اصغر خان کیس ، کس کا ٹرائل فوج ، کن کا سول اداروں میں ہونا ہے یہ تعین عدالت کریے گی ، چیف جسٹس

اصغر خان کیس ، کس کا ٹرائل فوج ، کن کا سول اداروں میں ہونا ہے یہ تعین عدالت ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران تمام افراد کو بروزہفتہ 9 جون تک تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی،عدالت نے نواز شریف آئندہ سماعت پر اپنے وکیل کے ذریعے پیش ہونے کا حکم دیدیا جبکہ مخدوم جاوید ہاشمی نے پیسے لینے کا الزام مسترد کر تے ہوئے کہا میں نے پیسے نہیں لئے، عدالت نے سید خورشید شاہ کو جاری کردہ نوٹس واپس لے لیا،چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ سویلین افراد کو ایف آئی اے کے سامنے پیش ہونا ہوگا، جبکہ اس بات کا تعین عد ا لت کرے گی کہ کن کا ٹرائل فوج میں ہونا ہے اور کن کا سویلین اداروں میں،نواز شریف اسلام آباد میں ہیں تو وہ ایک گھنٹے میں عدالت میں پیش ہوں، یہ عدالت کا حکم ہے ہر کسی کو آنا پڑیگا، آئندہ سماعت 12 جون کو لاہور میں ہو گی ۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سر بر ا ہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے گزشتہ روزاصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی، دوران سماعت متعدد سیاسی رہنماؤں کے وکلاء اور سینئر سیا ستد ا ن جاوید ہاشمی عدالت میں پیش ہو ئے ۔سماعت کے آغاز پر جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا نواز شریف کہاں ہیں؟انہیں نو ٹس دیا تھا وہ کیو ں نہیں آئے؟ ٹی وی چینلز پر ٹکرز بھی چلے جبکہ آج اخبارات کی لیڈ سٹوری بھی یہی ہے۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمار کس دیئے اگر نواز شریف اسلام آباد میں ہیں تو وہ ایک گھنٹے میں عدالت پیش ہوں، یہ عدالت کا حکم ہے ہر کسی کو آنا پڑیگا۔اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا نواز شریف اسوقت احتسا ب عدالت میں ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں۔جس پر چیف جسٹس نے کہا نواز شریف کے وکیل ہیں، تو ان کو بھجو ا دیں۔وقفے کے بعد سماعت کے دوبارہ آغاز پر اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا نواز شریف احتساب عدالت میں پیشی کے با عث سپریم کورٹ نہیں آسکے، تاہم وہ اپنے وکیل کا بندوبست کر رہے ہیں،جس پر عدالت عظمیٰ نے کہا نواز شریف آئندہ سما عت پر اپنے و کیل کے ذریعے پیش ہوں۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی یہاں موجود ہیں ، ان سے پوچھتے ہیں انہوں نے پیسے لیے تھے؟'جس پر جاوید ہاشمی نے جواب دیا انہوں نے پیسے نہیں لیے، میں نے 5 سال نیب کی عدا لت میں کیس بھگت کر اس الزام کو کلیئر کیا،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے بہت اچھی بات ہے،کرپشن کیخلاف کیسز میں آپ جیسے سیاستد ا نو ں کو لیڈ کرنا چاہیے۔دریں اثناء اصغرخان کیس میں سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ سپریم کورٹ میں پیش ہوگئے،چیف جسٹس پاکستا ن نے مرزا اسلم بیگ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلے گا،سابق آرمی چیف کا مقدمہ فوجی عدالت بھیج دیا ہے ، اس پر مرزا اسلم بیگ نے کہا اس وقت کے آرمی چیف نے میرا مقدمہ چلانے سے انکار کیا،میری درخوا ست ہے میرا مقدمہ آپ سنیں ، چیف جسٹس پاکستان نے کہا آپ درخواست دیں،ہم جائزہ لیں گے،ہمارا مقصد کسی کی تضحیک نہیں ،ہم اصغرخان کیس کی آئندہ سما عت لاہورمیں کریں گے،آپ وہاں پیش ہوں۔ حکومت نے آرمی افسران کا معاملہ آرمی کو ہی سونپ دیا ہے، وہ بھی اس معاملے کو اپنے قانون کے مطابق دیکھیں جبکہ اس کیس میں سویلینز کا معاملہ ایف آئی اے دیکھ رہی ہے۔سماعت کے دوران ایڈووکیٹ اعتزاز احسن نے عدالت عظمیٰ کو بتایا پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ کے نام بھی نوٹس جاری ہوا، مگر ان کا اس کیس میں نام نہیں ہے،جس پر عدالت عظمیٰ نے یہ کہہ کر خورشید شاہ کو جا ری نوٹس واپس لے لیا کہ یہ نوٹس غلطی سے جاری ہوا۔بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت منگل 12 جو ن تک کیلئے ملتوی کردی۔واضح رہے مذکورہ کیس کی 2 جون کو ہونیوالی سماعت میں سپریم کورٹ نے 1990 کی انتخابی مہم کے دوران پیسے وصول کرنیوالے سابق وزیراعظم نواز شریف، سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی اور عابدہ حسین سمیت21 سویلین کو نوٹس جاری کیے تھے جبکہ عدا لت عظمیٰ کی جانب سے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی سمیت کیس سے متعلقہ آرمی افسران، ڈی جی نیب اور ڈی جی ایف آئی اے کو بھی نوٹس جاری کیے گئے تھے۔

اصغر خان کیس

مزید :

صفحہ اول -