ہنگو جے یو آئی تحصیل عاملہ کی مفتی سید جنان کو انتخابی ٹکٹ دینے کی مخالفت

ہنگو جے یو آئی تحصیل عاملہ کی مفتی سید جنان کو انتخابی ٹکٹ دینے کی مخالفت

  

ہنگو(بیورورپورٹ)جے یو آئی تحصیل عاملہ نے سابق ایم پی اے مفتی سید جنان کو انتخابی ٹکٹ دینے کی بھر پور مخالفت کر دی، مفتی سید جنان ایم پی اے کی حیثیت سے کارکنان اور حلقہ کے عوام کو مکمل نظر انداز کرتا رہا ۔ جمعیت علماء اسلام کسی کی ذاتی میراث نہیں بلکہ جمہوری پارٹی ہے۔سابقہ امیدوار سے پارٹی کارکنان اور عہدیداران بھی نالاں ہے۔کارکنان مفتی سید جنان کے خلاف کھل کھلا بغاوت کر رہے ہیں اور ان کے خلاف الیکشن لڑنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ صوبائی قیادت حلقہ پی کے84 سے ارسال کردہ سفارشات کے مطابق فیصلہ کرکے کارکنان کی بے چینی کا خاتمہ کریں۔ ان خیالات کا اظہار تحصیل ٹل حلقہ پی کے 84کے امیر قاری مطیع اللہ، جنر سیکرٹری زمان نور بنگش، میاں تجمل حسین و دیگر نے ہنگو پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ممبر عبد العزیز، مولانا حمید شاہ، مولانا شریف گل حقانی،تحصیل عاملہ جات،8یونین کونسل کے عاملہ جات اور متعدد ڈسٹرکٹ اینڈ تحصیل ممبران بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں سابق ایم پی اے مفتی سید جنان کی غیر تسلی بخش کارکردگی سے متعلق پارٹی کے اندرمعاملہ طے کرنے کی کوشش کی گئی تا ہم معاملات حل نہ ہوسکے اور مفتی سید جنان مسلسل پارٹی عہدیداران،کارکنان اور عوام کو نظر انداز کرتے رہے۔قاری مطیع اللہ، زمان نور ،میاں تجمل حسین و دیگر نے کہا کہ جتنے بھی امیدواروں نے حلقہ پی کے84سے پارٹی ٹکٹ کے لئے کاغذات جمع کئے ہیں ان میں سے صرف مفتی سید جنان پرعہدیداران اور کارکنان کااعتراض ہے اورمفتی سید جنان کو انتخابی ٹکٹ دینے کی صورت میں کارکنان اور مقامی تنظیم نے جے یو آئی کے امیدواروں میں کسی ایک امیدوار کوآزاد حیثیت سے انتخابی میدان میں سامنے لاکر کامیاب کرائیں گے اور پھر کامیاب امیدوار کو جمعیت علماء اسلام کے اکابرین کی جولی میں ڈال دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن جیتنے کے لئے کارکنان اور عوام کی طاقت اور اعتماد لازمی ہے جو کہ مفتی سید جنان کھو چکے ہیں۔علماء کرام اور مشران نے صوبائی قیادت کو اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حلقہ پی کے84کے سفارشات کے مطابق فیصلہ کرتے ہوئے کارکنان کی بے چینی دور کی جائے اورکوئی بھی فیصلہ مسلط کرنے کی صورت میں احتجاج کا حق بھی حاصل ہوگا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -