کیا ہوا تجھ کو تری عاجزی سے حاصل

کیا ہوا تجھ کو تری عاجزی سے حاصل
کیا ہوا تجھ کو تری عاجزی سے حاصل

  

یہ اس پریس کانفرنس کا اپنے معنی، مقاصد اور الفاظ کے استعمال کے حوالے سے ایک خوبصورت سوال تھا جو مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف سے کیا گیا تھا، سوالا ت تو اور بھی بہت سارے اہم تھے جیسے یہ وضاحت طلب کرناکہ کیا آپ کی ریحام خان سے ملاقات ہوئی اور مسلم لیگ نون نے انہیں ان کی کتاب لکھنے کے لئے پاونڈز دئیے۔

تحریک انصاف کے ایک سے زائد یوٹرن لینے کے باعث( ابھی تک) وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے پر قائم رہنے والے شہباز شریف نے واضح کیا کہ ان کی ریحام خان سے صرف ایک ملاقات ہوئی جب ان کے پسندیدہ صحافی محمد مالک پی ٹی وی کے ایم ڈی تھے اور ریحام خان نے ان کا انٹرویو لیا تھا۔ یہ وضاحت سوشل میڈیا ٹرولز کے لئے ضروری تھی مگر اس کے باوجود وہ بہت سارے اسے تسلیم نہیں کریں گے جو میں نہ مانوں کی عملی تفسیر ہیں۔

بہرحال یہ سوال پرویز بشیر صاحب کا تھا، میں لفظوں کی بُنت تو بھول چکا مگرمطلب اور معنی یہی تھا کہ آپ اداروں کے درمیان مفاہمت کی بات کرتے ہیں ، آپ کی حکمت عملی کو میاں نواز شریف اور مریم نواز کی حکمت عملی سے الگ سمجھا جاتا ہے مگر آپ کو اس پالیسی کا کیا فائدہ ہوا جب آپ کو نیب میں بھی بار بار طلب کیا جا رہا ہے اور سپریم کورٹ بھی آپ کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہی ہے ۔

ہم اخبارات اٹھا کے دیکھ لیں تونیب صرف شہباز شریف کو ہی نہیں بلا رہا، ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز اور داماد عمران علی یوسف کو بھی طلب کیا جا رہا ہے، ان کے بہت ہی قریبی اور پیارے سرکاری افسر احد چیمہ طویل عرصے سے نیب کے مہمان ہیں اور اب تو ان سے ایک مشکوک گاڑی اور ڈیڑھ کروڑ روپے کے لگ بھگ کی رقم بھی برآمد کر لی گئی ہے۔

اعلیٰ ترین سطحوں سے بار بار سوال پوچھا جا رہا ہے کہ شہباز شریف کی کارکردگی کیا رہی ہے، انہوں نے کیا ڈیلیور کیا ہے اور ایک موقعے پر انہوں نے جواب دیا کہ جس ائیرکنڈیشنڈ ہال میں آپ بیٹھے ہوئے ہیں اس کی بجلی میں نے ہی پوری کی ہے۔

میں گواہی دے سکتا ہوں کہ شہباز شریف کی کارکردگی باقی تمام وزرائے اعلیٰ کے مقابلے میں مثالی رہی ہے۔ وہ وفاقی حکومت کی بات کرتے ہیں تو درست کرتے ہیں کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بجلی کے بحران پر قابو پالیا جائے گا۔

ا س سے پہلے شہباز شریف نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ میں اپنے عہدے کی پارلیمانی مدت کے آخری دن کہا تھا کہ اکتیس مئی تک لوڈ شیڈنگ قابومیں رہی ہے اور اب اس کے بعد کیا ہوگا اس کے بارے میں ان سے پوچھا جائے جن کے پاس حکومت ہو گی جس پر یار لوگوں نے بہت گرہیں لگائیں، خدشہ درست تھا، حکومت ختم ہونے کے بعد لوڈ شیڈنگ کا جن اچانک ہی بوتل سے نکلا ہے اور بے قابو ہو گیا ہے ۔

نگران وزیراعظم کے حکومت سنبھالتے ہی جس سب سے اہم میٹنگ کی خبر آئی ہے وہ بجلی کی پیداوار اور فراہمی کے حوالے سے ہی ہے۔ بات یار لوگوں کے گرہیں لگانے کی ہے کہ کارکردگی حکومت جانے کے چار اور پانچ دنوں میں ہی بے نقاب ہو گئی ہے، کسی نے جگت لگائی کہ دونوں بھائیوں نے گیارہ ہزار میگا واٹ اضافی بجلی پیدا کی مگر جب جانے لگے تو شاپر ڈبل کروا کے ساتھ ہی لے گئے۔

بات صرف اتنی ہے کہ آپ دن رات محنت کر کے ایک گاڑی خریدتے ہیں ، اس گاڑی کی آپ کو جس وقت ڈیلیوری ملتی ہے اسی وقت آپ کا ڈرائیونگ لائسنس ایکسپائر ہوجاتا ہے، آپ مجبورہوجاتے ہیں کہ قانون کے مطابق وہ گاڑی کسی دوسرے کے حوالے کر دیں، وہ دوسرا ڈرائیور اگر چند دنوں میں ہی گاڑی کی ایسی تیسی کر دیتا ہے تو اس میں آپ کا قصور نہیں ہے یقینی طور پر گاڑی چلانے والے کو بھی اس گاڑی کی ضروریات کا خیال رکھنا ہو گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بتا رہے تھے کہ حکومت اگر بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو ادائیگیاں نہیں کرے گی تو پیداوار متاثر ہو گی۔

حکومت نے اس دور میں لواری ٹنل سمیت بہت سارے ایسے منصوبے مکمل کئے ہیں جو برس ہا برس بلکہ عشروں سے زیر تکمیل تھے، اسی حکومت نے امن و امان کو بحال کیا ہے جس کے لئے لازمی طور پر قربانیاں ہماری فورسز نے ہی دی ہیں مگر آپریشن ضرب عضب ہو یا آپریشن رد فساد، ان کو شروع کرنے کے فیصلے انتہائی اہم تھے اور ان سے بھی اہم تھا کہ کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں امن بحال کروانے کے لئے سیاسی دباو کا سامنا کیاجائے ورنہ پرویز مشرف اور آصف زرداری کے دور میں بھی یہ امن بحال ہوجاتا۔

معاشی بحالی بھی اہم ہے اوراس میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ ان کی وزارت میں ڈالر کی قیمت کنٹرول میں اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رہے۔

پاکستان کے قرضوں میں اضافے کی بات کرنے والے فراموش کر دیتے ہیں کہ کسی بھی ریاست کے قرضے اس کی جی ڈی پی یا جی این پی کے حوالے سے دیکھے جاتے ہیں یعنی اگر آپ کی جیب میں سو روپے ہیں اور آپ کا قرض پچاس روپے ہے تو یہ قرضہ زیادہ ہے اگر آپ کی جیب میں پانچ سو روپے ہیں اور قرض دوسو روپے بھی ہو تو یہ کم ہے۔

مسلم لیگ نون کی حکومت کی مثالی کارکردگی سے صرف نواز شریف کے بغض میں ہی انکار کیا جاسکتا ہے، نواز شریف اس تمام تر کارکردگی کے باوجود اقتدار سے بے دخل کئے جا چکے ہیں اور اسی کارکردگی کو صفر دکھانے کے لئے ایک کے بعد دوسرا پروپیگندہ ہو رہا ہے۔ میاں نواز شریف کا لہجہ تلخ ہو رہا ہے مگر شہباز شریف تمام تر پیشیاں بھگتنے اور تنقید برداشت کرنے کے باوجود مفاہمت کی بات کر رہے ہیں۔ ان کا ایک اور سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ وہ جب وزیراعظم بنیں گے تو اداروں کے درمیان تلخیوں کو کم کرلیں گے۔

اللہ کرے ایسا ہی ہوکہ پاکستان ان تلخیوں کی ایک مرتبہ پہلے بڑی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ حدیبیہ پیپر ملز کے ریفرنس کے مسترد ہونے کے علاوہ شہباز شریف کو اس مفاہمتی پالیسی کا کوئی دوسرا فائدہ ملا ہو۔ وہ برداشت کی اس پالیسی کے ذریعے اگر مسلم لیگ نون ہی نہیں بلکہ ریاستی اداروں سمیت پورے ملک کو اس مشکل صورتحال سے باہر نکال لینے میں کامیاب ہوجائیں گے تواسے ماننا اور سراہنا پڑے گا مگر فی الوقت اہم ترین سوال یہی ہے کہ شہباز شریف کو اپنی مفاہمت کی اس پالیسی سے کیا حاصل ہوا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ انہیں کچھ ارکان اسمبلی کا اعتماد حاصل ہوا ہو مگر وہ کارکنوں اورووٹروں کی کوئی مجبوری نہیں ہے۔اس عاجزی نے انہیں سربلند نہیں کیا لیکن اگر وہ پاکستان کا سر کٹنے سے بچا لیتے ہیں تو ہم بھی ان کی محنت کے بعد ذہانت اور فراست پر تالیاں بجا دیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -