لیگی حکومت ختم ہوتے ہی بجلی کو اپنے ساتھ لے گئی‘ شاہ محمود قریشی

لیگی حکومت ختم ہوتے ہی بجلی کو اپنے ساتھ لے گئی‘ شاہ محمود قریشی

  

ملتان(نیوز رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ظلم کی تاریک رات ختم ہو چکی ہے ۔ نئی طلوع صبح کا انتظار ہے ۔ن لیگ نے2018ء کو لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا سال قرار دیا تھا۔ لیکن ن لیگی حکومت ختم ہو تے ہی بجلی کو اپنے ساتھ لے گئی ۔ن لیگ کا(بقیہ نمبر61صفحہ12پر )

لوڈشیڈنگ کے خاتمے وعدہ جھوٹا نکلا۔ ن لیگ کی حکومت صحت ‘ تعلیم ‘ گڈگورننس ‘ بلدیات‘ پولیس ‘ الغرض ہر شعبے میں ناکام رہی ۔ عوام نے 25جولائی کو بلے پر مہر لگائی اور تحریک انصاف کو اقتدار دیا تو انشاء اللہ ایک نئے عزم ‘ ولولہ ‘ شعور اور نئے ایجنڈے کے ساتھ طلوع صبح کا آغاز کرینگے۔ ن لیگ کے 10سالہ دور حکومت میں عوام کو مایوسی کے علاوہ کچھ نہ ملا۔ عوام کی امیدوں کا واحد مرکز عمران خان اور تحریک انصاف ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سابق ڈپٹی میئرو ن لیگ کے سابق ٹکٹ ہولڈر ملک اختر بھٹہ کی اپنے ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سابق رکن قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر ‘ سابق رکن صوبائی اسمبلی جاوید اختر انصاری‘ اعجاز جنجوعہ ‘ ملک ظہور بھٹہ ‘ ندیم قریشی ‘ اسلم سعید قریشی‘ مخدوم شعیب اکمل ہاشمی ودیگر شخصیات کے ہمراہ تھیں۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا پاکستان کی عوام عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس لئے ن لیگ اور پی پی کو مسترد کرکے عمران خان کو اقتدار میں لائینگے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں ۔ قوم 2018ء کے الیکشن میں نا اہل اور ناکام حکمرانوں کو مسترد کریں۔ ایک سوال کے جواب میں مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ریحام خان کی کتاب شعبدہ بازی کے سوا کچھ نہیں ۔پی ٹی آئی کے مخالفین سیاسی سٹینٹ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جلد اس کی اصلیت سامنے آجائیگی ۔ایک اور سوال کے جواب میں مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نامزدگی فارم پر قوم کو تحفظات ہیں کیونکہ یہ ہر کسی کو حق ہے کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں سے ان کی تفصیلات معلوم کرسکیں۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا پورا خطہ اور بلخصوص پاکستان پانی کی شدید کمی کا شکار ہے۔ اسی پانی کی بدولت پاکستان اور بھارت اور پاکستان میں صوبوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف اقتدار میں آئی اور ہمارے ایجنڈے میں شامل ہے کہ ہم اس پانی کے مسئلے پر واٹر پالیسی دینگے۔ تاکہ ملک کو بنجر ہونے سے بچایا جاسکے۔ ایک اور سوال کے جواب میں مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ن لیگ کی مقامی قیادت کا این اے 156 میں مریم نواز کو الیکشن کی دعوت دینا ن لیگ کی مقامی قیادت کی شکست ہے۔ن لیگ کی مقامی قیادت کے پاس کوئی ایسا امیدوار نہیں ہے جو میرا مقابلہ کرسکے۔ اس سے ن لیگ کی قیادت کی بھوکھلاہٹ اور شکست واضح نظر آرہی ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا پی ٹی آئی کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس جاری ہے اور انشاء اللہ جلد ہی ٹکٹوں کا اعلان کردیا جائیگا۔ میں نے گزشتہ روز ملتان کے قومی حلقہ این اے156اور دو صوبائی حلقوں پی پی 216 اور پی پی 217 کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کروادیئے ہیں۔ میں ملتان سے ایک قومی اور ایک صوبائی حلقے سے الیکشن لڑنے کا خواہش مند ہوں ۔ تاہم پارٹی قیادت جو بھی فیصلہ کریگی میں اس کے مطابق الیکشن لڑونگا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ رائے حسن نواز کے معاملے پر جہانگیر ترین سے کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ جہانگیر ترین کا میں احترام کرتاہوں۔ رائے حسن نواز اور ان کے والد سے بھی میرے درینہ مراثم ہیں میں نے صرف الیکشن کمیشن کی رولنگ پر اعتراض اٹھایا تھا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ملک اختر بھٹہ اور ان کے ساتھیوں کی تحریک انصاف میں شمولیت پر خوش آمدید کہا اور کہا بھٹہ برادری کی سرکردہ شخصیات کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے تحریک انصاف کو تقویت ملے گی۔ سابق ڈپٹی میئر ملک اختر بھٹہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم نے ختم نبوت اور نواز شریف کے ملک دشمنی بیانیہ پر ن لیگ سے علیحدگی اختیار کرکے تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم ملتان کو تحریک انصاف کا گڑھ بنائینگے۔ اس موقع پر بھٹہ برادری کی سینکڑوں شخصیات نے مخدوم شاہ محمود قریشی کی موجودگی میں تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -