معروضی حالات، جذباتی کیفیت اور نظریاتی دانشور؟

معروضی حالات، جذباتی کیفیت اور نظریاتی دانشور؟
معروضی حالات، جذباتی کیفیت اور نظریاتی دانشور؟

  

گزشتہ دو روز بہت بھاری گزرے ہیں۔ جذبات اتھل پتھل ہیں،میرے سامنے ماضی، حال اور مستقبل کے ساتھ ساتھ معروضی امور بھی ہیں، اس وقت ملک جن حالات سے گزر رہا اور گزشتہ چند سالوں سے جو کچھ ہو رہا ہے، وہ میرے سامنے ہے۔

آج ملک کے آئینی اداروں کے عمل کو نہ صرف شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے بلکہ ان پر طعن و تشنیع کے نشتر بھی چلائے جا رہے ہیں۔

دوسری طرف میرے سامنے پاک افغان سرحد، پاک افغان تعلقات،امریکی اور بھارتی عزائم بھی ہیں، ملک میں دہشت گردی کم ضرور ہوئی، خاتمہ نہیں ہوا۔ مغربی اور مشرقی سرحدوں پر حالات خراب ہیں، بھارتی حکومت جی جان سے پاک سرزمین کے درپے ہے۔

سرحدوں پر سنگین حالات پیدا کرکے تعلقات خراب کر لئے، مقبوضہ کشمیرمیں مظالم کا سلسلہ جاری اور کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ ورکنگ باؤنڈری پر بھی گولہ باری جاری ہے۔

حال ہی میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کی ٹیلی فونک ملاقات اور مذاکرات کے بعد 2003ء کے سیز فائر معاہدے پر عمل کا اعلان کیا گیا چین اور امریکہ تک نے خیر مقدم کیا لیکن بھارتیوں نے لاج نہیں رکھی اور پھر سرحدی خلاف ورزی شروع کر دی۔

ان حالات میں ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز میجر جنرل آصف غفور نے پریس بریفنگ کی۔

میں نے ٹیلی ویژن پر دیکھی، سنی اور پھر اخبارات میں تفصیل سے پڑھی تو میرے اندر یکایک اندھیرے اجالے کا کھیل شروع ہو گیا۔ آنکھوں کے سامنے آمر ایوب خان سے لے کر جنرل (ر) پرویز مشرف تک کے ادوار آگئے، تصور میں دیکھا تو خیال آیا، کیا یہ وہی فوج ہے جو ایوب، یحییٰ، ضیاء اور پرویز مشرف کے دور میں تھی۔ مجھے تو محترم آصف غفور قوم سے اپیل کرتے محسوس ہوئے کہ حالات جان لے اور ریاست کو درپیش خطرات کا ادراک کرے۔

بات آگے بڑھانے سے پہلے گزارش کردوں، یہ کالم گواہ ہے اور میری تحریریں ثابت کرتی ہیں کہ میں نے ہمیشہ قومی مصالحت، قومی اتفاق رائے اور سب کو آئین کے دائرہ کار میں رہ کر اپنا اپنا کام کرنے کی اپیل کی ہے۔

یہی خواہش رہی کہ قومی امور پر قومی اتفاق رائے ہو، تمام سیاسی قوتیں اور ادارے ایک صفحہ پر آ جائیں اور اس کے بعد جو سیاست کرتا ہے کرے اور اپنے اپنے پروگرام کے لئے جدوجہد ضرور کرے لیکن محاذ آرائی نہ ہو، اختلاف کو دشمنی کی حد تک نہ لے جایا جائے۔( یہ خواہش ابھی تک خواہش ہی ہے، اور امید؟)

اب میں ایک اور گزارش کرنے جا رہا ہوں اور اس کا تعلق میرے جدوجہد کے ساتھی حضرات سے ہے جو سو ڈو نہیں تھے اور آج بھی نظریاتی ہیں، وہ سب جانتے ہیں کہ میں کبھی بھی سیاسی امور میں فوجی مداخلت کے حق میں نہین رہا، حتیٰ کہ آج وہ چمپئن جو نوابزادہ شیر علی خان اور جنرل ضیاء الحق کے ساتھ تھے اور ہمارے روزگار اور جان تک کے دشمن بن گئے تھے، تب بھی ہم سب اپنے اصول پر قائم تھے اور ان شاء اللہ آج بھی ہیں، لیکن میری ان حصرات سے جو جدوجہد کے ساتھی اور آج بھی نظریاتی ہیں گزارش ہے کہ مجھے گالی مت دیجئے گا کہ آج میں فوج کے حق میں لکھنے جا رہا ہوں، میری دلی آرزو ہے کہ پاک فوج سیاست سے پاک ہو، سیاست میں دخل نہ دے، لیکن مجھ سے یہ بھی برداشت نہیں ہوتا کہ محض دانشوری جھاڑنے کے لئے فوج کو گالی دی جائے یا اپنی ذات کو بچانے یا پھر ذاتی مفاد حاصل کرنے کے لئے فوج کو خود استعمال کرنے کی کوشش کی جائے اور پھر کوئی عالمی تھانیدار (امریکہ) کے ایماء یا یقین دہانی پر فوج کے ادارے کو کمزور کرنے اور اسے تابع مہمل بنانے کی کوشش اور جدوجہد کرے، یہ پاک فوج آج سرحدوں کی محافظ، اندرونی امن کی ضامن بن گئی ہے، فوج کے جس حصے پر سیاست میں مداخلت کا الزام ہے، وہ شعبہ اپنی جان پر کھیل کر کلبھوشنوں کا سراغ لگا رہا ہے، وہ شعبہ دنیا بھر میں بہترین تصور کیا جاتا اور کئی دشمن مخالف اس سے خائف بھی ہیں، مانا کہ اس کے خلاف سیاسی مداخلت کے الزام ہیں تو اس کا حل محاذ آرائی ہے؟ نہیں، بالکل نہیں، ضد پیدا کرکے ملک کے اندر حالات کیوں خراب کئے جائیں اور کیوں نہ آج کے اختیار والے لوگوں سے بات کرکے یہ آئینی صورت بحال کی جائے کہ سب اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے قوم و ملک کی خدمت کریں۔

یہ نہیں کہ قربانیوں کو نظر انداز کرکے ماتحت ادارے کی طرح سلوک کیا جائے اللہ کے لئے حالات کو سدھاریں کہ خطرات حقیقی ہیں۔ امریکی عزائم مختلف ہیں، چین جو اپنا غمگسار اور یار ہے وہ عملی جنگ میں حصہ نہیں لے گا اور امریکہ پر ایک جنونی صدر حکومت کر رہا ہے، جو نسلی تعصب کا ہی شکار نہیں اسرائیل کا بھی زبردست حامی ہے، بلکہ پٹھو کہہ لیں تو یہ بھی کم ہے۔

میری مودبانہ عرض ہے کہ ادراک کریں، قومی ماحول بنائین اور میں اپنی جدوجہد کے دور کے ان دانشور حضرات سے بھی کہتا ہوں کہ آپ ملک سے باہر بیٹھے ہیں، ہمارے حالات کا معروضی تجزیہ کرکے رائے دیں اور بہتر یہ ہے کہ زیادہ توجہ عالمی استعماریت، اسرائیلی اور بھارتی مظالم کی طرف دیں، جو غزہ اور مقبوضہ کشمیر میں مسلسل جاری ہیں۔

بات طویل ہے۔ اس ایک کالم میں مکمل نہیں ہو سکتی۔ ایک ذاتی تجزیہ اور تجربہ عرض کر دوں، یہ جو بھارتی وزیراعظم مودی ہے یہ واحد فرد یا لیڈر نہیں جو اکھنڈ بھارت چاہتا اور پاکستان کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے، مقبوضہ کشمیر میں فوج اس کے اقتدار سے پہلے تھی،بگلیہار اور کشن گنگا ڈیم بھی اس کے آنے سے پہلے ہی زیر تعمیر تھے، اس لئے برسراقتدار کوئی بھی جماعت ہو، بھارتی ایجنڈا پاکستان مخالف ہے اور ہم سب کو یہ احساس کرنا چاہیے۔

ہماری پالیسیاں، حکمت عملی اسی کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہی سطور میں منظور احمد محسود جواب منظور پشتین ہے کے بارے میں خبردار کیا تھا، اب میجر جنرل آصف غفور نے کھلے بندوں بتا دیا کہ اسے گمراہ کیا گیا اور کیا جا رہا ہے ، خدارا غور کریں، حریت پسندی کے لئے اور بھی میدان ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -