خدیجہ صدیقی کیس اور چیف جسٹس کی زنجیر عدل

خدیجہ صدیقی کیس اور چیف جسٹس کی زنجیر عدل
خدیجہ صدیقی کیس اور چیف جسٹس کی زنجیر عدل

  

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ہر اس معاملے کا نوٹس لیتے ہیں، جس کی تہہ تک سوائے سپریم کورٹ کے اور کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ خاص طور پر اگر معاملہ انصاف اور عدلیہ سے معلق ہو تو ان کے سوا کسی کا اختیار ہے ہی نہیں کہ مداخلت کرے۔

قابلِ قدر بات یہ ہے کہ وہ نوٹس لیتے ہوئے کسی تعصب یا امتیازی رویے کا شکار نہیں ہوتے۔ انہوں نے کچھ عرصہ پہلے شاہ زیب قتل کیس میں ملزم شاہ رخ جتوئی کی عدالت کی طرف سے ضمانت کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے دہشت گردی کی دفعات بحال کرکے دوبارہ گرفتار کرا دیا تھا۔ اب لاہور کا ایک مشہور کیس ان کے ریڈار پر آ گیا ہے۔ قانون کی ایک طالبہ خدیجہ صدیقی کو اس کے کلاس فیلو شاہ حسین نے چھریوں کے 23وار کرکے گھائل کر دیا تھا۔

وہ لڑکی خوفزدہ ہو کر گھر نہیں بیٹھ گئی، بلکہ اس نے ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اسے دھمکیاں ملیں، ترغیبات دی گئیں، خوفزدہ کرنے کے حربے استعمال کئے گئے، مگر وہ ڈٹی رہی۔

اس کا کہنا تھا: مَیں اپنے لئے نہیں دوسری لڑکیوں کے تحفظ کے لئے یہ کیس لڑ رہی ہوں۔ مَیں ایک مثال بننا چاہتی ہوں، تاکہ پھر کوئی شاہ حسین جیسا بدقماش کسی لڑکی کو اپنے جنون کا نشانہ نہ بنا سکے‘‘۔۔۔ اس کی جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت سے ملزم کو سات سال کی سزا سنا دی گئی۔ ملزم نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں اپیل کی، جس پر سزا کم کرکے پانچ برس کر دی گئی۔

ملزم کا والد چونکہ ایک بااثر وکیل ہے، اس لئے وہ کیس کو آگے لے جاتا رہا اور خدیجہ صدیقی اپنے حق کے لئے پیچھے چلتی گئی۔ جب معاملہ ہائیکورٹ میں آیا تو اسے یقین تھا کہ ایک حقیقی اور واضح واقعہ کی وجہ سے ہائیکورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ کی طرف سے دی گئی سزا بحال کر دے گی، جس میں سات برس قید کا حکم دیا گیا تھا۔

اس دوران اس کے ساتھ کیا کچھ ہوا،اس کی کہانی تو آج کل مختلف چینلز پر سنائی دے رہی ہے، تاہم اس وقت وہ حیرت اور مایوسی کے سمندر میں ڈوب گئی جب لاہور ہائیکورٹ کے ایک معزز جج نے ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔ وہ ایک طرف اپنے جسم پر لگے 23زخموں کو دیکھتی تھی اور دوسری طرف عدالت کے فیصلے کو، جس میں اس سارے واقعہ کو مشکوک قرار دیا گیا۔

خدیجہ صدیقی پر جب حملہ ہوا تھا تو میڈیا نے اسے بھرپور کوریج دی تھی۔ پھر جس طرح ملزم گرفتاری سے بچتا رہا، اس کی روداد بھی سب کو یاد ہے۔ جب بہت زیادہ دباؤ کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کیا تو خیال یہی تھا کہ خدیجہ صدیقی شائددباؤ میں آکر صلح کرلے گی، مگر وہ ڈٹ گئی۔ مقدمے کے ہر مرحلے کا سامنا کیا اور سزا دلوا کے رہی۔ اب جبکہ اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ہائیکورٹ نے ملزم کو بری کیا تو لوگوں کو شاہ رخ جتوئی کیس یاد آ گیا کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو قانون کی گرفت سے چھڑا کر کس شاہانہ انداز سے باہر نکلا، بس اتنی رعایت کی کہ وکٹری کا نشان نہیں بنایا۔ ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا، لوگوں نے اسے بااثر طبقات کا قانون سے کھلواڑ قرار دیا۔

اس شورشرابے کی خبر چیف جسٹس ثاقب نثار تک کیسے نہ پہنچتی، انہوں نے اس کا نوٹس لیا اور خدیجہ کیس کی فائل لاہور ہائیکورٹ سے منگوانے کا حکم دے کر اس کی سماعت 10 جون کو لاہور رجسٹری میں کرنے کا فیصلہ صادر فرما دیا۔

اب سب 10 جون کا انتظار کر رہے ہیں، جب ایک انصاف مانگتی لڑکی پیش ہو کر وہ سب کچھ کہے گی جو اب تک ٹی وی چینلز پر کہہ چکی ہے اور جو اس قدر شرمناک ہے ،جس کی کسی مہذب معاشرے میں توقع نہیں کی جا سکتی۔

خدیجہ صدیقی نے ’’ڈان نیوز‘‘ کے ٹاک شو میں ایسے انکشافات کئے جو کسی فلم کا حصہ نظر آتے ہیں، مگر ابھی تک کسی طرف سے ان کے ان الزامات کی تردید یا وضاحت سامنے نہیں آئی۔ خدیجہ صدیقی کہہ رہی تھیں کہ فیصلہ دینے والے جج نے اُنہیں اپنے چیمبر میں بلایا، جہاں ملزم شاہ حسین کا والد بھی موجود تھا۔ جج صاحب نے کہا آپ ان سے صلح کیوں نہیں کر لیتیں، قتل کے کیسز میں بھی صلح ہو جاتی ہے، یہ تو ایک معمولی کیس ہے۔ خدیجہ صدیقی بتاتی ہیں کہ انہوں نے کہا یہ معمولی کیس نہیں، بلکہ میں ملک کی کروڑوں لڑکیوں کا کیس لڑ رہی ہوں، جنہیں گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جاتا ہے۔ خدیجہ صدیقی نے یہ بھی بتایا کہ انہیں گورنر پنجاب رفیق رجوانہ کا بھی ٹیلی فون آیا جنہوں نے کہا کہ بچے کو بہت سزا مل گئی ہے، وہ بدنام بھی ہو گیا ہے، اب اسے معاف کر دو۔ گورنر صاحب کے سامنے بھی خدیجہ صدیقی نے سٹینڈ لیا اور انصاف کے لئے ڈٹی رہی، مگر اسے کیا معلوم تھا کہ جب اختیار والوں کی بات نہ مانی جائے تو وہ اپنا اختیار کیسے استعمال کرتے ہیں؟ اب یہ سب کچھ چیف جسٹس کے سامنے ہوگا۔

کیا سچ ہے کیا جھوٹ، انصاف ہوا ہے یا بے انصافی، اثر و رسوخ نے کام دکھایا ہے یا جج صاحب نے میرٹ پر فیصلہ کیا ہے وکلاء سیاست کا دباؤ کام آیا ہے یا صرف یہ شوشہ والد کے وکیل ہونے کی وجہ سے چھوڑا گیا ہے؟ اس کا نتارا چیف جسٹس ثاقب نثار کی عدالت میں ہو جائے گا۔ میرے لئے جو بات اطمینان بخش ہے وہ پاکستانی لڑکیوں میں ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ ہے۔

ابھی کچھ ہی ہفتے پہلے کراچی میں ایک لڑکی ام رباب چیف جسٹس کی گاڑی کے سامنے آ گئی تھی۔ اندرون سندھ کے ایک وڈیرے نے اس کے والد، چچا اور دادا کو یکے بعد دیگرے قتل کر دیا تھا اور پولیس اسے گرفتار نہیں کر رہی تھی۔

ایک نہتی لڑکی کا ایک ایسے وڈیرے کے خلاف میدان میں آنا، جس کے نزدیک قتل کرنا ایک معمولی بات ہو ،ایک غیر روائتی عمل تھا۔ اتفاق کی بات ہے کہ خدیجہ صدیقی اور ام رباب دونوں ہی قانون کی طالبات ہیں۔ اس کا مطلب ہے تعلیم انسان میں شعور بھی پیدا کرتی ہے اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ بھی۔

خدیجہ صدیقی کا معاملہ اس لئے مختلف ہے کہ اس نے سرعام اپنے جسم پر چھری کے 23 زخم کھائے۔ اس نے اپنے زخم بھرنے کا انتظار نہیں کیا، خوفزدہ ہو کر گھر نہیں بیٹھ گئی، بلکہ انصاف کے لئے مردانہ وار نکلی اور ایک بار تو پورے نظام کو جھنجوڑ کے رکھ دیا۔

بدقسمتی سے اس کیس میں میرے ملتان کا حوالہ بھی بار بار آ رہا ہے۔

ملزم شاہ حسین کے والد کا تعلق ملتان سے ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ اسی تعلق کی بنا پر ملک رفیق رجوانہ گورنر پنجاب نے اس معاملے کو حل کرانے کی کوشش کی۔ ممکن ہے انہوں نے یہ کام نیک نیتی سے کیا ہو ،مگر جب انہیں یہ پتہ تھا کہ خدیجہ صدیقی کسی صورت صلح پر راضی نہیں تو انہوں نے عملی طور پر قدم کیوں اٹھایا؟ یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے ان کے بیٹے آصف رفیق رجوانہ نے ،جو اب سیاست میں آ چکے ہیں، وائس چانسلر فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے خلاف میرٹ پر داخلہ نہ کرنے کی وجہ سے سپریم کورٹ میں پیش ہونے والی ایک خاتون کو فون کرکے کہا تھا کہ وہ پیروی چھوڑ دیں، ان کا کام ہو جائے گا، جس کا چیف جسٹس نے سخت نوٹس لیا تھا اور آصف رجوانہ کو پیش ہو کر معافی مانگنا پڑی تھی۔ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اعلیٰ مناصب پر بیٹھنے والے ان مناصب کے تقاضوں کو کیوں نہیں سمجھتے؟ ان پر تو بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کو انصاف فراہم کریں۔ کوئی ایسا موقع آئے جب ایک طرف بااثر اور دوسری طرف مظلوم کھڑا ہو تو وہ اپنا وزن مظلوم کے پلڑے میں ڈالیں۔ یہاں کبھی کبھار تو کوئی خدیجہ صدیقی سامنے آتی ہے جو خوف کی تمام دیواریں گراکر میدان میں کھڑی رہتی ہے۔

یہاں آئے روز لڑکیوں پر تیزاب پھینک کر چہرے مسخ کر دیئے جاتے ہیں۔ غربت اور مہنگے انصاف کی وجہ سے لوگ بااثر افراد کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔

صبر و شکر کرکے گھر بیٹھ جاتے ہیں۔ وڈیروں کی طرف سے غریب مزارعوں کی بیٹیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، پولیس ظالموں کے ساتھ مل کر انہیں زبان بند رکھنے پر مجبور کردیتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں عورت کو دوسرے درجے کی مخلوق سمجھ کر ظلم و ناانصافی کا نشانہ بنانا معمول کی بات ہے، وہاں خدیجہ صدیقی اور امِ رباب جیسی لڑکیوں کا ظلم کے خلاف سینہ سپر ہونا معاشرے میں زندگی کی رمق کو ظاہر کرتا ہے۔

اس کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ خدیجہ صدیقی پر ظلم تو ہوا ہے، اسے زخم تو لگے ہیں، پھراسے انصاف کیوں نہیں مل رہا؟ اب یہ سوال چیف جسٹس کی کورٹ میں چلا گیا ہے، ان کی بے داغ منصفی سے معاشرے اور خود خدیجہ صدیقی کو اس سوال کا جواب ضرور ملے گا۔

مزید :

رائے -کالم -