نگران وزیراعلیٰ دوست محمد خان سے گاڑی واپس لینے کا حکم ، اب پتہ چلا کہ فل کورٹ ریفرنس کیوں نہ لیا: چیف جسٹس

نگران وزیراعلیٰ دوست محمد خان سے گاڑی واپس لینے کا حکم ، اب پتہ چلا کہ فل کورٹ ...
نگران وزیراعلیٰ دوست محمد خان سے گاڑی واپس لینے کا حکم ، اب پتہ چلا کہ فل کورٹ ریفرنس کیوں نہ لیا: چیف جسٹس

  

پشاور (ویب ڈیسک)چیف جسٹس پاکستان نے نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا دوست محمد خان سے سپریم کورٹ کی گاڑی واپس لینے کا حکم دیدیا۔

مقامی اخبارات کے مطابق بدھ کی دوپہرچیف جسٹس ثاقب نثار کیسز کی سماعت کیلئے پشاور رجسٹری پہنچے اور عدالتی گاڑیوں کے  استعمال سے متعلق کیس کی سماعت  کے دوران  چیف جسٹس ثاقب نثار نے نگران وزیراعلیٰ خیبر پی کے  اور سپریم کورٹ کے سابق جسٹس دوست محمد سے گاڑی واپس لینے کا حکم دیدیا۔انہوں نے ہدایت کی کہ جسٹس (ر)دوست محمد سے عدالتی گاڑی واپس لیکرانہیں صوبائی حکومت کی گاڑی دی جائے کیونکہ اب وہ جج نہیں رہے ، سیاسی سیٹ پر کام کررہے ہیں،اب پتہ چلا کیوں فل کورٹ ریفرنس نہیں لے رہے تھے۔عدالت نے صوبے کے تمام غیر متعلقہ افراد سے گاڑیاں واپس لینے کے احکامات جاری کر دیئے۔ چیف جسٹس نے غیر متعلقہ افراد سے گاڑیاں واپس لینے کے احکامات جاری کر دیئے۔

دوسری طرف صنعتی فضلے ٹھکانے لگانے سے متعلق کیس کی سماعت  کے دوران   چیف جسٹس نے کہا صنعتوں کا تمام فضلہ دریاؤں میں جارہا ہے۔ صنعتی فضلے سے نہروں اور دریاؤں کو غلیظ کر دیا گیا ہے‘ اب تک کیا بہتری آئی ہے؟ چیف سیکرٹری نے کہا کہ اس سال صرف 5ارب روپے فضلے کو تلف کرنے کیلئے رکھے گئے ہیں۔ ماسٹر پلان بنایا ہے۔ 23ارب روپے فضلہ تلف کرنے پر لاگت آئے گی۔ وزیراعلیٰ نے خود تسلیم کیا کہ ہاں ہم نے اس سے متعلق کچھ نہیں کیا۔ حکومت‘ خصوصاً ایگزیکٹو اس کے ذمہ دار ہیں۔

ایوب میڈیکل کمپلیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران   چیف جسٹس نے خیبر پی کے کے تمام ایم ٹی آئی ہسپتالوں کے بورڈ آف گورنرز کی تحلیل کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نئی حکومت آنے تک موجودہ پی او جیز کام کرسکتے ہیں۔ نئی حکومت کے قیام کے بعد نئے بورڈ آف گورنرز بنائے جائیں۔ چیف سیکرٹری سمری لے کر جائیں اور بورڈ ختم کریں۔ چیف سیکرٹری نے یقین دہانی کرائی کہ نئے بورڈز کیلئے سمری چلی جائے گی۔ عدالت میں ڈاکٹروں اور انتظامیہ نے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے شرم آتی ہے جب انتظامیہ کے اس رویے کودیکھتا ہوں۔ موجودہ بورڈ مزید تین ہفتے تک فعال رہ سکتے ہیں، اس کے بعد تحلیل ہو جائیں گے۔ چیف جسٹس نے ایوب میڈیکل کمپلیکس کے سی او سے کہا کہ آپ کے آپریشن تھیٹر جانے کے قابل نہیں۔ سی او ایوب میڈیکل کمپلیکس نے کہا کہ انچارج بنا توحالت دیکھ کر 3دن ڈپریشن میں رہا‘ ایڈمنسٹریٹر کو ہٹا دیا۔ ہسپتال کی حالت 6ماہ میں بہتر ہو جائے گی‘ ہمیں کچھ وقت دیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے دو تین چیف سیکرٹری آجائیں تو ملک کے مسائل حل ہو جائیں۔ چیف سیکرٹری اور سیکرٹری ہیلتھ کام کے بندے ہیں، مسائل کو حل کرنے کیلئے مزید کام کریں۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -خیبرپختون خواہ -پشاور -