پاکستان کو سندھ طاس معاہدے پر جارحانہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی: چیئرمین واپڈا

پاکستان کو سندھ طاس معاہدے پر جارحانہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی: چیئرمین واپڈا

  

اسلام آباد(آن لائن)چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنر ل (ر) مزمل حسین نے کہا ہے پاکستان کو سندھ طاس معاہدے پر جارحانہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی ، انڈس واٹر کمیشن کمزور ادارہ ہے اس کو مضبوط کیا جائے حکومت سندھ طاس معاہدے کو خارجہ پالیسی کا حصہ بنائے، پاکستان کو پانی کی قلت کا سامنا ہے اگرسیاسی جماعتیں اتفاق رائے پیدا کریں تو کالا باغ ڈیم بن سکتا ہے۔ سینیٹ کی قا ئمہ کمیٹی آبی وسائل کے اجلاس میں پانی کی دستیابی اور ذخائر کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل قریشی نے کہاکہ ملک میں پانی چوری سب سے بڑا معاملہ ہے جبکہ پانی چوری کو روکنے کا واحدحل پانی کی قیمت کا تعین ہے ،ماضی میں گیس کی قیمت کا تعین نہ کرنے کے باعث ذخائر کم ہوئے اور اب قطر سے ایل این جی درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔چیئرمین واپڈا نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش30 دن جبکہ بھارت 170 دن تک پانی ذخیرہ کرسکتا ہے۔ملک میں شوگر ملیں اور ٹیوب ویلز کے باعث زیر زمین پانی کم ہور ہا ہے دیامر بھاشا ڈیم پر گیارہ ارب ڈالر کی لاگت آئے گی اس منصوبے کیلئے واپڈا80 ارب روپے ادا کرچکا ہے جبکہ ڈیم کی تعمیر10برس میں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نیلم جہلم منصوبہ اور گولن گول منصوبہ مکمل کیا جا چکا ہے۔ اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ارسا کاکہنا تھاکہ بلوچستان کے حصے کا پانی راستے سے چوری کر لیا جاتا ہے جبکہ ارسا کی جانب سے صوبے کو پورا پانی جاری کیا جا تا ہے راستے میں چوری روکنے کیلئے اقداما ت اٹھائے جائیں۔

مزید :

صفحہ آخر -