کاروانِ علم فاؤنڈیشن

کاروانِ علم فاؤنڈیشن

  

یہ 2002ء کے موسم گرما کی ایک صبح کا واقعہ ہے ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کی نظر اخبار پڑھتے ہوئے ایک خبر پر رک گئی۔خبر کچھ یوں تھی کہ لاہور بورڈ کے میٹرک کے امتحانات میں 850میں سے810 نمبر لے کر پورے پاکستان کے تعلیمی بورڈوں میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کا ریکارڈ قائم کرنے والی طالبہ سعدیہ مغل کو لاہور کے ایک تعلیمی ادارے میں داخلے کے سلسلے میں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

اس خبر نے ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی جیسے حساس شخص کو رنجیدہ کردیا اوروہ سوچنے لگے کہ پاکستان کو قائم ہوئے نصف صدی سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن تعلیم کے فروغ، ملک کے جوہر قابل کی حوصلہ افزائی اور نشوونما کے سلسلے میں مجرمانہ غفلت برتی جارہی ہے۔

ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے درد اور افسوس کے اس گہرے احساس کے ساتھ اپنے بھائی معروف صحافی الطاف حسن قریشی سے بات کی ان کے مشورے پر طالبہ سعدیہ مغل کے خاندان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ فیس کے لئے مطلوبہ رقم کا انتظام ہوگیا ہے۔ مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ ہزاروں طلبا و طالبات میں سے پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے اعزاز میں ایک معمولی نوعیت کی تقریب تعلیمی بورڈکے دفتر میں منعقد کروائی جاتی ہے۔بعض شہروں کے تعلیمی بورڈنہ ہی کوئی تقریب منعقد کرواتے ہیں اور ناہی طلبہ کو تعریفی سند جاری کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی نہ سرکاری سطح پر کی جاتی ہے اور نہ ہی معاشرتی سطح پر کوئی ادارہ ان کی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں انعام اور اعزاز سے نوازتاہے۔

اس کے علاوہ کوئی حکومتی سطح پر ایسا انتظام بھی موجود نہیں جس کے تحت میٹرک میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے غریب گھرانوں کے طلبہ کو اعلی تعلیم کے لئے مالی اعانت فراہم کی جائے۔ اس تلخ حقیقت کے ادراک نے ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کو ایک اضطراب میں مبتلا کر دیا اور انہوں نے اپنے جریدے ماہنامہ ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ کے پلیٹ فارم سے جوہر قابل کی حوصلہ افزائی اور نشوونما کے لئے موثر اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔

گہرے غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ کے زیر اہتمام پنجاب میں آٹھ تعلیمی بورڈوں میں میٹرک کے امتحانات میں سائنس و آرٹس کے مضامین میں پہلی تین پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کے اعزاز میں تقریب پذیرائی سجائی جائے۔

نئی روایت:

جب اس تقریب کے سلسلے میں تعلیمی بورڈوں سے تین پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلبہ کے کوائف معلوم کرنے کے لئے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ بورڈ طلبہ کے کوائف دینے کے لئے تیار نہیں۔صحافتی اثر و رسوخ کے بعد طلبہ کے سکولو ں کے نام حاصل کئے گئے اور پھر صدر معلمین کی معرفت پوزیشن ہولڈرز طلبہ سے رابطہ کیا گیا تھا ۔طلبہ اور والدین کو اس بات پر اعتبار نہیں آرہا تھا کہ کوئی نجی ادارہ پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈوں میں پہلی تین پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلبہ کے اعزاز میں کل پنجاب میٹرک ایوارڈز کی تقریب لاہور میں منعقد کروا رہاہے۔

کُل پنجاب میٹرک ایوارڈکی تقریب:

ماہنامہ ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ کے زیر اہتمام 23اگست2002کو ایوان تحریک پاکستان ورکرزٹرسٹ لاہور میں کُل پاکستان میٹرک ایوارڈز کی تقریب منعقد کی گئی جس میں لاہور، گوجرانوالہ، سرگودھا، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان کے تعلیمی بورڈوں سائنس و آرٹس کے مضامین میں پہلی تین پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبا و طالبات ،ان کے والدین اور اساتذہ کو مدعو کیا گیا تھا۔اس تقریب میں شریک 90فیصد طلبہ کا تعلق متوسط غریب گھرانوں سے تھا۔تقریب میں علم و ادب، تعلیم،صحافت اور سماجی فلاح و بہبود میں اعلی مقام حاصل کرنے والی شخصیات کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا۔طلبہ کو اعلیٰ کارکردگی کے اعتراف میں ایک لوح تحسین (شیلڈ) جس کے درمیان میں مینارِ پاکستان کی تصویر کنندہ تھی،سند امتیازدی گئی اوراس کے علاوہ مفید معیاری کتب کا پیکٹ بطور انعام پیش کیا گیا۔ منتظمین تقریب کی طرف سے کم وسیلہ طلبہ اور ان کے والدین کو آمدورفت کے اخراجات بھی فراہم کردیئے گئے اللہ کے فضل سے جوہر قابل کی حوصلہ افزائی کے سلسلے میں منعقد ملکی تاریخ کی اس پہلی تقریب کا آغاز نہایت شاندار اور باوقار طریقے سے ہوا۔

اس تقریب میں مختلف علاقوں کے طلبا و طالبات کو اظہار خیال کا موقع ملا تو معلوم ہوا کہ سبھی کی کہانی نامساعد حالات، تعلیمی سہولیات کے فقدان،غربت اور علاقائی پسماندگی جیسے مسائل پر مبنی تھی،لیکن سب سے زیادہ دکھ کے احساسات سے دوچار کرنے والی کہانی لاہور بورڈ میں آرٹس گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے اختر عباس کی تھی، جس کا تعلق دیپالپور کے ایک نواحی گاؤں دھرے والہ کے نہایت غریب گھرانے سے تھا۔ اس نوجوان نے اپنا تعلیمی سفر کھیتوں میں مزدوری کرکے گزار تھا اور میٹرک کے امتحانات دینے کے بعد وہ جوہر ٹاؤن لاہور میں زیر تعمیر مکانات میں ایک مزدور کے طور پر کام کرتا رہا۔ جس دن میٹرک کا نتیجہ آیا اس کے پاس اپنا رزلٹ معلوم کرنے کے لیے دس روپے بھی نہیں تھے۔اس باہمت طالب علم نے بتایا کہ اس تقریب میں شریک ہونے کے لئے ایک ٹرالی میں مٹی بھرنے کی مزدوری کرکے لاہور تک کے کرائے کا انتظام کیا ہے۔

اس نوجوان کی داستان عزم سن کر حاضرین کی آنکھیں نمناک ہو گئیں۔ حاضرین نے ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ کی انتظامیہ کو اختر عباس جیسے مالی مشکلات کے شکارباصلاحیت طلبہ کی مالی اعانت کرنے کا مشورہ دیا اور اس کارخیر میں مالی تعاون کرنے کا وعدہ بھی کیا۔اس نیک کام کے لئے ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کی ایک بہو نے مبلغ دس ہزار روپے فراہم کر دیئے۔ چند دنوں بعد شرکاء تقریب کی طرف سے بھی عطیات موصول ہونا شروع ہو گئے۔

کل پاکستان میٹرک ایوارڈ2002 ء کی تقریب کا احوال ماہنامہ اردو ڈائجسٹ میں شائع ہوا تو قارئین نے نہایت مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔ اندرون و بیرون ملک جوہر قابل کی حوصلہ افزائی کی یہ تقریب منعقد کروانے پر ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کی انتظامیہ کو ہدیہ تبریک پیش کیا گیا اس کے علاوہ قارئین نے آئندہ سال کل پاکستان سطح پر تقریب منعقد کروانے کا مشورہ دیا تاکہ ملک بھر کے باصلاحیت طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ ماہنامہ ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ میں ’’کاروان علم فاؤنڈیشن‘‘ کے نام سے ایک شعبہ قائم کر دیا گیا،جس کے تحت ایک اشتہار بھی شائع کیا جانے لگا، جس میں مخیر حضرات سے عطیے کی درخواست کی جاتی تھی یوں شعبہ ’’کاروان علم‘‘ کے تحت میٹرک 2002ء میں اعلیٰ نمبروں سے کامیاب ہونے والے غریب گھرانوں کے طلبہ کو تعلیمی ضروریات کے لیے مالی اعانت فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ سال2003ء کے موقع پر پاکستان بھر کے 23 تعلیمی بورڈوں میں پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کے اعزاز میں قومی سطح کی تقریب منعقد کروانے کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ بیشمار مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود اللہ کے کرم سے 22تا 25 ستمبر 2003ء لاہور میں کل پاکستان میٹرک ایوارڑ 2003کی تقریب منعقد کی گئی۔ جس میں ملک بھر کے 23تعلیمی بورڈوں میں پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبہ،ان کے والدین اور اساتذہ کو مدعو کیا گیا۔اس تقریب میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سکولوں کے سربراہان کو بھی مدعو کیا گیا۔

اس چارروزہ تقریب کے شرکاء کے قیام و طعام اور آمدورفت کے انتظامات کے سلسلے میں مالی اخراجات ماہنامہ ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ کی انتظامیہ نے اپنے وسائل اور احباب کے تعاون سے برداشت کئے۔

کاروانِ علم فاؤنڈیشن کا قیام:

جوہرقابل کی حوصلہ افزائی اور قومی یکجہتی کی مظہر اس شاندار تقریب کے آخری اجلاس میں جس کی صدارت اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کر رہے تھے اپنے خطاب میں اس عظیم تحریک کے بانی ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے کم وسیلہ، مگر باصلاحیت طلبا وطالبات کی مالی اعانت، حوصلہ افزائی اور رانمائی کے لئے کاروانِ علم فاؤنڈیشن کے نام سے باقاعدہ ایک فلاحی ادارہ قائم کرنے کا اعلان کیا۔اس موقع پر پرویز الٰہی نے دو لاکھ روپے اپنی جیب سے اور دس لاکھ روپے کا عطیہ حکومت پنجاب کی طرف سے دیا۔

اس اعلان کو شرکاء مجلس نے بے حدسراہا تقریب کی روداد ماہنامہ ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ میں شائع ہوئی تو اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس عظیم منصوبے میں مالی تعاون کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

کاروانِ علم فاؤنڈیشن کا تاسیسی اجلاس 15نومبر2003ء میں منعقد ہوا۔ادارے کی پہلی مجلس عاملہ کے اراکین حسب ذیل تھے۔

یہاں ٹیبل آئے گا

خدمات:

کاروان علم فاؤنڈیشن نے اپنی خدمات کو دو حصوں میں تقسیم کیا پہلی یہ کہ ہر سال پورے پاکستان کے تعلیمی بورڈوں میں سائنس و آرٹس کے شعبہ جات میں پہلی تین پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کے اعزاز میں قومی سطح پر تقریب پذیرائی سجانے کا اہتمام کیا جائے اور دوسرا بلاتقسیم رنگ و نسل چاروں صوبوں آزاد کشمیر،فاٹا اور گلگت و بلتستان سے تعلق رکھنے والے غریب گھرانوں کے باصلاحیت طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لئے وظائف جاری کرنا ۔

پوزیشن ہولڈرز کے اعزاز میں تقریبات کا سلسلہ2008ء تک جاری رہا اس منصوبے کو حکومتِ پنجاب نے اپنا لیا تو ادارے نے مذکورہ تقریب کے انعقاد کا سلسلہ منسوخ کر دیا۔

خصوصی طلبہ کے لئے اقدامات:

کاروانِ علم فاؤنڈیشن یتیم اور خصوصی طلبہ کو ترجیہی بنیادوں پر وظائف جاری کرتی ہے۔ اس ادارے نے ملکی تاریخ میں ایک اور اہم کام یہ کیا ہے کہ جن نابینا طلبہ نے وظیفے پر تعلیم حاصل کی تھی ان میں سے تین نوجوانوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی۔ صوبہ پنجاب میں موجود تعلیمی اداروں میں تعلیمی اخراجات معاف کروانے کی کوشش شروع کردی ہے۔ کاروانِ علم فاؤنڈیشن نے حکومت پنجاب کو پیشکش کی ہے کہ اگر حکومت خصوصی طلبہ کے اخراجات معاف کردے تو انہیں ماہوار خرچ طعام اور دیگر ضروریات کے لئے وظیفہ کاروانِ علم فاؤنڈیشن فراہم کردے گی۔ان کوششوں کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ حکومت پنجاب نے 07نومبر 2013کو نوٹیفیکیشن نمبر S.O.(A-ll)1-83/2012کے ذریعے صوبہ پنجاب میں تمام تعلیمی اداروں میں خصوصی طلبہ کو حسب ذیل سہولیات دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

*۔۔۔ پنجاب کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں داخلے کے لیے عمرمیں پانچ سال رعایت۔

*۔۔۔ تمام تعلیمی اخراجات بشمول ہاسٹل فیس اور یوٹیلیٹی بل کا خاتمہ۔

*۔۔۔ پنجاب کے اعلیٰ تعلیم کے ہر ادارے/ یونیورسٹی میں ایم فل/پی ایچ ڈی ے کورس میں معذور افراد کے لئے کم از کم ایک نشست کی لازمی تخصیص۔

*۔۔۔ تمام سرکاری عمارتوں میں معذور افراد کے لیے بیت الخلا اور راستوں کی حالیہ اور مستقبل میں فراہمی۔

*۔۔۔ پنجاب کی ہر پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں داخلے پر ہر معذور طالب علم کو لیپ ٹاپ اور ڈگری مکمل کرنے پر پہیوں والی برقی کرسی کی فراہمی۔

اس کے علاوہ گورنر پنجاب نے بھی صوبے میں موجود جامعات میں خصوصی طلبہ کے تمام تعلیمی اخراجات معاف کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے۔

کاروانِ علم فاؤنڈیشن کی کاوشوں سے حکومت خیبر پختونخوا نے بھی مورخہ23جون2014ء کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں خصوصی طلبہ کو حسب ذیل مراعات دینے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

*۔۔۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے داخلہ لینے کی مقررہ عمر میں دس سال کی رعایت۔

*۔۔۔ تعلیمی اداروں میں ٹیوشن فیس،کرایہ ہاسٹل اور دیگر اخراجات مکمل معاف ۔

*۔۔۔ خصوصی طلبہ کو تعلیمی اداروں کی حدود میں نقل و حرکت کے لئے سواری کی فراہمی۔

*۔۔۔ پنجاب کے اعلیٰ تعلیم کے ہر ادارے/ یونیورسٹی میں ایم فل/پی ایچ ڈی ے کورس میں معذور افراد کے لئے کم از کم ایک نشست کی لازمی تخصیص۔

*۔۔۔ تمام سرکاری عمارتوں میں معذور افراد کے لئے بیت الخلا اور راستوں کی حالیہ اور مستقبل میں فراہمی۔

باصلاحیت اور پر عزم طلبہ کی دست گیری :

کاروانِ علم فاؤنڈیشن سے مالی اعانت حاصل کرنے والے طلبہ جذبہ حصول علم سے لبریز ہیں انہوں نے نامساعد حالات، تعلیمی سہولیات کے فقدان او رعلاقائی پسماندگی کو اپنی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔کاروانِ علم فاؤنڈیشن سے وظیفہ لینے والے ہر طالب علم کی کہانی میں ایک امید اور ہمت کا پیغام موجود ہے۔

اس ادارے سے روز اول سے وابستہ نوجوان صحافی خالد ارشاد نے بعض طلبہ کی کہانیوں کو اردو ڈائجسٹ میں لکھا اور اب وہ’’جوہر قابل‘‘ کے نام سے کتابی شکل میں بھی شائع ہوچکی ہے۔

حصول عطیات کا نظریہ:

کاروانِ علم فاؤنڈیشن اس نظریے پر کاربند ہے کہ پاکستانی نوجوانواں کو اعلی تعلیم سے ہمکنار کرنے کے لئے پوری دنیا میں موجود پاکستانیوں کو مالی تعاون کرنا چاہئے لہٰذا کاروان علم فاؤنڈیشن نے کبھی حکومتی امدار یا کسی غیر ملکی این جی او (NGO)سے کوئی فنڈ لینے کی درخواست نہیں کی۔

وظائف:

کاروانِ علم فاؤنڈیشن گذشتہ بارہ سال سے طلبہ کو وظائف جاری کررہی ہے اور اب اس کا دائرہ کار پورے پاکستان تک پھیل چکاہے۔ اس ادارے کی انتظامیہ کا دعوی ہے کہ پاکستان کی کوئی یونیورسٹی،کالج،میڈیکل کالج،انجینئرنگ یونیورسٹی یا کالج ایسا نہیں جہاں اس ادارے کے تعاون سے طلبہ تعلیم حاصل نہ کررہے ہوں۔

کاروانِ علم فاؤنڈیشن نے وظائف جاری کرنے کے حوالے سے بہت سے قابلِ ستائش اقدامات اٹھائیں ہیں۔ اس ادارے کے دروازے ضرورت مند طلبہ کے لئے سارا سال کھلے رہتے ہیں۔طلبہ کو تعلیم کے دوران جس مرحلے پر بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے وہ کاروانِ علم فاؤنڈیشن سے رابطہ کرتا ہے۔ کاروانِ علم فاؤنڈیشن نے وظائف جاری کرنے کا سلسلہ اتنا باوقار بنارکھا ہے کہ ہر مرحلے پر طالب علم کی عزتِ نفس کا خیال رکھا جاتا ہے ہر طالب علم کی درخواست کا انفرادی جائزہ لیا جاتا ہے اور ہر طالب علم کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وظائف جاری کئے جاتے ہیں۔

کاروانِ علم فاؤنڈیشن درخواست گزار طلبہ کو سالانہ فیس،سمیسٹر فیس،کرایہ ہاسٹل،ماہوار خرچ طعام،کتب،کرایہ آمدورفت وغیرہ کی مدات میں وظائف جاری کرتی ہے۔کاروانِ علم فاؤنڈیشن زیر کفالت طلبہ کی بیوہ ماؤں اور ضعیف والدین کو گھریلو اخراجات کے لئے بھی وظائف جاری کرتی ہے تاکہ باصلاحیت طلبہ مکمل اطمینان اور یکسوئی سے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

زکوٰۃ و عطیات سے زندگی سازی کا منصوبہ:

کاروانِ علم فاؤنڈیشن نے عطیات خصوصاً زکوٰۃ کی رقم سے زندگی سازی کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ کاروانِ علم فاؤنڈیشن غریب طبقہ کے لوگوں کو روزمرہ ضروریات کے لئے زکوۃ اور عطیات کی رقم فراہم کرنے کی بجائے اس رقم سے ان کے بچوں کو علم و ہنر سے آراستہ کرکے خاندان کا سہارا بنانے کے نظریے پر کاربندہے۔

وظائف کی تفصیلات:

کاروانِ علم فاؤنڈیشن کا کمال یہ ہے کہ وہ غریب گھرانوں کے باصلاحیت طلبہ کو منزل سے ہمکنار کر رہی ہے یہ ادارہ اب تک5786 طلبہ کو 139,683,8855- روپے کے وظائف جاری کر چکا ہے،جس میں 986یتیم طلبہ اور 355 خصوصی طلبہ(نابینا،پولیوزدہ اور حادثات کی وجہ سے معذور) شامل ہیں۔ مالی اعانت حاصل کرنے والوں میں ایم بی بی ایس (ڈاکٹر)کے1377،بی ڈی ایس (ڈاکٹر آف ڈینٹل سرجری) کے52، فزیو تھراپی(ڈاکٹر آف فزیوتھراپسٹ) کے49، ڈی وی ایم (ڈاکٹر آف ویٹرنری سائنسز) کے 123، ڈی فارمیسی (ڈاکٹر آف فارمیسی) کے 108 ، ایم ایس سی کے144،ایم اے کے 140،ایم کام کے41، ایم بی اے کے58،ایم پی اے کے 05،ایم فل کے20، بی ایس سی انجینئرنگ کے 1443، بی کام آنرز کے161، بی ایس آنرز کے 777، بی بی اے کے 64،اے سی سی اے کے 19،سی اے کے 04،بی ایس ایڈ ،بی ایڈ کے 42، ایل ایل بی کے15،بی اے آنرز کے48، بی اے کے74، بی ٹیک کے 25، ڈپلومہ ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کے165، ایف ایس سی کے529، ایف اے کے95،آئی کام کے56،ڈی کام کے 05،آئی سی ایس کے17میٹرک اور انڈر میٹرک کے 131 طلباو طالبات کو کروڑوں روپے کے وظائف جاری کئے گئے۔

اس وقت کاروانِ علم فاؤنڈیشن کے 503 زیر کفالت طلبہ کے علاوہ تقریباً 250مزید طلبہ کی درخواستیں زیر غور ہیں،جنہیں مالی سال 2019-2018ء کے دوران وظائف جاری کرنے کے لئے تقریباً چار کروڑ روپے درکار ہیں۔ کاروان علم فاؤنڈیشن کو زکوۃ و عطیات ملک کے کسی بھی حصے سے میزان بنک کے اکاؤنٹ نمبر 0240-0100882859 میں جمع کروا ئے جا سکتے ہیں۔چیک67کشمیر بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہورکے پتے پر ارسال کئے جاسکتے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لئے موبائل نمبر 0321-8461122پر رابطہ کیا جاسکتاہے۔ مزید معلومات کے لیے ویب سائٹ www.kif.comملاحظہ کیجئے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -