کاغذات نامزدگی کے ساتھ بیان حلفی جمع کرانے کا حکم ، فارم برقرار رہے گا ، باقی معلومات حلف نامے میں دیناہونگی ، سپریم کورٹ

کاغذات نامزدگی کے ساتھ بیان حلفی جمع کرانے کا حکم ، فارم برقرار رہے گا ، باقی ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ نے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو کاغذات نامزدگی کے ساتھ بیان حلفی بھی جمع کرانے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کے کاغذات نامزدگی سے متعلق فیصلے پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز کی درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹ میں وفاق نے 7 ماہ تک معاملے کو التوا دیا، عدالت عظمیٰ اس حوالے سے 2011 میں فیصلہ دے چکی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگ عوام کو امیدواروں کی معلومات دینے میں شرمندہ کیوں ہیں؟ اسپیکر کیوں شرما رہے ہیں کہ عوام کو اپنے نمائندوں کی معلومات نہ ہوں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ایاز صادق کوئی معلومات چھپانا چاہتے ہیں؟ اس پر ان کے وکیل نے بتایا کہ ایاز صادق کچھ چھپانا نہیں چاہتے، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کچھ چھپانا نہیں تو جھگڑا کس بات کا ہے؟جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم ہائیکورٹ کے فیصلے کو اپنی وجوہات کیساتھ برقرار بھی رکھ سکتے ہیں، دیکھناچاہتے ہیں کہ اسپیکراسمبلی کون سی معلومات دینے میں شرما رہے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عدالتی حکم کو چیلنج کرنے کا اسپیکر کا کیا استحقاق ہے؟ آرٹیکل 218 کے تحت انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، کاغذات نامزدگی کا معاملہ بھی آرٹیکل 218 میں آتا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کے اختیارات کو کیوں کم کر رہے ہیں؟ ہم ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہیں۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ امیدواران بیان حلفی کے ساتھ اضافی معلومات کمیشن کو فراہم کریں جب کہ ساتھ ہی انہوں نے الیکشن کمیشن کو بھی بیان حلفی کا متن ایک گھنٹے میں تیار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کاغذات نامزدگی الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت فارم بنایا گیا تھا، پاکستان کے عوام کو انتخابات لڑنے والے کے بارے میں جانے کا حق ہے اور الیکشن کمیشن کو اختیار حاصل ہے وہ مناسب معلومات طلب کرسکتا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جو کاغذات نامزدگی موجودہ ہے اس کے ساتھ ہم یہ کہہ دیتے ہیں کہ امیدوار کو کاغذات جمع کرانے کے بعد تین دن کے اندر ایک بیان حلفی پر وہ معلومات جو الیکشن کمیشن ضروری لینا چاہتا ہے اسے دینا ہوں گی۔چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ تمام معلومات مکمل انصاف کے لیے مانگ رہے ہیں، بیان حلفی ریٹرننگ افسران کے سامنے ہوگا، یہ بیان حلفی ایسا ہوگا جیسے سپریم کورٹ کے سامنے دیا جارہا ہے، اگر اس میں کوئی بھی غلط اطلاع دی گئی تو براہ راست سپریم کورٹ ایسی شخصیت کیخلاف اقدام کرسکے گی، عدالت 184 کے تحت اختیار استعمال کرسکتی ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ نئے فارم کی ضرورت نہیں، کمیش بیان حلفی بناکر لائے گا اور اسے عدالتی حکم کا حصہ بنائیں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کی حتمی تاریخ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘ہمیں ملک کیلئے صاف ستھرے لوگ چاہئیں‘ارکان پارلیمنٹ کو بچوں کے اور اپنے غیر ملکی اثاثے اور اکاؤنٹس بتانے میں کیا مسئلہ ہے، آخر معلومات دینے میں شرم کیوں آرہی ہے‘ ووٹر کو معلوم ہونا چاہیے کہ لیڈر کس قسم کے لوگ ہیں‘ آپ اثاثے اور تعلیم چھپا کر کہتے ہیں آئینی نکتہ ہے‘ کاغذات نامزدگی کیساتھ باقی معلومات کا بیان حلفی بھی دیں‘ قانون بنانے والوں نے چالاکیاں کر کے قوم کو مصیبت میں ڈالا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جن لوگوں نے قوم کو مصیبت میں ڈالا وہ کمرہ عدالت میں موجود ہیں؟ امیدواران جو معلومات رہتی ہیں وہ بیان حلفی کے ساتھ الیکشن کمیشن کو دیں۔ وکیل ایاز صادق نے بتایا کہ کاغذات نامزدگی میں ایسی معلومات پوچھی گئیں جو لازمی نہیں تھیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ امیدوار ریٹرننگ افسران کو تمام معلومات فراہم کریں پاکستان کے لوگوں کو اپنے امیدواروں کی ساکھ کا پتہ ہو۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ پولنگ کی تاریخ 25جولائی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ہوسکتا ہے اسکروٹنی کا وقت بڑھانا پڑے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کس طرح لڑنا ہے یہ بھی طے کریں گے الیکشن کنٹریکٹ پر بڑا بینچ بنائیں گے بیان حلفی میں جھوٹ پر توہین عدالت کی کارروائی بھی ہوگی۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کی الیکشن کمیشن بیان حلفی کا متن دے امیدوار تین روز میں بیان حلفی الیکشن کمیشن کو فراہم کرے گا۔بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے کاغذات نامزدگی کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا تیارہ کردہ حلف نامہ منظور کر لیا ۔ اور حکم دیا ہے کہ تمام امیدواران قومی / صوبائی اسمبلی اور مخصوص نشستوں کے لئے موجودہ نامزدگی فارم کے ساتھ حلف نامہ بھی شامل کریں گے حلف نامہ چار صفحات پر مشتمل ہے امیدوار سے زیر کفالت افراد ، مقدمات کی تفصیلات ، آمدن ، غیر ملکی دوروں ، ملکیتی زمینوں کی تفصیلات منسلک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق تمام جماعتوں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی نے 2013کے انتخابی کاغذات سے متفقہ طور پر 19ڈیکلریشنز ختم کر دئے تھے جنہیں لاہر ہائیکورٹ نے بحال کرنے کا حکم دیا تھااب یہ ڈیکلیریشنز کاغزات نامزدگی میں تو بحال تو نہیں ہوئے تاہم ان ڈیکلیریشنز بیان حلفی میں جمع کرانا ہونگے۔ بدھ کی شام جاری بیان کے مطابق الیکشن کمیشن نے تمام ریٹرننگ افسران کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت تمام امیدواران اس بات کے پابند ہوں گے 11جون 2018 تک اپنے متعلقہ ریٹرننگ افسران کے پاس حلف نامہ جمع کرائیں گے بصورت دیگر ان کے کاغذات نامزدگی مسترد تصور ہوں گے ۔متوقع امیدواران کی سہولت کے لئے یہ حلف نامہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر بھی ڈال دیا گیا ہے ۔ کوئی بھی الیکشن کمیشن کے آفیشیل ویب سائٹ www.ecp.gov.pk سے یہ حلف نامہ ڈان لوڈ کر سکتا ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -