شکریہ ریحام !

شکریہ ریحام !
شکریہ ریحام !

  

ریحام خان کی کتاب کا ایک فائدہ تو ہوا ہے کہ نواز شریف کی جگہ عمران خان خبروں میں ہیں، وگرنہ ’مجھے کیوں نکالا ‘سے ’قومی کمیشن ‘کے قیام کے مطالبے تک ہمارے ٹی وی چینلوں پر سوائے نواز شریف کے کچھ نہ تھا۔ شکریہ ریحام!

خطرہ یہ تھا کہ اگر نواز شریف اسی طرح ڈسکس ہوتے رہے تو نئے تو کجا وہ لوگ بھی تحریک انصاف کی ٹکٹیں واپس کردیں گے جو لے چکے ہیں۔

ریحام خان کی کتاب کا سیاست سے تعلق ہو نہ ہو، سیاسی جماعت کے سربراہ سے ضرور ہے، اگرچہ یہ ابھی طے ہونا ہے کہ وہ سربراہ سیاسی ہے یا نہیں ، بہرحال کتاب اور عمران کا مقابلہ ہو تو کتاب کو زیادہ ووٹ پڑیں گے ، لیکن کتاب کی مصنفہ کھڑی ہوجائیں تو ان کی ضمانت ضبط ہو سکتی ہے ، یہ ہمارا معاشرتی رویہ ہے کہ ہم ریحام خان کو اچھانہیں سمجھتے لیکن اس کی لکھی کتاب پڑھنا چاہتے ہیں۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ اسی سے ہوسکتا ہے !

سوا ل یہ ہے کہ آیا کتاب عمران سے بڑی ہے یا کتاب اس لئے بڑی ہے کہ عمران جیسے بڑے شخص کے بارے میں لکھی گئی ہے، دیکھا جائے تو عمران خان کے بارے میں ہونے کے باوجود کتاب عمران خان سے بڑی دکھائی دیتی ہے۔ کتاب اس لئے بڑی ہے کہ اس میں عمران خان کی شخصیت کا تاریک پہلو دکھایا گیا ہے، ہم تماش بین قوم یہ جاننے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں کہ کسی شخصیت کا تاریک پہلو کیسا ہے،

میں چاہتا بھی یہی تھا کہ وہ بے وفا نکلے

اسے سمجھنے کا کوئی تو سلسلہ نکلے

کبھی کبھار بے وفائی کرنے پر ہی انسان کی سمجھ آتی ہے! ویسے تو انتخابات سے عین قبل کسی کے بارے میں کتاب کا آنا بڑی خوش آئند بات ہوتی ہے ۔ 2013ء کے انتخابات سے قبل بھی عمران خان کے بارے میں ایک کتاب آئی تھی، وہ کتاب انہوں نے خود لکھی تھی ، موجودہ کتاب ان کی سابق اہلیہ نے لکھی ہے ، عمران خان کو ان کی اپنی لکھی ہوئی کتاب جتوا تو نہ سکی تھی مگر ریحام خان کی لکھی ہوئی کتاب ہروا ضرور سکتی ہے ، پی ٹی آئی والے اسی بات سے ڈرے ہوئے ہیں۔ پرانی کتاب کا ترجمہ بھی تزک و احتشام سے شائع کیا گیا تھا، دیکھئے اس کتاب کا ترجمہ کون کرتاہے۔

پی ٹی آئی کتاب کے شائع ہونے سے پہلے اتنی مضطرب ہے تو کتاب شائع ہونے کے بعد کیا حال ہوگا۔ خود عمران خان اسی طرح گم ہیں جس طرح عائشہ گلا لئی کے الزامات کی رات گم ہو گئے تھے، اور پاک پتن شریف کے حجرے میں بیٹھے پائے گئے تھے۔ اب اگر کتاب شائع ہوئی تو عمران خان کہاں پائے جائیں گے؟

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

جب انہوں نے ریحام کو طلاق دی تتھی تو کہا تھا کہ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے اور سوال کرنے والے صحافی کو کہا تھا کہ تمھیں تھپڑ پڑنا چاہئے، اب کی بار کیا کہیں گے ، یقیناًگولی کا آرڈر کریں گے۔

ریحام کی کتاب خود ریحام سے بھی بڑی ہوگئی ہے ، ریحام کی اہمیت بھی اس کتاب کے شائع ہونے تک ہے، جس دن کتاب شائع ہوگئی لوگ ریحام کو بھول کر کتاب کے پیچھے پڑ جائیں گے۔ آخر اس کتاب میں ایسا کیا ہے، پی ٹی آئی والوں سے پوچھاجائے تو یہی کہیں گے کہ ہم سے تو پوچھو کہ اس کتاب میں کیا نہیں ہونا چاہئے!

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری عدلیہ قانون کی کتاب لے کر نواز شریف کے پیچھے پڑی ہوئی ہے اور میڈیا ریحام کی کتاب لے کر عمران کے پیچھے پڑگیا ہے۔ یہ کتابوں کی لڑائی ہے۔

فی زمانہ ہر کتاب سے اتنا ہی شغف پیدا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ بڑے آدمیوں کی برائیوں پر کتابیں لکھی جائیں۔ جو ذرا مشہور ہو ، اس کے بارے میں ہوشربا انکشافات پر مبنی کتاب کا علان کردیا جائے، دیکھئے پکوڑوں کی طرح بکے گی۔

ریحام سے پوچھیں تو کہتی ہیں یہ کتاب ان کی اپنی زندگی کی کہانی ہے، اب اگر اس زندگی میں کچھ حاشیہ نشین ہیں تو ان کا کیا قصور ہے۔ ویسے ریحام کو Weather Girlکا خطاب بھی ملا تھا، وہ اس لئے کہ بی بی سی چینل پر موسم کی خبریں سناتی تھیں۔

جب وہ تازہ تازہ پاکستان میں وارد ہوئی تھیں۔ وہ آتے ہی چھاگئی تھیں اور جاتے ہوئے بھی چھاگئی ہیں۔

آئی تھیں تو بنیل گبول نے تو ایک ٹی وی پروگرام میں کھلے بندوں انہیں شادی کی آفر کی تھی، مزا تو تب آئے کہ اگر اب ان سے پوچھا جائے کہ آیا وہ ریحام سے نکاح کے لئے تیار ہیں۔ آپ بتائیے ان کا جواب کیا ہوگا!

مزید :

رائے -کالم -