کم کوش توہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی (1)

کم کوش توہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی (1)
کم کوش توہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی (1)

  

انہی صفحات میں ایک سے زیادہ بار لکھ چکا ہوں کہ میں نے اردو زبان میں ہارڈ کور دفاعی موضوعات پر لکھنے لکھانے کا شغل کیوں اختیار کیا۔ اب اس کہانی کی جگالی کرنے کو دل نہیں مانتا ۔

لیکن آج جس موضوع کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں وہ یہ حقیقت ہے کہ افواج پاکستان میں اردو میں عسکری امور پر لکھنے والوں کی کمی ضرور تھی (اور ہے) لیکن فقدان نہیں تھا(اور نہیں ہے)۔

جب میں نے اس فیلڈ میں اترنے کا عزم کیا تو وہ 1985ء کے موسم بہار کا ایک ’’روزِ سعید‘‘ تھا جب اتفاقاً ایک نہائت سینئر آفیسر نے اردو کی بے عزتی اور بے توقیری اور انگریزی زبان کے ’’احترام اور حرمت‘‘ پر راولپنڈی کے ایک آفیسرز میس، میں ایک طویل لیکچر دے ڈالا۔ میں نے جب ان سے اتفاق نہ کیا تو یہ نااتفاقی میرے لئے ایک مصیبت اور چیلنج بن گئی۔

(وجہ ناراضگی تو تھی ہی!) مجھے حکم دیا گیا کہ میں فی الفور فلاں موضوع پر فلاں انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ پیش کروں اور پھر خود ہی فیصلہ کروں کہ میجر جنرل صاحب درست ’’فرما‘‘ رہے تھے یا ایک میجر (میرا رینک اس وقت یہی تھا) درست ’’بک‘‘ رہا تھا۔ قارئین محترم! یہ داستان دراز ہے۔ لیکن میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ مجھے بعد میں احساس ہوا کہ جنرل صاحب ان شخصیات میں شمار کئے جا سکتے ہیں جو اپنی سینارٹی کے احساسِ برتری کا شکار نہیں ہوتے اور جونیئرز کو کوئی کمتر مخلوق نہیں سمجھتے!

پاکستان آرمی ایک چھوٹی سی آرمی ہے۔ اس میں آج کوئی قابلِ ذکر واقعہ رونما ہو جائے تو وہ فوراً ہی ساری فوج میں پھیل جاتا ہے۔ میری یہ گستاخی بھی اسی طرح رسوا ہوگئی۔ لیکن جن سینئر آفیسرز نے میری حمایت کی اور جنرل صاحب کو سمجھایا بجھایا ان میں میجر سید ضمیر جعفری، بریگیڈیئر گلزار، کرنل محمد خان اور ایڈمرل شفیق الرحمن جیسے صاحبِ کتاب لکھاری شامل تھے ۔

مجھے یقین ہے کہ اکثر قارئین نے اگر ان کو دیکھا یا سنا نہیں ہو گا تو کم از کم پڑھا ضرور ہوگا۔ میری جو بحث گزشتہ سطور میں بیان کئے گئے جنرل صاحب سے ہوئی تھی ان میں اس ایک پہلو پر ان کا یہ اختلاف بھی تھا کہ ان چاروں لکھاریوں میں صرف ایک لکھاری (بریگیڈیئر گلزار احمد) کی تصانیف دفاعی امور و موضوعات پر ضرور ہیں۔

لیکن باقی تینوں حضرات (ضمیر جعفری، کرنل محمد خاں اور ایڈمرل شفیق الرحمن) نے جو کچھ لکھا وہ یا تو شاعری تھی یا مزاح نگاری ۔ اور ایسے دفاعی امور نہیں تھے جن پر انگریزی یا دوسری جدید زبانوں میں ایک وسیع و بسیط ذخیرۂ تحریر موجود ہے۔

ان چاروں حضرات سے بلاشبہ میری درجنوں ملاقاتیں ہوئیں، انہی کے ’’اکسانے‘‘ پر میں نے اپنے ڈی جی سے گزارش کی کہ وہ GHQلیول پر اس قد کاٹھ کا ایک پروفیشنل اردو میگزین بھی شائع کرانے کا بندوبست کریں،جیسا کہ پاکستان آرمی جرنل اور پاکستان ڈیفنس ریویو ہے۔

جنرل صاحب آج اس دنیا میں موجودنہیں۔ خدا ان کو غریق رحمت کرے۔ لیکن انہوں نے باقاعدہ آرمی چیف سے درخواست کرکے ’’پاکستان آرمی جرنل‘‘ کے لیول کا ایک اردو میگزین بھی منظور کروایا جس کا نام: ’’پاکستان آرمی جرنل (اردو)‘‘ رکھا گیا۔

یہ دونوں میگزین آج بھی بڑی باقاعدگی سے GHQ سے شائع کئے جا رہے ہیں۔ دونوں میگزینوں کے موضوعات، شعر و شاعری ، مزاح یا داستان طرازی نہیں بلکہ وہی ہارڈ کور دفاعی امور ہیں جو پاکستان آرمی جرنل (انگریزی) میں شائع کئے جا رہے ہیں۔

اردو کا یہ میگزین انگریزی والے میگزین کا ترجمہ نہیں بلکہ اس کے سارے مضامین مختلف پروفیشنل فیلڈز کے بارے میں ہوتے ہیں اور الگ اور قابلِ قدر ہوتے ہیں۔

میں نے بارہ برس سے زائد عرصے تک (اپریل 1985ء تا دسمبر 1996ء) اس میگزین کی ادارت کے فرائض سرانجام دیئے ۔یہ کاوش سراسر اضافی اور اعزازی تھی۔ میں یہ سارا کام یا تو گھر پر آکر کیا کرتا تھا یا GHQ کے دفاتر جب دو بجے بند ہو جاتے تو میں ایکسڑا اوقات میں اپنے دفتر میں بیٹھ کر اس جریدے کی تشکیل و تکمیل کیا کرتا تھا۔

کہہ سکتا ہوں کہ یہ میرا شوق یا مشن تھا۔اس دوران میں نے پاکستان آرمی/ نیوی/ ائر فورس کے جن لکھاری افسروں کو اس طرف راغب کیا اس کی کہانی بھی دراز ہے اور بقول حضرت حفیظ جالندھری دوچار برس کی بات نہیں، بارہ برس کا قصہ ہے!

جب میں دسمبر 1996ء میں ریٹائر ہوا تو اپنے تحریر کردہ چند مضامین کو کتابی صورت میں شائع کرنے کا ارادہ کیا۔ اس پراجیکٹ کی تکمیل کے ایام میں میری ملاقات ازراہ اتفاق لیفٹینٹ جنرل سید رفاقت سے ہوئی۔ مجھے قطعاً معلوم نہ تھا کہ وہ اردو زبان کے ایسے لکھاری ہیں جن کا مثیل شائد ہی پاکستان آرمی کوئی دوسرا پیدا کر سکے۔

میں نے اپنی کتاب کا مسودہ اٹھایا، چک لالہ سکیم 3میں ان کے ہاں چلا گیا اور ان کی خدمت میں عرض کیا کہ اس کے پیش لفظ کے طور پر ’’چند حروف‘‘ لکھ دیں۔۔۔ ہفتہ دس دن بعد ان کا فون آیا: ’’جیلانی صاحب! میں نے دوچار سطریں آپ کی کتاب کے سلسلے میں لکھ دی ہیں۔ فرصت ملے تو آ کر لے جانا‘‘۔

میں جب ان سے ملا تو وہ ’’چار سطریں‘‘ پڑھ کر دنگ رہ گیا۔ اپنی اردو دانی کا جو زعم میں نے اپنے دل و دماغ میں پال رکھا تھا اس کے چیتھڑے اڑتے نظر آنے لگے۔ اس کتاب کا عنوان بھی میں نے ’’شمشیروسناں اول‘‘ رکھا تھا جو بعد میں میرے کالموں کا عنوان بھی بنا۔

یہ کتاب چھپ چکی ہے (اور دوست پبلی کیشنز، اسلام آباد/ لاہور سے منگوائی جا سکتی ہے)۔۔۔ ذیل میں جنرل صاحب کے پیش لفظ کا ایک حصہ پیش کر رہا ہوں۔۔۔

’’اردو زبان میں عسکری موضوعات پر قلم اٹھاتے ہوئے سب سے پہلا تاثر جو ملتا ہے وہ ایک خلا کا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قلم ایک اجنبی قرطاس پر ایک غیر مانوس لغت کا سارا لئے اور محض آتش شوق کو قطب نما بنائے تخلیق جیسے مشکل اور صبر آزما راستے پہ چل نکلا ہو۔

یہ معاملہ اس پس منظر میں اور بھی دردناک ہو جاتا ہے کہ اردو زبان برصغیر میں مسلمان حملہ آوروں کی عسکری ضروریات کا جواب بن کے اٹھی اور پھر جلد ہی اس خطے میں مسلمانوں کی پہچان بن گئی۔ اگر یہ تاریخی عمل، اپنے منطقی ادوار سے مصنوعی محرکات کے بغیر آگے بڑھتا تو ہوتا یہ کہ اس زبان کے لب و لہجے میں عسکری عنصر غالب رہتا اور اس کے ادبی ذخیرہ میں حربی معلومات، تحقیق اور تاریخ کا قابل قدر حصہ ہوتا، لیکن حقیقت اس کے برعکس رہی۔

شعر و شاعری نے اردو زبان پر یلغار کر دی اور اس کا نثری سرمایہ کم سے کم تر ہوتا چلا گیا۔ ہر چند کہ شعر کی آفاقیت اور جاذبیت مسلمہ ہے اور ہر زبان میں تقریباً یہی صورت دیکھنے کو ملتی ہے تاہم اردو کے ساتھ ایک ایسا کربناک حادثہ پیش آیا، جس نے اس زبان کے ارتقاء کا رخ یکسر بدل کر رکھ دیا۔

وہ حادثہ یہ تھا کہ جونہی اردو زبان نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا، برصغیر میں مسلمانوں کے اختیار و وقار اور عروج و اقتدار کا دور ختم ہو گیا۔ اور اس زبان پر نہ صرف یاس و ناامیدی کے گہرے سائے چھا گئے، بلکہ گریہ و زاری اور فریاد و فغاں کی پکی چھاپ اس کی پہچان بن گئی۔

جب سطنتیں ہی چھن گئیں اور عظمتیں قصہء پارینہ ہو گئیں تو اردو زبان میں عسکریات، فتوحات، فن سپہ گری اور رموز سلطنت کا ذکر کیسے ہوتا اور ان کی فکر کون کرتا؟ تاہم ادب، صحافت اور دینیات کے موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا اور یوں یہ زبان ہماری وقتی (اور غلامانہ)ضروریات پورا کرتی رہی۔

پھر 14اگست 1947ء کے بعد ایک نیا دور شروع ہوا۔

کرہ ارض پر ایک منفرد اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی گئی اور یہ امید باندھی گئی کہ فرزندانِ پاکستان برصغیر کی ایک ہزار سالہ تاریخ کی بہترین روایات کے امین ہوں گے اور تاریخِ انسانی میں اسلامی ورثہ کے جائز حقدار بھی۔۔۔ جہاد، اسلام کا ایک مرکزی رکن ہے۔

اس رکن کی عملی صورت میں اور اس کے منطقی نتیجہ کے طور پر تاریخ عالم میں مسلمانوں کی عسکری فتوحات اتنی ہی پرشکوہ اور بامقصد انداز میں پھیلی ہوئی ہیں جتنی کہ روحانیات اور اخلاقیات۔۔۔اور طبیعات سے متعلقہ مضامین پر تو مسلمانوں کی تصانیف تاریخ عالم میں ایک قابل قدر اور باوقار مقام حاصل کر چکی ہیں۔

لیکن عسکریات کے موضوعات پر بات یا بحث کرنے کے لئے ہمیں لامحالہ یورپی یا چینی محققین و مصنفین کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے اور وہاں تک رسائی کا راستہ بھی دوسری زبانوں کے توسط سے ہی ملتا ہے؟

اب یہ امر ڈھکا چھپا نہیں کہ پاکستان کی بقاء کے ساتھ اس کی سیکیورٹی کا مسئلہ بھی اول روز سے منسلک ہے۔ سیکیورٹی کے معاملہ پر پاکستانی من حیث القوم بہت حساس اور محتاط رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی مشکلات کے باوجود پاکستان نے اپنی سیکیورٹی کے مقابلے میں کبھی بھی کسی اور عنصر کو اپنی ترجیحات میں سبقت نہیں بخشی۔

لہٰذا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پچھلے پچاس سالوں میں (یہ تحریر 1997ء میں لکھی گئی تھی)پاکستان کے اندر اردو زبان میں دفاعی معاملات، عسکریات، فنون حرب و ضرب اور سیکیورٹی کے موضوعات پر ایک گرانقدر مواد جمع ہو جاتا۔

لیکن ایسا نہیں ہو پایا۔ چند سر پھروں کی کوشش اور چند دیوانوں کی لگن کو چھوڑیئے، یہ شرمناک حقیقت آج بھی جوں کی توں موجود ہے کہ ہماری اشرفیہ اور ارباب اختیار نے اردو کو خلوص دل کے ساتھ گلے نہیں لگایا۔

اور دوسری جانب معاشرہ کے اس طبقہ نے جس کے کاندھوں پر سرکاری یا روایتی طور پر فروغِ اردو کی ذمہ داری ڈالی گئی، عسکریات کو شجر ممنوعہ قرار دے کر یا افواج پاکستان کی طرف سے عدم تعاون کا عذرِ لنگ پیش کرکے، موضوع سے لاتعلقی اختیار کرلی۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -