پروفیسر صاحب اور پنجاب

پروفیسر صاحب اور پنجاب
پروفیسر صاحب اور پنجاب

  

آخر کار پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کا تقرر بھی ہو ہی گیا۔پروفیسر حسن عسکری رضوی دھیمے مزاج کے پولیٹیکل سائینٹسٹ ہیں،قرعہ ان کے نام کا نکل آیاہے۔ وہ حالات حاضرہ اور سیاسی معاملات پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں۔معروف تجزیہ نگار ہیں ۔انہیں تحریک انصاف نے نامزد کیا تھا۔ پنجاب میں لیڈر آف دی ہاوس اور لیڈر آف اپوزیشن کے بعد حکومتی اور اپوزیشن کی بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی بھی ان سمیت دوسرے ناموں پر متفق نہ ہو سکیں جس کے بعد الیکشن کمیشن نے آئین کے تحت اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ان کے نام کا متفقہ طور پر اعلان کر دیا۔

حسن عسکری رضوی دو ماہ سے بھی کم عرصہ کےلئے پنجاب کی نگرانی کریں گے۔عملی طور پر تو الیکشن کمیشن نے صاف اور شفاف الیکشن کےلئے اپنا اہم کردار ادا کرنا ہے اس سلسلے میں ضروری ہے کہ پنجاب میں فوری طور پر انتظامی معاملات چلانے کےلئے وزرا اور بیوروکریسی کا ایک غیر جانبدار یا ایسا سیٹ اپ تعینات کیا جائے جو اپنے کام میں طاق اور ماہر ہو۔اس وقت بیوروکریسی بھی سیاست کی زد میں ہے۔

دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے مگر ہم آج تک اپنے آپ سے ہی باہر نہیں نکلے،ہمارا قومی مفاد آج بھی ہمارا ذاتی مفاد ہی ہے یا اب ہماری پسندیدہ سیاسی جماعتوں کا مفاد اور مطالبہ ہی ہمارا مفاد ہے۔ہم تو شائد غیر جانبداری کی اصطلاح ہی بھو ل چکے ہیں۔سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کا ہونا ایک نعمت غیر مترکبہ سے کم نہیں مگر اس نعمت کو بھی ہم نے زحمت بنا دیا۔ کارکن اور راہنما تو سیاسی جماعتوں کے اپنے ہوا کرتے ہیں اور یہی ان سیاسی جماعتوں کی شان بھی ہے مگر اب تو نظام یہاں تک گر گیا ہے کہ سرکاری افسر ، دانشور اور صحافی بھی اپنے اپنے ہیں۔جو ہمارے یا انکے نہیں تھے ہم نے انہیں بھی بانٹ دیا ہے۔افسوس صد افسوس۔۔

ناصر محمود کھوسہ جیسے اپ رائٹ ،قابل اور غیر جانبدار افسر کو بھی ہم نے متنازعہ بنا نے کی کوشش کی ۔اچھا ہوا انہوں نے خود ہی اس سسٹم کا حصہ بننے سے معذرت کر لی۔فواد حسن فواد بھی اس نظام کا ایک اہم اور قابل ترین افسر ہے مگر اس کا قصور کیا ہے ؟ اس کا قصور یہ ہے کہ وہ اس دور میں افسر بنا جب شریف سیاست عروج پر تھی جس سے اسے بھی نتھی کر دیا گیا ہے۔میرے خیال میں اسے بھی نوکری چھوڑ کر کوئی اور کام کر لینا چاہئے۔ مگر ہر کوئی سول سروس کے شائیننگ سٹار ملک ربنواز جیسا نہیں ہوتا ،نہ ہی اتنی ہمت اور حوصلہ کر پاتا ہے۔اس نے اپنی افسری کے جوبن پر سول سروس چھوڑ دی۔ کیوں چھوڑی ؟ یہ ایک ملین ڈالر سوال ہے جس پر کسی اور کو نہیں سول سروس کے تربیتی اداروں کو تحقیق کرنی چاہئے۔سیاست اور حکومت دو الگ چیزیں تھیں مگر اب سیاست حکومت اور حکومت سیاست کے بغیر کچھ نہیں۔اس ملک میں سلیمان غنی جیسے وژنری اور تیمور عظمت عثمان جیسے محنتی اور ملنسار افسر بھی تھے۔سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب اور انکے ایڈیشنل سیکرٹری اختر نذیر وڑائچ جیسے اپ رائٹ اور غیر جانبدار اب بھی موجود ہیں۔سلیمان غنی اور تیمور عظمت عثمان کو نگران سیٹ میں کیوں نہیں لایا گیا۔ ان دونوں کی صلاحیتوں اور محنت سے مرکز میں بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا اور اب پنجاب میں بھی ۔افسوس ہوا کہ تحریک انصاف نے ناصر کھوسہ کا نام خود ہی دے کر واپس لے لیا جس کی وجہ سے پنجاب میں (ن) لیگ کو ایک ہفتہ مزید حکومت ملی رہی ۔ بہرحال دیکھتے ہیں اب پنجاب میں انتظامی سیٹ اپ کیا بنایا جاتا ہے۔اس وقت بھی ایسے افسران کی کمی نہیں جو میرٹ اور غیر جانبداری پر یقین رکھتے ہیں۔ایسے افسران سے فی ا لحال معذرت کر لینی چاہئے جو سابق حکمرانوں کی ناک کا بال بنے ہوئے تھے۔مگر اچھے اور محنتی ایسے افسران ابھی بھی پنجاب میں بہت ہیں جو کھڈے لائن لگے ہوئے تھے انہیں اچھی پوسٹوں پر لگایا جائے تو اچھے نتائج مل سکتے ہیں۔

۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -