس وقت زیر غور ہیں نامزدگی تو انہی میں سے ہو گی اس لئے تاخیر ناقابلِ فہم ہے ۔لگتا ہے یا تو یہ معاملہ ضد کی نذر ہو گیا ہے یا قوت فیصلہ میں کمی کا معاملہ ہے جو بھی ہے تاخیر روا نہیں رکھی جانی چاہئے تھی۔

صوبہ بلوچستان میں بھی ابھی تک کسی نام پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا اور معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں بھی حل نہیں ہوا یہاں بھی وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو اور قائد حزبِ اختلاف مل کر کوئی فیصلہ کرنے میں ناکام رہے معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس گیا تو وزیر اعلیٰ نے کمیٹی کا ہی بائیکاٹ کر دیا جو بظاہر نا قابل فہم ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نوجوان ہیں اور ابھی چند ماہ پہلے ہی ان کے سر پر وزارت علیا کا تاج رکھا گیا ہے ممکن ہے انہیں پارلیمانی کمیٹی میں اپنے نامزد امیدوار کی کامیابی نظر نہ آتی ہو اس لئے انہوں نے بائیکاٹ کر کے معاملے سے علیحدگی اختیار کر لی یا شاید وہ یہی چاہتے ہوں کہ الیکشن کمیشن ہی فیصلہ کرے تاہم بائیکاٹ کا فیصلہ مستحسن نہیں تھا۔ کیونکہ صوبے کا وزیر اعلیٰ ہی اگر کمیٹی کا بائیکاٹ کر دے گا تو اس سے سارے عمل پر خوشگوار اثر نہیں پڑتا۔

سندھ کا صوبہ اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ وہاں پہلے مرحلے پر ہی یعنی وزیر اعلیٰ اور قائد حزب اختلاف کی سطح پر اتفاق رائے ہو گیا۔ اس صوبے میں بھی سیاسی تقسیم گہری ہے اور ماضی میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم وفاق اور صوبے میں حلیف رہنے کے باوجود اب اپنے اپنے سیاسی راستے الگ کرکے آئندہ کے لئے اپنا لائحہ عمل تیار کر چکی ہیں پھر بھی دونوں جماعتوں کی قیادت نے وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کو انا اور ضد کا مسئلہ نہیں بنایا اور نام پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں پہل کر لی اور سابق حکومت میں شریک سیاستدان اپنی اپنی سیاسی مہم کا آغاز کر چکے ہیں ایم کیو ایم پاکستان نے بھی اپنے باہمی اختلافات کے باوجود اپنی انتخابی مہم شروع کر دی ہے اور اس سے تعلق رکھنے والے امیدوار کاغذاتِ نامزدگی وصول کر رہے ہیں اور جمع بھی کرا رہے ہیں۔

اب خیبرپختونخوا میں بھی نگران وزیر اعلیٰ نے بدھ کو حلف اٹھا کر اپنے فرائض منصبی شروع کر دئے ہیں۔ لیکن ملک کا سب سے بڑا صوبہ اور سب سے چھوٹا صوبہ ابھی تک سیاسی بھول بھلیوں یا ذاتی اناؤں کے حصار میں سفر کر رہے ہیں۔ حالانکہ پنجاب کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہئے تھا کیونکہ یہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کی وجہ سے وفاق کے اقتدار کی بنیاد بنتا ہے اب تیزی سے اس کام کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ انتخابی مہم یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔

مزید :

رائے -اداریہ -