وہ ایک طعنہ جو بیوی کو مارا جائے تو طلاق ہوجاتی ہے ،ایسا حساس اور انوکھا سماجی مسئلہ جس کے بارے ہر مسلمان کو آگاہ ہونا چاہئے

وہ ایک طعنہ جو بیوی کو مارا جائے تو طلاق ہوجاتی ہے ،ایسا حساس اور انوکھا ...
وہ ایک طعنہ جو بیوی کو مارا جائے تو طلاق ہوجاتی ہے ،ایسا حساس اور انوکھا سماجی مسئلہ جس کے بارے ہر مسلمان کو آگاہ ہونا چاہئے

  

لاہور(ایس چودھری) طلاق اسلام میں ایک ناپسندیدہ اور حساس ترین عمل ہے لیکن موجودہ سماجی رویوں نے اسکو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے ۔  لوگوں نے غصہ کی وجہ سے دی گئی طلاق میں بھی ایسی راہیں تلاش کرنا شروع کردی ہیں جس سے گماں ہوتا ہے کہ طلاق کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں ۔

طلاق کے لئے شوہر اپنی بیوی کو عام طور پر جب طلاق دیتا ہے تو چاہے وہ کیسی کیفیت میں ہو،وہ واضح الفاظ” طلاق طلاق طلاق“ استعمال کرتا ہے ۔جس سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ اگر اس کے علاوہ کوئی اور لفظ یا جملہ کہہ دیا جائے تو طلاق واقع نہیں ہوتی ۔بہت سے گھروں میں رواجاً اور عادتاً ایک دوسرے کو طعنے مارنے کی بیماری بھی ہوتی ہے ۔کبھی غصہ میں کبھی بے تکلفی میں بھی ایسے الفاظ نکل جائیں تو ان پر شرعی طورپر گرفت ہوتی ہے۔

اگر ایک شخص کی بیوی طلاق کا مطالبہ کردے اور شوہر اسکو طلاق نہیں دینا چاہتا مگر غصہ میں آ کر کہہ دے کہ ”تم پہلے ہی طلاق زدہ یا طلاق یافتہ ہو“ جبکہ اس وقت اس کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی بلکہ اس نے طعنہ مارتے ہوئے بیوی کو یہ جملہ کہہ دیا ہوتو یہ بھی شرعی اعتبار سے طلاق رجعی ہوجاتی ہے ۔اس بارے عالم دین مفتی عبدالقیوم ہزاروی کے سامنے ایسا مسئلہ رکھا گیا تو انہوں نے فتویٰ آن لائن میں جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی شوہر طعنہ مارتے ہوئے بیوی سے کہہ دے کہ ”تم پہلے ہی طلاق زدہ ہو یا طلاق یافتہ ہو“ تو ایک طلاق رجعی ہو گئی۔

مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ نیت ہو یا نہ ہو لفظ واضح و صریح ہے۔ اگر اس کے بعد عدت کے اندر اندر زبانی یا عملی طور پر رجوع کر لیا تو طلاق کا اثر ختم ہو گیا اور دونوں دوبارہ میاں بیوی بن گئے۔ اگر اس واقعہ کے بعد عدت گزر گئی ہے تو نکاح کلی طورپرختم ہو گیا، البتہ اگر دونوں چاہیں تو بغیر حلالہ وغیرہ کے دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔

مزید :

روشن کرنیں -