’’ماہ رمضان المبارک‘‘ حقوق العباد پورا کرنے اورپیار باٹنے کا نام روزہ ہے

’’ماہ رمضان المبارک‘‘ حقوق العباد پورا کرنے اورپیار باٹنے کا نام روزہ ہے

  

گلوکارہ شاہدہ منی اور ان کے شوہر جاوید اقبال کی باتیں

میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس گلوکارہ شاہدہ منی اور ان کے شوہر جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ ہماری شادی کو طویل عرصہ ہوچکا ہے اس دوران شاید ہی رمضان المبارک کی کوئی سحری ہو جو ہم نے اکٹھے نہ کی ہو۔کچھ بھی ہو سحری اکٹھے کرتے ہیں ہم دونوں کا یہ ماننا ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ پیار اور اعتماد کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے اگر یہ نہ ہوتو اس رشتہ میں مضبوطی نہیں ہوتی۔ گزشتہ دنوں سحری کے موقع پر شاہدہ منی اور جاوید اقبال کے ساتھ ایک نشست ہوئی اس موقع پر ’’پاکستان‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے شاہدہ منی اور جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ اگر انسان کو من چاہا جیون ساتھی مل جائے تو اس سے بڑی خوش نصیبی نہیں ہوسکتی۔دو پل کی زندگی کا کچھ پتا نہیں ہے کہ کس پل میں ختم ہو جائے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں اور آخری سانس کا انتظار کرتے رہیں۔ہمیں دنیا میں ایک مقررہ مدت کے لئے بھیجا جاتاہے اور یہاں پر ہر انسان اپنی خداداد صلاحیتوں کے مطابق افعال سرانجام دیتا ہے جس سے نہ صرف اس کابلکہ دوسروں کا بھی بھلا ہوتاہے۔ہمیں جتنا بھی وقت زندگی کا ملتاہے اس کو ہم تنہا بسر نہیں کر سکتے ہیں اس لئے ہمیں فطری ضرورت کے تقاضوں اورتنہائی دور کرنے کے لئے کسی نہ کسی فرد کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔جو ہمارے دکھ دردکو سمجھے،خوشیوں میں شامل ہو، ہمیں مختلف مسائل سے نجات دلوانے میں مدد دے اورایک دوست کی مانند ہمارا ساتھ زندگی کے آخری پل تک دے وہی ہماراجیون ساتھی کہلاتاہے۔یعنی زندگی بھر ساتھ نبھانے والا جیون ساتھی کہلاتاہے۔ اس کے علاوہ جس کے ساتھ ہم زندگی بھر کے عہد کرکے اسے اپنی زندگی میں شادی کے بعد شامل کرتے ہیں وہ بھی ہمارا جیون ساتھی کہلاتاہے۔شادی ایک ایسا بندھن ہے جس میں تاحیات ساتھ زیادہ تر رہتا ہے اور بعض وجوہات کی بناء پر یہ تعلق جلد ٹوٹ بھی جاتاہے جس کی ذمہ داری دونوں طرف عائد ہوتی ہے۔ہم کسی ایک کو اس سلسلے میں مجرم قرار نہیں دے سکتے ہیں۔رمضان المبارک کے حوالے سے شاہدہ منی کا کہنا تھا کہ دنیا کے تمام مسلم ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ماہ رمضان کوبھرپورمذہبی عقیدت اورجذبے کے ساتھ گزارا جاتاہے اوریہ سماں دیدنی ہوتاہے۔ زندگی کے تمام شعبوں کے لوگ ماہ رمضان میں سحری اورافطاری کی خوبصورت تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں جبکہ پاکستان فنون لطیفہ کے تمام شعبوں سے وابستہ فنکاراورتکنیک کار بھی مذہبی احترام کے ساتھ شوبز سرگرمیوں کو محدود کرتے ہوئے روزے رکھتے اورافطاریوں کا اہتمام کرتے ہیں۔جاوید اقبال نے کہا کہ اسلام کے پانچ فرض ارکان میں سے روزہ ایک ہے۔ اس لئے ماہ رمضان کی آمد سے قبل ہی تیاریوں کا سلسلہ جاری ہوجاتاہے۔ روایتی عقیدت کے ساتھ سحر اورافطارکی محفلیں سجتی ہیں اورہم سب مل کرروزہ رکھتے اورافطارکرتے ہیں۔ پانچ وقت کی نمازکے علاوہ رمضان کے حوالے سے ہونے والی شوبزسرگرمیوں میں بھی شرکت ہوتی ہے۔ ماہ رمضان کا بابرکت مہینہ اللہ پاک کی جانب سے امت مسلمہ پرفرض کیا گیاہے۔ ماہ رمضان کے مبارک مہینہ کی یہ برکتیں ہی توہیں کہ دنیابھرمیں ہر جگہ سے ’اللہ ہواکبر‘ کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ ماہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ عبادت اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ اُمت مسلمہ روایتی مذہبی عقیدت واحترام کے ساتھ ماہ صیام میں بارگاہ الہٰی میں سجدہ ریز ہوکرجہاں اپنے گناہ بخشوانے کیلئے عبادتیں کرنے میں مصروف ہے، وہیں ملک وقوم کی بہتری اورمسائل کے خاتمے کیلئے بھی خصوصی دعائیں کی جارہی ہیں۔ کہیں پر مستحق افراد کی سحری کااہتمام کیا جاتاہے توکہیں پرافطاری سجائی جاتی ہے۔ کہیں پرقرآن پاک کی تلاوت کی آواز سنائی دے رہی ہے توکہیں سے حمد اورنعت رسول مقبول سنائی دے رہی ہے۔ واقعی یہ ماہ رمضان کی برکتوں کا ہی نتیجہ ہے کہ سحر اورافطار کے وقت جگہ جگہ وسیع دسترخوان سجائے جاتے ہیں۔دین اسلام محبت، امن اور بھائی چارے کا جوپیغام دیتا ہے اس کی خوبصورت مثال ہمیں ماہ رمضان میں نظرآتی ہے۔ ویسے توروزہ ہرمسلمان پرفرض ہے اوراس کی اہمیت اورافادیت سے بھی لوگ واقف ہیں۔ لیکن اس ماہ کی برکتوں کی وجہ سے معصوم بچے کم عمری میں ہی روزہ رکھنے کی خواہش کااظہارکرنے لگتے ہیں۔جبکہ ماہ رمضان میں علماء کرام جس طرح سے ماہ رمضان کی اہمیت اورمقصدکوبیان کرتے ہیں، سن کردلی سکون ملتا ہے اورپوری امت مسلمہ اپنے پروردگارکا شکربھی ادا کرتی ہے ۔ مساجد میں پانچ وقت کی نماز، تراویح اورمحافل کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں لوگوں کی کثیرتعداد شرکت کرتی ہے۔ اوراللہ پاک تحفے کے طورپراپنی نعمتیں نازل فرماتے ہیں۔شاہدہ منی نے کہا کہ ہمیں ماہ رمضان کی اہمیت کوسمجھناچاہئے اوردوسروں کوبھی اس بارے بتاناچاہئے میں ماہ رمضان کے دوران شوبز سرگرمیاں ترک کرکے اپنا زیادہ وقت عبادت میں گذارتی ہوں۔ جاوید اقبال نے کہا کہ ہمیں اس مبارک مہینہ میں اپنے ان بہن بھائیوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے جوایک وقت کے کھانے کوترستے ہیں۔ روزہ رکھنے کافرض صرف خالی پیٹ رہ کرعبادت کرنے سے ہی پورا نہیں ہوتابلکہ اس کیلئے ہم پربہت سی دیگرذمہ داریاں آن پڑتی ہیں جن کوپوراکرنابے حد ضروری ہے۔شاہدہ منی نے کہا کہ ہمارے مذہب اسلام میں روزہ فرض قراردیاگیاہے۔ سحر اورافطار کے وقت جس طرح سے امت مسلمہ اپنے دین کی عکاسی کرتی ہے اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ تمام عمر کے لوگ ایک ساتھ بیٹھ کرروزہ افطارکرتے ہیں اورایک دوسرے کے مسائل کوبھی جان پاتے ہیں۔ ہمیں ویسے توہمیشہ ہی حقوق العباد کا خیال رکھنا چاہئے لیکن ماہ رمضان میں تواس پرخاص توجہ دینی چاہئے۔ اگرہم لوگ اپنے گھروں میں دسترخوان سجاکر اپنی فیملی کے ساتھ سحر اورافطارپراللہ کی نعمتوں کامزہ اٹھاتے ہیں توہم پریہ فرض ہے کہ ہم اپنے پڑوسیوں کا یا اپنے اردگرد رہنے والے ایسے مستحق افراد کابھی خاص خیال رکھیں جومالی مشکلات کاشکارہیں۔ اس ماہ مقدس میں اللہ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ صدقہ اور خیرات کرنی چاہیے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -