غیر جانبداری کیساتھ کام کرنانگران حکومتوں کیلئے چیلنج

غیر جانبداری کیساتھ کام کرنانگران حکومتوں کیلئے چیلنج

  

تجزیہ :مبشر میر

نگران حکومتوں کا غیر جانبداری کے ساتھ کام کرنا ایک بڑا چیلنج ہے ۔وفاق میں تشکیل پانے والی کابینہ کو قدرے بہتر تصور کیا جارہا ہے جبکہ نگران وزیراعظم پر بھی کسی جماعت یا پارٹی نے اعتراض نہیں کیا ۔پنجاب اور بلوچستان میں نگران وزیراعلیٰ کے تقرر کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کو دے دی گئی ہے اس لیے امید کی جاتی ہے کہ وہ بہتر شخص کو نگران وزیراعلیٰ بنائیں گے ۔کے پی کے کے نگران وزیراعلیٰ پر اعتماد کا اظہار بھی نیک شگون ہے ۔سندھ کے نگران وزیراعلیٰ اگرچہ سابق بیورکریٹ ہیں لیکن باخبر ذرائع کے مطابق وہ اپنی ٹیم خود بنانا چاہتے ہیں اگرچہ زیر گردش ناموں میں اکثریت کو پاکستان پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل ہے اور کئی ایک ناموں پر سوشل میڈیا میں اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں جس میں آرٹس کونسل کراچی کے صدر احمد شاہ کا نام بھی شامل ہے ۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نگران وزیراعلیٰ سندھ پر پیپلزپارٹی کی جانب سے کچھ افراد کو کابینہ میں شامل کرنے کا سخت دباؤ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ نگران وزیراعلیٰ ابھی تک اپنی ٹیم کے اراکین کو حتمی شکل نہیں دے سکے ۔غیر جانبداری کے حوالے سے گزشتہ دور حکومت میں کوئی اچھی مثالیں قائم نہیں ہوئیں صدر مملکت اگرچہ سابق حکمران جماعت کے راہنما ہیں لیکن وہ باوجوہ خود کو متحرک اور فعال صدر مملکت کی حیثیت سے منوانے میں ناکام رہے انہوں نے ہر صورت پارٹی کے فیصلوں کو ملحوظ خاطر رکھا ۔چاروں صوبائی گورنرز سیاسی وابستگی رکھتے ہیں ۔غیر جانبداری برقرار رکھنا ان کے لیے بھی ممکن نہیں تھا جبکہ وہ اپنی پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں اور اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں ۔موجودہ نگران دور حکومت میں ان کی سیاسی وابستگی کی وجہ سے کسی جماعت نے تاحال ان کی تبدیلی کا مطالبہ نہیں کیا اگر ایسا ہوا تو ان کی تبدیلی بھی ناگزیر ہوجائے گی ۔قومی اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکرز اور چیئرمین سینیٹ کے لیے بھی ضروری ہوتا ہے کہ وہ ان عہدوں پر ذمہ داری نبھانے کے لیے غیر جانبداری کا اعلیٰ مظاہرہ کریں لیکن کسی ایوان میں ایسی مثال قائم نہیں ہوسکی بلکہ اسمبلیوں کے اسپیکرز اور ڈپٹی اسپیکرز اپنی اپنی سیاسی پارٹی کی ترجمانی عوامی اجتماعات اور ٹی وی ٹاک شوز میں کرتے نظر آتے تھے یوں سیاستدانوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے قانون اور ضابطہ اخلاق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پانچ سال گذارے اور اب وہ بھی غیر جانبدار نگران حکومتوں کا مطالبہ کررہے ہیں ۔

مزید :

تجزیہ -