مولانا سمیع الحق کی جماعت ایک بار پھر ایم ایم اے کا حصہ بننے کیلئے تیار

مولانا سمیع الحق کی جماعت ایک بار پھر ایم ایم اے کا حصہ بننے کیلئے تیار
مولانا سمیع الحق کی جماعت ایک بار پھر ایم ایم اے کا حصہ بننے کیلئے تیار

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

 جمعیت علمائے اسلام (س) کے بارے میں شنید یہ ہے کہ متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) میں واپسی کے لئے پرتول رہی ہے، اس کے سینئر رہنماؤں کا ایم ایم اے کے قائدین سے رابطہ ہے اور دونوں جانب یہ خواہش موجود ہے کہ سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک آ ملیں، جب ایم ایم اے کی بحالی کے مذاکرات حتمی اقدام کی طرف بڑھ رہے تھے تو جے یو آئی (س) کے رہنما ان اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے جو بحالی کا فارمولا طے کر رہے تھے، یہ مذاکرات خاصا طول کھینچ گئے غالباً دو سال بعد اصولی فیصلہ ہو گیا کہ ایم ایم اے کو بحال کیا جائے گا تاہم اس پر عمل درآمد ہوتے ہوتے بھی کافی وقت لگ گیا۔ اس دوران تحریک انصاف اور جے یو آئی (س) کے روابط بڑھنے لگے۔ صوبہ کے پی کے بجٹ میں مولانا سمیع الحق کے مدارس کو خطیر رقم دی گئی جس کا مقصد یہ بتایا گیا کہ حکومت مدارس کو قومی دھارے میں لانا چاہتی ہے، دونوں کام نیک تھے۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا تعلق نوشہرہ سے ہے اور مولانا سمیع الحق کے مدارس اکوڑہ خٹک میں ہیں جو ضلع نوشہرہ میں ہے۔ اس لحاظ سے دونوں میں قربتیں بھی بڑھیں چنانچہ جے یو آئی (س) کے رہنماؤں نے ایم ایم اے کے بحالی اجلاسوں میں اپنی شرکت کم کر دی اور پھر اچانک یہ اعلان ہوا کہ جے یو آئی ایم ایم اے میں شامل نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی اتحاد بنائے گی۔ لوگوں نے اسے اس خطیر گرانٹ کا لازمی نتیجہ سمجھا جو کے پی کے حکومت کی طرف سے مولانا سمیع الحق کے مدارس کو دی گئی، یہ قربتیں بڑھ رہی تھیں کہ مارچ 2018ء میں سینیٹ کے انتخابات آ گئے، مولانا سمیع الحق کو تحریک انصاف نے اپنا امیدوار ڈیکلیئر کر دیا لیکن جب نتیجہ برآمد ہوا تو مولانا سمیع الحق ہار گئے۔ اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نے انہیں ووٹ نہیں دیا۔ مولانا کا سارا انحصار تو انہی ارکان پر تھا۔ مولانا سمیع الحق اس بات پر تحریک انصاف کی قیادت سے ناراض ہو گئے حالانکہ اس میں ان کا زیادہ قصور بھی نہیں تھا کیونکہ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نے تو ووٹ فروخت کر دیئے تھے، بعد میں پارٹی نے ایسے ارکان کے خلاف ایکشن بھی لیا اور انہیں پارٹی سے نکال دیا۔ تحریک انصاف کے ارکان اگر پارٹی کے نامزد امیدوار مولانا سمیع الحق کو ووٹ دیتے تو وہ سینیٹر منتخب ہو سکتے تھے لیکن انہوں نے اپنا مالی مفاد پیش نظر رکھا اور یوں مولانا سمیع الحق بری طرح ہار گئے، انہی دنوں وہ دل کے عارضے کے باعث ہسپتال میں زیر علاج تھے تو مولانا فضل الرحمن گلدستہ لے کر ان کی عیادت کو پہنچے، ایم ایم اے کے دوسرے رہنما بھی بزرگ، دینی و سیاسی رہنما کی عیادت کو گئے۔ بیماری کی حالت میں مولانا کے ساتھ لمبی چوڑی سیاسی گفتگو تو نہیں ہو سکی تاہم عیادت کے لئے جانے کا اقدام ایک مثبت پیغام تھا۔ دوسری جانب مولانا سمیع الحق اپنی سینیٹ کی شکست سے نالاں تھے کیونکہ پارٹی نے انہیں اپنا امیدوار تو بنوایا لیکن ووٹ نہ ڈلوا سکی، ان حالات میں مولانا سمیع الحق اور تحریک انصاف کے درمیان فاصلے بڑھنا شروع ہو گئے تو ایم ایم اے کی قیادت نے اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے انہیں دوبارہ ایم ایم اے میں شمولیت کی دعوت دے ڈالی۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف کی قربت کے زمانے میں مولانا سمیع الحق نے ایم ایم اے کے قائدین پر تنقید بھی کی تھی جسے ایم ایم اے نے نظرانداز کرکے مولانا سمیع الحق کو دوبارہ اتحاد میں شامل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں اور مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے حامد الحق کی قیادت میں جے یو آئی کا وفد کئی بار ایم ایم اے کی قیادت سے رابطہ کر چکا ہے۔ ان دنوں جے یو آئی کو دی جانے والی نشستوں کی تفصیلات طے کی جا رہی ہیں تاہم اس بات پر اصولی اتفاق ہے کہ جے یو آئی (س) ایم ایم اے کا باقاعدہ حصہ بن جائے گی۔

دوسری جانب ملی مسلم لیگ کو بھی ایم ایم اے میں شامل کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں غالباً انتظار یہ کیا جا رہا ہے کہ ملی مسلم لیگ کی الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹریشن ہو جائے جو ابھی تک نہیں ہو سکی۔ الیکشن کمیشن نے ملی مسلم لیگ کی قیادت کو وزارت داخلہ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے لیکن ملی مسلم لیگ نے وزارت داخلہ میں جانے کی بجائے عدالتوں سے رجوع کر لیا ہے جہاں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن تمام جماعتوں کی رجسٹریشن تو اپنے قواعد و ضوابط کے مطابق کرتا ہے جبکہ ہمیں وزارت داخلہ کے پاس بھیج رہا ہے جو غیر قانونی ہے۔ جونہی اس نقطے پر قانونی پوزیشن واضح ہو گئی اور ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن ہو گئی تو یہ امکان بھی ہے کہ اسے ایم ایم اے میں شریک کر لیا جائے گا۔

مولانا سمیع الحق

مزید :

تجزیہ -