اردو سائنس بورڈ کے زیراہتمام ’’ سائنسی فکرکے فروغ میں اردوادیبوں کاحصہ ‘‘کے موضوع پرمذاکرہ

اردو سائنس بورڈ کے زیراہتمام ’’ سائنسی فکرکے فروغ میں اردوادیبوں کاحصہ ...

  

امجداسلام امجد، ڈاکٹرتبسم کاشمیری، مسعوداشعر، عارفہ سیدہ زہرا، اصغرندیم سید، ڈاکٹرنجیب جمال اورڈاکٹرناصرعباس نیر کااظہارخیال

ذوالفقارعلی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معاشرے میں سائنسی سوچ، فکر اوررویے تحقیق اورترقی کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سائنسی تعلیم کوعام کرنے کے لیے معاشرے میں سوچ اورسائنسی فکر کے لیے سازگارفضا پیداکرناضروری ہے۔سائنس اورترقی کا کام محض جذباتی نعروں سے ممکن نہیں۔ہمارے ہاں سائنس کی تعلیم پر ضرورت کے مطابق توجہ کاہمیشہ سے فقدان رہاہے۔اردوسائنس بورڈ اپنے مقاصد کے تحت سائنسی علوم کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کرتارہتاہے۔ اس سلسلے میں سیمینارز،کانفرنس، لیکچرزاورمذاکروں کااہتمام کیاجاتاہے۔ ان تقریبات میں طلبہ وطالبات، اساتذہ اورمختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افرادشرکت کرتے ہیں ۔اسی سلسلے میں اردو سائنس بورڈ کے زیراہتمام ’’سائنسی فکرکے فروغ میں اردوادیبوں کاحصہ‘‘کے موضوع پرمذاکرہ منعقدہوا۔مذاکرہ کے انعقادکامقصد ان محرکات کاجائزہ لیناتھا، جن کی وجہ سے ماضی میں ہمارے ہاں سائنسی سوچ کیوں پیدانہ ہوسکی اورآئندہ اس مشن کو کیسے ممکن بنایاجاسکتاہے۔ مذاکرہ میں ممتازاہل قلم امجد اسلام امجد، ڈاکٹر تبسم کاشمیری، مسعوداشعر، عارفہ سیدہ زہرا، ڈاکٹرنجیب جمال اورڈاکٹر ناصرعباس نیر نے مدلل اورفکرانگیزگفتگوکی۔

اس موقع پر ڈائریکٹرجنرل ڈاکٹر ناصرعباس نیّر نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ سائنس حسیاتی شعور کو استعمال میں لاکریہ سمجھنے کی ایک کوشش ہے کہ فطرت کیاہے اورکیسے عمل کرتی ہے۔ ہم فطرت کے مطالعہ سے حاصل ہونے والے علم سے انسانوں کی زندگی کو بہتر کیسے بناسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بورڈپاکستانی تناظرمیں ماہانہ لیکچرزاورمذاکروں کے ذریعے سائنسی اوردانش ورانہ فکراورسوچ کو ترقی پسندانہ اندازمیں فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔ہماری کوشش ہے کہ سائنس کے فروغ کے لیے ان نازک اورحساس موضوعات پر بھی گفتگوکریں ، جوعام طور پر زیربحث نہیں لائے جاتے۔ معروف شاعراورکالم نگارامجداسلام امجد نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ ادب میں سائنس فکشن زیادہ مقبول ہے لیکن ہمارے ہاں اردومیں اس پر بہت کم کام ہواہے۔انہوں نے کہا کہ سائنس اورٹیکنالوجی کے میدان میں جن قوموں نے ترقی کی ہے اورایجادات اوردریافتیں کی ہیں ، ان کے نام موجد قوموں کاحق ہے۔ ہمیں حق حاصل نہیں ہے کہ ہم ان کوایجادات اوردریافتوں کواپنے نام دینے کی کوشش کریں۔امجد اسلام امجد نے کہاکہ شاعروں اورادیبوں نے ہمیشہ اپنے کلام کے ذریعے سائنسی شعورپیداکرنے کی کوشش کی ہے۔ مسعوداشعر نے کہاکہ ہماراادب تنزل کاشکارہے ۔دنیاکی مختلف زبانوں سے اردومیں کتب کے تراجم کم ہورہے ہیں۔ہمارے ادیب بلاخوف نہیں لکھ پارہے۔ہمیں اپنی ادبی تنزلی کے بارے میں غوروفکرکرناچاہیے تاکہ ہم آئندہ نسلوں کی درست سمت میں آبیاری کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مسلّمات پر بھی سوالات کے ذریعے گفتگوکرنی چاہیے۔

ڈاکٹرتبسم کاشمیری نے کہا کہ ہمارے ہاں سائنسی فکروسوچ ناپیدہے۔ تجسس اورابہام کو سوالات کے ذریعے ہی ختم کیاجاسکتاہے۔کلاس میں طلباکو سوال نہیں کرنے دیاجاتا ، جس کی وجہ سے سائنسی فکر پیدانہیں ہوسکتی۔ڈاکٹرعارفہ سیّدہ زہرانے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ علم کی بنیاد فکر ہے اورفکرکی بنیادسائنس ہی ہے۔ انہوں نے افسوس کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ہم اردوزبان کے حوالے سے صرف جذباتی ہیں، عملی طورپر اس کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ اصغر ندیم سیّدنے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ فطری اورسماجی

علوم کوالگ نہیں کرسکتے ۔ ہم نے سائنس کو بنیادی طورپر ٹھیک طرح سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ہم دورحاضر میں سائنس اورٹیکنالوجی کے میدان میں دنیاکی باقی اقوام کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں۔ معاشرے میں سائنسی فکراورسوچ پیداکرنے کے لیے آج کے ادیب کو جدیدعلوم کے بارے میں پڑھنااورسمجھناہوگا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں بین العلومی نقطہ نگاہ اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ڈاکٹر نجیب جمال نے مغرب میں سائنسی فکرکے ارتقااورخصوصاًبرصغیر اورپاکستانی تناظرمیں سائنسی فکرکے فروغ کے لیے ادیبوں اورشاعروں اورادیبوں کے کرداراورتاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہا کہ شاعروں جیسے غالب نے اپنی شاعری کے ذریعے معاشرے میں سائنسی سوچ اورافکارکے لیے ہمیشہ کوشش کی۔ مذاکرہ میں ڈاکٹرہارون عثمانی، صہیب مرغوب،ڈاکٹرغافرشہزاد، اقبال نبی ندیم،ڈاکٹراشفاق ورک، پروفیسر ناصربشیر، ڈاکٹرشاہدہ دلاورشاہ، شاہ زیب خان، اورنگ زیب نیازی، افضال حیدر، محمودالحسن، آغرندیم سحر، ڈاکٹرعنبرین صلاح الدین، سجادبلوچ، نصراللہ، ہارون اکرم گل، شائستہ شریف، رفعت رفیق، قمرعلوی ، جنیدرضا اوردیگر نے شرکت کی۔مذاکرے کی نظامت کے فرائض حافظ جنیدرضانے انجام دیے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -